یورپ کوآم کی برآمد معیارکے ساتھ وزن کی بھی نگرانی ہوگی

اسلام آباداجلاس میں سیکریٹری غذائی تحفظ نے فروٹ ایکسپورٹرزکویقین دہانی کرادی


Business Reporter May 13, 2014
وزن کی چوری بدنامی کاباعث ہے،ایکسپورٹرز،2کلوسے کم کی پیکنگ ممنوع قراردینے کی تجویزدی فوٹو:فائل

وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے یورپی یونین کو آم کی برآمد کے لیے معیار کے ساتھ وزن کی بھی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے یورپی یونین کے لیے وزن کا اسٹینڈرڈ مقرر کیے جانے کی تجویز کو سراہتے ہوئے سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکوریٹی نے یقین دلایا کہ وفاقی وزارت تجارت کو اس تجویز پر سختی سے عمل درآمد کی سفارش کی جائے گی تاکہ یورپی یونین کو بیماریوں اور مکھیوں سے محفوظ اور وزن میں پورا آم ایکسپورٹ کیا جاسکے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی تجویز میں کہا گیا کہ یورپی یونین کو آم کی ایکسپورٹ کے لیے 2 کلو سے کم وزن کی پیکنگ کوممنوع قرار دیا جائے اور 5 فیصد کمی بیشی کے ساتھ صرف 2 کلو، 3کلو، 4کلو اور 5کلو کی پیکنگ کی اجازت دی جائے۔

ایسوسی ایشن کے کو چیئرمین وحید احمد نے بتایا کہ 2کلو سے کم وزن کی پیکنگ میں غیرمعیاری آم پیک کیے جاتے ہیں جن میں بڑی پیکنگ کے مقابلے میں فروٹ فلائی کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے، وزن کی چوری پاکستان کی بدنامی کا بھی سبب بنتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت تجارت، ایف بی آر اور قرنطینہ ڈپارٹمنٹ پر زور دیاکہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے ایئرپورٹس پر مقررہ وزن کی سختی سے مانیٹرنگ کی جائے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ وزن چوری کرنے اور ملک کی بدنامی کا سبب بننے والے ایکسپورٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور میڈیا کے ذریعے وزن چوری کرنے والے ایکسپورٹرز کے نام عوام کے سامنے لائیں جائیں۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیاہے کہ وزن کی چوری کرنے والے ایکسپورٹر کی رکنیت منسوخ کردی جائیگی۔