مذاکرات… اب کیا ہوگا

ان دنوں ہمارے حکمرانوں کے خواجگان بہت مشہور ہیں۔ دونوں خواجگان اگرچہ تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ ہمارے بھتیجے ہیں


Abdul Qadir Hassan May 02, 2014
[email protected]

وقت تھا کہ ہر صبح کالم کے لیے کوئی موضوع تلاش کرنا پڑتا تھا بحمد للہ خیر و عافیت کا زمانہ تھا۔ قومی زندگی معمول پر تھی۔ گرد و پیش میں کوئی انہونی بات نہیں ہوتی تھی کہ کالم کا موضوع بنتی۔ کمال یہ سمجھا جاتا تھا کہ بات سے بات پیدا کی جائے اور اسے کالم کا موضوع بنا دیا جائے لیکن اب ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے سامنے ہر روز موضوعات کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسے اپنائیں اور کسے ترک کر دیں کس پر لکھیں اور کسے چھوڑ دیں۔

ان دنوں کئی واقعات تو ایسے درپیش ہیں اور مسلسل درپیش ہیں کہ ان پر ہر روز بھی کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے مثلاً طالبان کے ساتھ مذاکرات جن کے بارے میں ہر روز خبریں آتی ہیں کہ شروع ہیں پھر خبر آ جاتی ہے کہ اب ان میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ پڑ گئی ہے بلکہ اب تو ایسی خبریں بھی ہیں کہ مذاکراتی ٹیم سے اس کے مذاکراتی بھاگ رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کے انتہائی اہم رکن میجر ریٹائرڈ عامر صاحب علیحدہ ہو گئے یا ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنی علیحدگی کے اسباب بھی بتائے ہیں کہ اب ان مذاکرات میں سیاست زیادہ آ گئی ہے۔ سیاست نے تو آنا ہی تھا یہ کیا کم سیاست ہے کہ ایک بڑا مولوی باہر اور اس کا رقیب اندر۔ باہر والا مسلسل ریشہ دوانی میں مصروف رہا اب شنید ہے کہ اس نے اندر والے کو اس قدر تنگ کیا ہے کہ وہ بھی میجر عامر کی طرح جانے والا ہے۔ یعنی جس مذاکراتی ٹیم کے ارکان ہی بددل ہو چکے ہوں اس کے مذاکرات کیسے کامیاب ہوں گے۔

ان مذاکرات کے آغاز پر ہی عرض کر دیا تھا یہ کامیاب نہیں ہوں گے اور طالبان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ کچھ بھی ہو ہمارا ملک اتنا گیا گزرا تو نہیں کہ طلباء اور علماء کو خوش کرنے کے لیے اپنی زمین کا کوئی ٹکڑا بھی دے دیں۔ ہم پہلے ہی سقوط ڈھاکہ کے صدمے سے بے حال ہیں اب مزید صدمے کی گنجائش نہیں ہے۔ اگرچہ سقوط ڈھاکہ والے کردار اب بھی موجود ہیں اور سرگرم بھی لیکن آج نہ یحییٰ خان ہے نہ بھٹو اور مجیب۔ اب کوئی اور علماء کو اتنی رعایت کون دے سکتا ہے کہ ان کو ملک کے ایک ٹکڑے کا نذرانہ پیش کر دیا جائے جسے وہ امارات اسلامیہ میں مولوی فضل اللہ کی امارت میں شامل کر کے پاکستان کو بھی اپنی امارت میں شامل کرنے کا آغاز کر دیں۔

فی الحال تو مذاکرات میں زبردست تعطل آیا ہوا ہے اور امریکا بھی ان مذاکرات میں دلچسپی لے رہا ہے کیونکہ جنرل ڈی گال کے بقول امریکا دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے اس لیے وہ ہر جگہ مداخلت کرتا ہے اور اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہمارے خطے میں تو یوں لگتا ہے جیسے امریکا آباد بھی ادھر ہی ہے صرف وائٹ ہائوس امریکا میں واقع ہے جہاں امریکا کے صدر دنیا کو بدحال کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے کہ امریکا ہمارے علاقے میں ہونے والے مذاکرات میں دلچسپی لے رہا ہے اور اس بات کے نادرست ہونے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے تو پھر یہ مذاکرات صرف اس وقت کامیاب ہوں گے جب امریکا ان کی کامیابی کی اجازت دے گا کیونکہ وہ افغانستان میں ابھی تک پھنسا ہوا ہے۔

وہ دعائیں دے پاکستان کی سابقہ حکومت اور آئی ایس آئی کو جس نے روس کو افغانستان میں عبرت ناک شکست دی اور وہ محاورتاً نہیں واقعتاً چیختا چلاتا دریائے آمو پار کر گیا اور اپنے ساتھیوں کو جاتے جاتے یہ نصیحت بھی کر گیا کہ پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرنا اور افغانوں اور ان کے سرپرستوں سے دور ہی رہنا۔ یہ امریکا کی خوش قسمتی تھی یا اس کی سیاسی کامیابی کہ اس نے حالات اپنے حق میں کر لیے اور ان سے تاریخی فائدہ اٹھایا اس کا سب سے بڑا دشمن ختم ہوا جو اب تک بحال نہیں ہو سکا۔

اب امریکا کا یہ تاریخی دشمن سوویت یونین معاف کیجیے گا روس اب اپنے سرد گرم موسموں میں پہلو بدلتا رہے گا اور اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ روس کی اس کمزوری نے دنیا کو کئی مخمصوں میں پھنسا دیا ہے جن میں سے ایک ہمیں بھی درپیش ہے۔ ہم ذرا سی بھی گستاخی کریں تو ہمارے کئی پاکستانی آن واحد میں پھڑکا دیے جاتے ہیں اس لیے ہم تو سچی بات ڈر ڈر کے روز و شب بسر کر رہے ہیں آرام سے تو صرف ہمارے حکمران ہیں جو جب بھی جی کرتا ہے ہمارے ہی خرچ پر ولایت چلے جاتے ہیں۔

ان دنوں ہمارے حکمرانوں کے خواجگان بہت مشہور ہیں۔ دونوں خواجگان اگرچہ تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ ہمارے بھتیجے ہیں۔ خواجہ محمد صفدر کی خوبصورت سیاست ہمارے سامنے سے گزری۔ خوبصورت اس لیے کہ وہ شرافت کے ساتھ سیاست کرتے تھے۔ کسی ٹیکسی سے اتر کر فائلوں کو بغل میں دبائے اسمبلی میں داخل ہوتے تھے اور اسمبلی کے اجلاس میں وہ حکمرانوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ان کے کسی اعتراض کا جواب دینے کے لیے فائل کو پڑھ کر آنا پڑتا تھا یہ وہ زمانے تھے جب ہماری اسمبلیاں زندہ سلامت تھیں اور خواجہ صاحب جیسے لوگ اپوزیشن لیڈر تھے۔

دوسرے خواجہ تھے جناب محمد رفیق ایک جید سیاسی کارکن۔ بڑے سیاسی عہدے الگ مگر بے حد محترم۔ ہم رپورٹر انھیں دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ اپنی اسی بلند پایہ اور انتہائی شائستہ سیاست کے نتیجے میں ان کا احترام اتنا تھا کہ وہ حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت بن گئے اور ایک دن بھٹو صاحب کے دور میں منظر سے غائب کر دیے گئے۔ جناب بھٹو خود بھی غیر قدرتی موت مر گئے اور کتنے ہی سیاسی لیڈروں کو وہ ایسی ہی غیر قدرتی موت کی نذر کر گئے۔

ہماری قومی سیاست کا یہ ایک تلخ اور شرمناک زمانہ تھا جب سیاست میں کسی بات کا جواب زبان بند کر دیتا تھا۔ یہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ایسے لوگ ہمیشہ رہتے ہیں جو مخالف سیاستدانوں کی زبان بندی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن یا تو وہ وہ خود بھی ایسے ہی کسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں یا پھر قومی سیاست میں ایک شرمناک الزام بن کر زندہ رہتے ہیں۔

بات مذاکرات سے شروع ہوئی تھی جن میں کامیابی کی ہمیں سخت خواہش ہے اور یہ ہماری بڑی مجبوری ہے لیکن کیا ہمارے حکمران اتنی دانش رکھتے ہیں کہ ان مذاکرات کو کامیاب بنا سکیں۔ اس کا جواب وقت دے گا اور وقت کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

مقبول خبریں