ڈیوٹی و ٹیکس مراعات کے ایس آر اوز میں ترامیم کا مطالبہ

کرپشن کے خاتمے کیلیے ایس آراو1125،565اور575میں فوری ترامیم کی جائیں، اکانومی فورم


Business Reporter May 02, 2014
کرپشن کے خاتمے کیلیے ایس آراو1125،565اور575میں فوری ترامیم کی جائیں، اکانومی فورم۔فوٹو:فائل

وفاقی وزارت خزانہ ایس آراوزکے اصلاحات پروگرام میں ان جاری کردہ ایس آراوز میں بنیادی نوعیت کی ترامیم لائے جن کے ذریعے مینوفیکچررز اور مختلف شعبوں کی صنعتیں ڈیوٹی وٹیکسوں میں مراعات حاصل کررہی ہیں۔

یہ تجویز پاکستان اکانومی فورم نے وزارت خزانہ پیش کی ہے۔ فورم کی جانب سے ایف بی آرکوتجویزپیش کی گئی ہے کہ وہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی انسداد کے لیے فی الفور ایس آراونمبر 1125،565 اور575میں ترامیم متعارف کرائے۔ تجاویزمیں کہاگیا ہے کہ وہ ایس آراوزجن کے ذریعے مینوفیکچررز یا انڈسٹری کوٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے اس میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے اوراب ایف بی آرکو بھی چاہیے کہ وہ میوفیکچررز یا انڈسٹری کی رجسٹریشن کے لیے ایک شفاف طریقہ کاروضح کرے تاکہ غیرقانونی سرگرمیوںاور بے قاعدگیوںکو روکاجاسکے۔

فورم نے یہ بھی کہا ہے کہ مینوفیکچررزاورانڈسٹری کو فائدہ پہچانے سے قبل پہلے اس امر کی تصدیق کرلینی چاہیے کہ وہ انڈسٹریاں جن کو ٹیکس میں چھوٹ دی جارہی ہے ان کے پاس اشیا کی تیاری کی کتنی گنجائش موجودہے کیونکہ اس وقت ملک میں ترغیبی ایس آراوز کی آڑ میں دستاویز پر رجسٹرڈ مینوفیکچررزاور انڈسٹریز کی ایک بڑی تعداد ناجائز فائدہ اٹھارہی ہے۔

پاکستان اکانومی فورم کے مطابق ایس آراوزمیں خامیوں کی وجہ سے اصل تاجرکے مساوی ایک اورٹریڈشروع ہوگئی ہے جس میں کوئی چیک اینڈبیلنس نہیں ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو مشکلات کا سامناہے اوروہ بھی اسی غلط کام کی طرف راغب ہونے پر مجبورہیںکیونکہ درست کام کرنے والے تاجرکوغلط طریقے سے ٹیکس کا فائدہ اٹھانے والوں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، اسی لیے پاکستان اکانومی فورم نے ایف بی آرکومشورہ دیاہے کہ وہ ایس آراوزکی خامیوں کو دورکرے تاکہ بدعنوانیوںکے دروازوںکوبندکیاجاسکے۔