گیس لوڈشیڈنگ اور سیلز ٹیکس میں اضافہ سی این جی سیکٹر کی ملک گیر احتجاج کی دھمکی

بیوروکریسی نے وزیراعظم کو غلط معلومات دے کرسی این جی کے لیے گیس لوڈشیڈنگ بڑھا دی، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس میں۔۔۔


Business Reporter May 11, 2014
12روز میں معاملات ٹھیک نہ ہونے پر 23 مئی سے سندھ میں دھرنے سے احتجاج شروع، پھر ملک بھر میں پھیلادیا جائیگا، شبیر سلیمان جی اور ارشاد بخاری کی پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے سندھ میں ہفتہ وار 2 روزگیس لوڈمنیجمنٹ کا دورانیہ بحال نہ کرنے اورایف بی آر کی جانب سے حال ہی میں سیلزٹیکس کی شرح میں یک طرفہ اضافے پر نظرثانی نہ کرنے کی صورت میں 23 مئی 2014 سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ہفتہ کو آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین شبیرسلیمان جی نے کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدم تسلسل پر مبنی پالیسیوں نے سی این جی انڈسٹری کو متزلزل کردیا ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم نے 11 اپریل کو ہی سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ کا ہفتہ وار دورانیہ گھٹا کر 2 یوم تک محدود کردیا تھا لیکن ہفتہ 10 مئی سے دوبارہ سندھ کے سی این جی اسٹیشنز کے لیے گیس لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاکر 3 روز کردیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سی این جی اسٹیشنز کواپریل کے بلز 6 فیصد اضافی سیلزٹیکس کے ساتھ موصول ہوئے ہیں جو موجودہ حالات میں ناقابل برداشت ہیں کیونکہ ایف بی آر کے اس اقدام کے نتیجے میں سی این جی انڈسٹری کا فی کلوگرام سی این جی پرمنافع صرف 1 تا ڈیڑھ روپے تک محدود ہوگیا ہے لہٰذا ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے مشترکہ فیصلے کے تحت ایس ایس جی سی اور ایف بی آر کومعاملات پر نظرثانی کے لیے12 یوم کا الٹی میٹم دیا جارہا ہے اور مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد پہلے مرحلے میں سی این جی اسٹیشن مالکان اور کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد مشترکہ طور پر ایس ایس جی سی کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے اور بعدازاں احتجاج کے دائرہ کار کو ملک گیر سطح پر توسیع دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار بندش میں ایک روز کی کمی عوام کے لیے سہولت کا باعث بنی لیکن بیورو کریسی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو غلط معلومات فراہم کرکے سی این جی سیکٹرکے لیے گیس لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کودوبارہ 3 روز کرا دیا ہے حالانکہ سندھ میں قدرتی گیس کی قلت نہیں ہے اور صوبے میں دریافت ہونے والے گیس کے نئے ذخائر بھی سسٹم میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے حامل سی این جی انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ اس موقع پرکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے کہا کہ سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ شیڈول میں تبدیلی سے عام آدمی براہ راست متاثر ہورہا ہے چونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا سہارا سی این جی ہے لیکن اس شعبے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں لاکر حکومت خود اپنے خلاف احتجاج کا نیا محاذ کھڑا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی سی این جی سیکٹرکی بقا کے خلاف پالیسیاں جاری رہیں تو کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد احتجاج کا آئینی حق استعمال کرے گا۔ ارشاد بخاری نے ایک سوال پر بتایا کہ شہر کے ٹرانسپورٹرز نے پبلک ٹرانسپورٹ وہیکلز میں نصب سی این جی سلنڈرز کوجانچ پڑتال کے لیے پیش کر دیا ہے اور کراچی میں ایچ ڈی آئی پی کے منتخب کردہ انسپیکشن سینٹر میں بسوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔