ہر کتاب علم کا خزانہ نہیں ہوتی
ہم پر سے کیسی آفتیں اور ابتلائیں گزر گئیں، علم بے توقیر ہوا اور عالموں کو، دانشوروں اور ادیبوں کو طاقت وروں نے ۔۔۔
محل دو محلہ کسے کہتے ہیں؟ شاید ایسی ہی کسی عمارت کو میں جس کی دوسری منزل پر کھڑی ہوئی ہوں او رنیچے دیکھوں تو ہر طرف بچے اور جوان، عورتیں اور مرد نظر آرہے ہیں۔ ان میں اسلام آباد، ہری پور، مانسہرہ، کوہاٹ، فیصل آباد، پشاور، ملتان، بنوں، سوات اور ایبٹ آباد سے آنے والے ہیں۔ دور دراز علاقے، وہ بستیاں جہاں بارود کی کاشت کی گئی اور وہ الاماں ... الاماں پکارتی ہیں۔ جہاں لڑکیوں کے سیکڑوں اسکول تباہ و برباد کیے گئے، علم کے چراغ بجھا دیے گئے۔ لیکن وہاں سے باپ اور بھائی آئے ہیں، یہ کتابیں خرید کر لے جائیں گے اور اپنی ان بہنوں اور بیٹیوں کو دیں گے جو کتابوں کو ترستی ہیں۔
یہ منظر دل کو مسرور کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی رنجور بھی ... اب سے چند دہائیوں پہلے تک علم اور صاحبانِ علم کی اس بے توقیری کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ یہ بات بھی ہمارے حاشیہ خیال میں نہیں آئی تھی کتابیں پارہ پارہ کی جاسکتی ہیں، آگ میں جلائی جاسکتی ہیں۔ ہم ایک ایسا علم دشمن سماج تو ہرگز نہیں تھے۔ ہماری ناخواندہ عورتوں اور مردوں کو چھپے ہوئے کاغذ کا کوئی پرزہ نظر آتا تو وہ اسے ادب و احترام سے اٹھاتے، آنکھوں سے لگا کے اور ہونٹوں سے چوم کر کسی ایسی جگہ رکھ دیتے جہاں اس کی بے حرمتی کا امکان نہ ہو۔
ہم پر سے کیسی آفتیں اور ابتلائیں گزر گئیں، علم بے توقیر ہوا اور عالموں کو، دانشوروں اور ادیبوں کو طاقت وروں نے اپنی بستہ برداری کے سوا اور کسی قابل نہیں سمجھا۔ یہ ایک ایسا عذاب تھا جس نے ملک کو جمہوریت سے اور جمہور کو علم و دانش سے محروم کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ جمہوریت سے عام آدمی کا کیا تعلق؟ جی چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو نیشنل بک فائونڈیشن ایسے ادارے دکھائے جائیں جو یوں تو بہت پہلے سے قائم ہیں لیکن جنہوں نے 2008 میں آنے والے جمہوری دور میں سنبھالا لیا اور اس وقت سے اب تک روشن خیالی اور علم دوستی کو پھیلانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
دانشوروں اور ادیبوں کو فروغ ادب کے نام پر اپنے دام میں لانے کا سلسلہ جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوگیا تھا جسے اصل عروج جنرل ضیاء الحق کے دور میں حاصل ہوا۔ وہ دام ہم رنگِ زمین بچھانے کے قائل نہ تھے۔ ہر بات دو ٹوک کہتے تھے اور اس کے بعد یہ لکھنے والوں کا ظرف اور حوصلہ تھا کہ اس کے بعد بھی وہ ان کے در پر سجدہ ریز ہوں۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کے باضمیر دانشوروں اور ادیبوں کو ڈنکے کی چوٹ پر 'غدار' کہا تھا اور یہ کہنے سے بھی نہیں چُوکے تھے کہ وہ تمام لوگ جو ان کی حکومت کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہیں، ان پر اس ملک کی ہوا، چاندنی اور پانی حرام ہے۔
جنرل پرویز مشرف کو اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں ہوئی کہ بہت سے لکھنے والوں کے پر کترے جاچکے تھے اور وہ جو آمرانہ طرز حکومت سے اختلاف رکھے تھے ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی صدا بن چکی تھی۔ اس تناظر میں دیکھیے تو 2008 میں جمہوریت کی آمد کے بعد بعض علمی اور ادبی اداروں نے اپنی بساط بھر علم کی ترویج اور کتابوں کے پھیلائو کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔
نیشنل بک فائونڈیشن کا یہ سہ روزہ کتاب میلہ جس کی ابتداء مظہر الاسلام نے کی، اب ان کے بعد آنے والے انعام الحق جاوید نے بھی اسے قائم رکھا ہے۔ دراصل ایسے علم پرور اداروں کی سربراہی کا معاملہ اس روشن مشعل جیسا ہے جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو منتقل ہوتی ہے اور روشنی کا سفر جاری رہتا ہے۔
اس کتاب میلے میں اس سے پہلے بھی حاضر ہوچکی ہوں اور کتاب کی سفارت کئی برس سے میرے حصے میں آئی ہے۔ 'کتاب سفیر' ہونے کا اعزاز جب مجھے بھی ملا تو نو عمری کے دن بے اختیار یاد آئے۔ لفظ جنہوں نے عمر بھر رہنمائی کی۔ تختی پر لکھے ہوئے حروف جنہوں نے انگلی تھام کر زندگی کی بھول بھلیوں میں چلنا سکھایا۔ کتابیں جو عمر بھر شریکِ زندگی رہیں اور حالات کے اندھیرے میں راہ کو چراغ کی طرح اُجالتی رہیں۔ ان ہی لفظوں اور کتابوں کے صدقے دور دراز کی زمینوں کی سیر کی اور ہزاروں برس پہلے کے زمانوں کی داستانوں او رکہانیوں کے گل و گلزار کی خوشہ چینی نصیب ہوئی۔
ان تین دنوں میں بے شمار پرانے دوستوں سے ملاقات ہوئی اور کچھ نئے دوست بھی بنے۔ ان نئے دوستوں میں پشتو اکیڈمی کی ڈائریکٹر سلمیٰ شاہین ایک بیش قیمت اضافہ ہیں۔ خوش گفتار سلمیٰ سے پشتو کے بے بدل دانشور اور محقق محترم عبدالحئی حبیب کے بارے میں بات ہوتی رہی۔ جمیلہ شاہین صاحبہ جن سے تعارف ہماری معروف ادیب عذرا اصغر کی وساطت سے ہوا ، وہ اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود اسلام آباد ہوٹل آئیں اور پھر سارا دن میلے میں کس ذوق شوق سے پھرتی رہیں۔
اس کتاب میلے میں انتظار صاحب، کشور ناہید، مسعود اشعر، اصغر ندیم سید، فاطمہ حسن اور درجنوں جید ادیب شامل تھے۔ ان سب کا تذکرہ فرداً فرداً ممکن نہیں۔ بس یوں سمجھیے کہ ہر اہم ادیب نے اپنی تخلیق سنائی اور ادب کے ہر اہم رجحان پر بحث ہوئی۔ ایک محفل نسائی ادب کے حوالے سے بھی تھی۔ کشور ناہید اور فاطمہ حسن نے اپنی باتیں کہیں۔ اس حوالے سے میں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ تعلیم سے آراستہ ہونے والی ان عورتوں نے دھڑا دھڑ افسانے لکھنے شروع کردیے اور افسانے بھی ایسے جن میں ہجر و وصال اور حسن و جمال سے کہیں زیادہ تعلیم کے ثواب، پردے کے عذاب، آزادی کی نعمتوں کا ذکر اور مساوی مواقعے کی طلب گاری کی گئی تھی۔
یہ لکھنے والیاں مرد کی دوسری اور تیسری شادی پر حرف گیری کرنے لگیں اور یہ سوال اٹھانے لگیں کہ بیوہ کو دوسری شادی کا حق کیوں نہیں۔ خواتین قلم کاروں کی طویل فہرست کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر ہم یہ دیکھیں کہ 1881میں لکھے جانے اور 1897میں چھپنے والے رشیدہ النساء کے پہلے اردو ناول سے آج 2014تک ہماری قلم کار خواتین نے سماج کی منافقتوں اور ریا کاریوں کا پردہ خوب چاک کیا ہے۔ انھوں نے عورت اور مرد کے عشق کے قصے ضرور لکھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ سیاست اور سماج کے حجرۂ ہفت بلا میں اتریں اور وہاں انھوں نے جو دیکھا، ان پر جو گزری، ذلتیں جو انھوں نے اور دوسروں نے برداشت کیں، وہ ان پر خامہ فرسائی کرتی چلی گئیں۔
123 برس پہلے انھوں نے جو سفر شروع کیا تھا اور جس کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ یہ نیک بیبیاں عم زاد سے عشق اور شادی بیاہ کے معاملات پر لکھیں گی یا سماج سدھار کی کوششوں میں مصروف جائیں گی لیکن ان نو آزاد پرندوں نے ایسی اڑان بھری جس کا شاید کسی کو بھی گمان نہ تھا۔ وہ عالم ہوا کہ میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے۔ اگر ہم ان 123برسوں کے دوران اُن موضوعات کا جائزہ لیں جن پر عورتوں نے لکھا تو ان کی تخلیقات کا تنوع حیران کردیتا ہے۔
اس میلے میں ہونے والے مکالموں، مباحثوں اور افسانوں کی قرات کا تنوع بھی حیران کرنے والا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ ہم اپنی کاربن کاپیاں کروالیں اور ہر محفل میں شریک ہوں۔ آپ خود ہی سوچئے کہ جب بچے کتابوں کے قلعے میں ٹہل رہے ہوں، قصہ خوانی ہورہی ہو، الہٰ دین اور چالیس چوروں کا احوال دکھایا جارہا ہو اور 'گوگی شو' ہورہا ہو تو دل کیوں نہ چاہے کہ کلوننگ کے یا کاربن کاپی کے وسیلے سے ہم بھی ان محفلوں میں شریک ہوں۔
''گوگی'' پاکستان کی پہلی کارٹونسٹ نگار نذر کا کردار ہے جو دہائیوں سے بچوں کو ہنسا رہا ہے۔ بڑے بڑے سرخ پولکا ڈاٹس کا لباس پہننے والی ''گوگی'' اسٹیج پر ہو تب بھی ہنساتی ہے ا ور اس کے کارٹون کامکس بچوں کے ہاتھوں میں آئیں تو وہ بے ساختہ ہنستے ہیں اور ہنستے چلے جاتے ہیں۔
اس تقریب کے دو دُلہا تھے، پہلے دُلہا عطاء الحق قاسمی اپنی باتوں کی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہے اور دوسرے دن ضیاء محی الدین کو سننے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ لگے رہے۔ تقریب جب ختم ہورہی تھی تو اسٹیج پر چند اسکولوں کے بچوں نے سرسید احمد خاں، الطاف حسین حالی، حسرت موہانی، اقبال اور ہاجرہ مسرور کے علاوہ ہمارے کئی کلاسیکی لکھنے والوں کا بہروپ بھرا۔ اس میلے میں وہ بچے بھی آئے جو نابینا ہیں لیکن بریل نے انھیں کتابوں سے متعارف کرادیا ہے۔ یہ بچے اور بچیاں جب اپنی انگلیوں سے بریل کتابوں کو پڑھ رہے تھے تو بہت سی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جہل کے اندھیروں کی پسپائی کا کیسا عجیب منظر تھا۔
اور اب اس تقریر کے بارے میں ایک خاص نکتہ جس سے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے اس تقریب کا پہلے دن افتتاح کیا۔ کتابوں کی اہمیت اورافادیت کی بات کرتے ہوئے انھوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو سماج کو تقسیم کرتی ہیں، ذہنوں میں زہر پھیلاتی ہیں اور امن اور علم کا تبرک بانٹنے کے بجائے جنگ جوئی، جہل اور نفرت کو پھیلاتی ہیں۔ ہمیں ایسی کتابوں سے ہوشیار رہتے ہوئے بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ہر کتاب علم کا خزانہ نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا بجا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم کو اور ہمارے بچوں کو اب تک نفرت عام کرنے والی ایسی کتابیں نہ پڑھائی گئی ہوتیں تو آج ہم اس حال کو نہ پہنچے ہوتے۔