سیکیورٹی کمپنیوں کاسروسزٹیکس میں کمی کامطالبہ

10 فیصد شرح ناقابل برداشت ہیں،منافع پر2 فیصد دے سکتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ وعدہ پورا کریں، سیکیورتی کمپنیز


Business Reporter May 10, 2014
10 فیصد شرح ناقابل برداشت ہیں،منافع پر2 فیصد دے سکتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ وعدہ پورا کریں، سیکیورتی کمپنیز فوٹو؛فائل

منظم شعبے کی سیکیورٹی کمپنیوں نے مالی سال 2014-15 کے صوبائی بجٹ میں اپنی خدمات پرعائد10 فیصد سیلزٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی کمپنیاں دیگر وفاقی ٹیکسوں کے ساتھ10 فیصد صوبائی سیلزٹیکس کی ادائیگیوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں ۔

کیونکہ 10 فیصد سیلزٹیکس کی ادائیگیوں کے بعد ان کے محدود منافع میں50 فیصد کی کمی ہورہی ہے لہٰذا وزیراعلیٰ سندھ اس ضمن میں کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے نئے بجٹ میں سیکیورٹی کمپنیوں پرعائد کردہ10 فیصد سیلزٹیکس ختم کرنے کا اعلان کریں۔ یہ بات کراچی چیمبر آف کامرس اور آل پاکستان سیکیورٹیز ایجنسیز ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس سے کراچی چیمبر کے سینئر نائب صدر مفسرعطا ملک اور کرنل (ر)توقیر الاسلام نے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کمپنیوں کو فی گارڈ پر ماہانہ 1320 روپے کا منافع ہوتا ہے جبکہ 10فیصد سیلزٹیکس کی ادائیگی کے بعد یہ منافع گھٹ کرصرف620 روپے رہ جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ ریونیو بورڈ سیکیورٹی کمپنیوں کے منافع پر2 فیصد سیلزٹیکس عائد کردے جو کمپنیوں کے لیے قابل برداشت ہوگا بصورت دیگر منظم شعبے کی سیکیورٹی ایجنسیاں بند ہوجائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کمپنیوں نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو20 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، 10 فیصد سیلزٹیکس درحقیقت سیکیورٹی کمپنیوں کے کلائنٹس پر عائد کیے گئے ہیں لیکن کلائنٹس کا موقف ہے کہ وہ پہلے ہی حکومت کو ہرقسم کے ٹیکسوں کی ادائیگیاں کررہے ہیں ۔

جس کے بعد ان کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جو وہ پوری کرنے سے قاصر ہے لہٰذا وہ مارکیٹ سے اپنے تحفظ کے لیے خدمات حاصل کرنے پر کسی قسم کا اضافی ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس صورتحال کے بعد ایس آر بی حکام نے سیکیورٹی کمپنیوں کو 10 فیصد سیلزٹیکس ادا کرنے کا پابند بنادیا جو ناقابل برداشت ہے۔