آئی ایم ایف نے نظر ثانی شدہ ریونیو ہدف بھی ناقابل حصول قرار دے دیا

2300 ارب وصول ہوجائیں توکامیابی ہوگی،اپریل تا جون شارٹ فال بڑھنے کے خدشے کا اظہار


Numainda Express May 12, 2014
2300 ارب وصول ہوجائیں توکامیابی ہوگی،اپریل تا جون شارٹ فال بڑھنے کے خدشے کا اظہار ۔ فوٹو: فائل

FAISALABAD: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال کیلیے ایف بی آر کی طرف سے مقرر کردہ 2345 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کو بھی ناقابل حصول قرار دیدیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سہ ماہی(اپریل تا جون) کے دوران ریونیو شارٹ فال بڑھ جائیگا۔

اس ضمن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ دبئی میں ہونیو الے مذاکرات میں شامل پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے ایک ممبر نے وطن واپسی پربتایا کہ دبئی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے بجلی پر دی جانیوالی والی سبسڈی میں دوسرے مرحلے کے تک کمی نہ کرنے اور گیس ٹیرف ریشنلائزیشن نہ کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور توقع ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی طرف سے پاکستان کو کچھ شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے بارے استثنٰی مل جائیگا اور آئی ایم ایف بورڈ کی طرف سے پاکستان کیلیے قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی جائے گی کیونکہ چند شرائط کے علاوہ دیگر اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں اور ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی(جی ڈی پی) کی شرح،مالیاتی خسارے سمیت دیگر اقتصادی اعشاریے تسلی بخش ہیں۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)جائزہ مشن کی طرف سے گزشتہ ماہ(اپریل) کے دوران آنے والے ریونیو شارٹ فال پر بہت زیادہ سنجیدگی دکھائی ہے اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جائزہ مشن کو موقف تھا کہ 2345 ارب روپے کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنے کیلیے رواں ماہ اور اگلے ماہ کے دوران 34 فیصد سے زائد گروتھ درکار ہے جو کہ بہت بڑا چیلنج ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کا کہناہے کہ موجودہ صورتحال میں رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ 2345 ارب روپے کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہے اور اگر ایف بی آر 2300 ارب روپے یا اس سے کچھ زیادہ ریونیو حاصل کرلے تو یہ بھی بڑی کامیابی ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ البتہ مذاکرات کے دوران چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو یقین دہانی کروائی ہے کہ رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ 2345 ارب روپے کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کیا جائیگا اور گزشتہ ماہ(اپریل) آنے والے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کیلیے رواں ماہ(مئی) اضافی ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کیلیے انفورسمنٹ ایکشن پلان ایف بی آر کی فیلڈ فارمشنز کو بھجوایا جاچکا ہے جس کے تحت دس ہزار دو سو 59لوگوں کو نیشنل ٹیکس نمبر جاری کیے گئے ہیں اور انکم ٹیکس میں نئے رجسٹرڈ ہونیوالے ٹیکس دہندگان میں سے تین ہزار آٹھ سو بانوے لوگوں کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائے گئے ہیں۔ اسی طرح سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے شعبے میں انفورسمنٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے جس سے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے جو گزشتہ ماہ کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔