شعیب اختر نے نئے پیسرزکی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا

ملک میں فاسٹ بولرزختم ہوگئے،مسئلے سے نمٹنے کیلیے اکیڈمی قائم کروںگا،سابق اسٹار


ایکسپریس July 11, 2012
ملک میں فاسٹ بولرزختم ہوگئے،مسئلے سے نمٹنے کیلیے اکیڈمی قائم کروںگا،سابق اسٹار، فوٹو ایکسپریس

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے پاکستان کیلیے نئے پیسرز کی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس فاسٹ بولرزختم ہو چکے، اس مسئلے سے نمٹنے کیلیے اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت وسیم اکرم، وقاریونس اور عمران خان کے جیساکوئی فاسٹ بولر موجود نہیں جو بورڈ کیلیے لمحہ فکریہ ہے،محمد عامر کے بعد کوئی اُبھرتا ہوا پیسرنہیں آیا جو ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کب تک اسپنرز کے بل بوتے پر میچ جیتتا رہے گا، اب کرکٹ تبدیل ہو چکی اب فاسٹ بولرز کے بغیر فتح پاناآسان نہیں ہے، بھارتی ٹیم اگر اس شعبے میں پیچھے ہے تو اس کی بیٹنگ لائن مضبوط ہے جو میچز جتوا دیتی ہے جبکہ پاکستانی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

شعیب اختر نے کہاکہ اسپنرز پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جیسا گذشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران مائیک ہسی نے سعید اجمل کے ایک اوور میں کئی چھکے لگا کر ہم سے فتح چھین لی، اگر وہاں فاسٹ بولر ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی،انھوں نے کہاکہ میں نے فاسٹ بولرزکی مفت تربیت کیلیے اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کیا جہاں کھیل کے ساتھ وہ تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے، میں اپنے بین الاقوامی کرکٹ کے تجربے سے نوجوان کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں اور اگلے ورلڈکپ سے قبل 4،5 فاسٹ بولرزتیار کرنا میرا ہدف ہے۔ شعیب اختر نے کہاکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا کوئی فائدہ نہیں اسے تڑوا کرگیسٹ ہائوس بنا دینا بہتر ہو گا، وہاں ملازمین کی جو فوج بھرتی ہے اس سے کوئی اور کام کرایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو اگر اچھا معاوضہ دیا جائے تو کوئی غلط کاموں میں ملوث نہیں ہوگا، اس سے ملکی کرکٹ کا نظام بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔