حصص مارکیٹ پھر مندی کا شکار 28 ہزار 500 کی حد گر گئی

انڈیکس کی 28 ہزار 500 کی نفسیاتی حد دوبارہ گر گئی، مندی کے باعث47.19 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی


Business Reporter May 10, 2014
انڈیکس کی28500 کی نفسیاتی حد دوبارہ گر گئی، مندی کے باعث47.19 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی فوٹو: پی پی آئی/فائل

KARACHI: وفاقی بجٹ میں کیپٹل گینز ٹیکس کی شرح اور نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود بڑھنے کی افواہوں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو سرمایہ کاری کے بیشترشعبوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔

جس کے نتیجے میں کاروبار اتارچڑھاؤ کے بعد دوبارہ مندی کی لپیٹ میں آگئی اور انڈیکس کی28500 کی نفسیاتی حد دوبارہ گر گئی، مندی کے باعث47.19 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے25 ارب36 کروڑ71 لاکھ22 ہزار703 روپے ڈوب گئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نتائج سے متعلق سرمایہ کاروں میں ابہام اور سیاسی افق پر غیریقینی کیفیت بھی کیپٹل مارکیٹ کی سرگرمیوں کو متاثر کررہی ہیں اور سرمایہ کاروں میں اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہورہا ہے۔

جس کی وجہ سے وہ صرف وقتی طور پر سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 159.36 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی28600 کی حد بھی بحال ہوگئی تھی کیونکہ اس دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر33 لاکھ8 ہزار607 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی تھی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے12 لاکھ19 ہزار521 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے9 لاکھ16 ہزار911 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے4 لاکھ18 ہزار390 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے7 لاکھ53 ہزار785 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 16.48 پوائنٹس کی کمی سے28494.54 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 49.29 پوائنٹس گھٹ کر19872.25 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 17.85 پوائنٹس کی کمی سے45487.58 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت10.05 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر11 کروڑ94 لاکھ95 ہزار 230 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار339 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں158 کے بھاؤ میں اضافہ، 160 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔