طویل لوڈشیڈنگ ماربل صنعت سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی شروع

کام کی رفتار 60سے 70 فیصد تک گھٹ جانے کی وجہ سے ماربل پروڈکٹس کی برآمدات میں کمی آگئی


Business Reporter May 02, 2014
مالی سال 2010-11 کے دوران تقریباً3 کروڑ60 لاکھ ڈالر کا ماربل پاکستان سے برآمد ہوا تھا۔فوٹو:فائل

امن و امان کے مسائل اور بجلی کی طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے پاکستان کی ماربل انڈسٹری کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔ فیکٹری مالکان نے صورتحال سے مایوس ہوکر سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کا شروع کردیا ہے اور ہر گزرتے دن اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔

آل پاکستان ماربل مائننگ پروسیسنگ ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثنا اﷲ خان کے مطابق شہر میں ایک بار پھر امن و امان کے بگڑتے ہوئے مسائل ، بجلی کے شدیدبحران اوربھتہ پرچیوں کی بہتات نے ایک بار پھر سے پاکستان کی ماربل انڈسٹری کو متاثر کردیا ہے،کام کی رفتار 60سے 70 فیصد تک گھٹ جانے کی وجہ سے ماربل پروڈکٹس کی برآمدات میں کمی آگئی ہے، آرڈرز پورے نہ ہونے سے کئی ماربل فیکٹری مالکان مالی بحران کا شکار ہوگئے۔ بجلی کے بحران اور سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے ماربل کی برآمدات میں بھی کمی کا سامنا ہے ایکسپورٹرز کے مطابق بیرون ممالک پاکستانی ماربل کی وسیع ڈیمانڈ ہے لیکن بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ بندش کے سبب پیداوار جاری رکھنا دشوار تر ہوگیا ہے۔

آرڈرز کی بروقت تکمیل نہ ہونے سے بھاری مالیت کے آرڈرز موجود ہونے کے باوجود پیداواری عمل میں تعطل برآمد کنندگان کیلیے مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ مالی سال 2010-11 کے دوران تقریباً3 کروڑ60 لاکھ ڈالر کا ماربل پاکستان سے برآمد ہوا تھا جبکہ 2011-12 میں ماربل کا برآمدی ہدف 8 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ، لیکن یہ ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا اور نہ ہی 2013-14 کا برآمدی ہدف حاصل ہوسکا ہے، 8گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈ شیڈ نگ کے باعث ایک شفٹ بند کردی ہے جبکہ امن وامان کی بدترین صورتحال اور بھتہ پر چیوں نے بھی ماربل کے کاروبار کو تباہ کردیا ہے۔