مشتاق کا تقرر جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز

دورئہ سری لنکا میں میچ فکسنگ کیلیے ڈالرز وصول کرنے کے الزام میں جرمانہ بھر چکے


لیگ اسپنر پر الزام تھا کہ انھوں نے دورئہ سری لنکا میں مشترکہ طور پر کپتان سلیم ملک کے ہمراہ 66ہزار 5سو ڈالر میچ فکسنگ کیلیے وصول کیے۔ فوٹو: فائل فوٹو: فائل

وقار یونس کی طرح مشتاق احمدکی تقرری کرتے ہوئے بھی جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ نظر انداز کردی گئی۔

موجودہ چیف سلیکٹر معین خان، ہیڈ کوچ وقار یونس اور اسپن بولنگ میں معاون مشتاق احمد طویل عرصے تک ایک ساتھ ملک کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، 1994میں سابق اسٹارز راشد لطیف اور باسط علی نے دورئہ جنوبی افریقہ میں ساتھی کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کرکے پنڈورا باکس کھول دیا، بعد ازاں بھی کئی میچز مشکوک ہونے کی اطلاعات مسلسل گردش میں رہنے پر بالاخر جسٹس قیوم کمیشن نے9ستمبر 1998 کو انکوائری شروع کی، سماعت مکمل ہونے پر سلیم ملک اور عطا الرحمان تاحیات پابندی کا شکار ہوئے جبکہ مشاق احمد، وقار یونس، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور اور اکرم رضا کو جرمانے بھرنا پڑے۔

لیگ اسپنر پر الزام تھا کہ انھوں نے دورئہ سری لنکا میں مشترکہ طور پر کپتان سلیم ملک کے ہمراہ 66ہزار 5سو ڈالر میچ فکسنگ کیلیے وصول کیے، واضح ثبوت نہ ہونے پر انھیں 3لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ مشتاق احمد کا نام بھی ان کرکٹرز کی فہرست میں شامل تھا جن پر آئندہ کڑی نظر رکھنے، بورڈ اور ٹیم میں سلیکشن یا قیادت کی ذمہ داری سونپنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھے۔ جسٹس قیوم نے 2006 میں انھیں اسسٹنٹ کوچ بنائے جانے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''حیرت ہے بورڈ نے ان کی سفارشات کے برخلاف قدم کیسے اٹھایا''۔آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لورگاٹ نے 2009 میں انگلش بورڈ کو خط میں یاد دلایا تھا کہ لیگ اسپنر کا نام جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل ہے۔

کمیشن کی ہدایات کے باوجود وقار یونس کو تیسری بار کوچ مقرر کیا گیا جبکہ انگلینڈ نے مشتاق احمد کے تجربے کا 6سال تک بھرپور فائدہ اٹھایا، ہیڈ کوچ کی حمایت نے ان کے اکٹھے کام کرنے کی راہ ہموار کردی، دونوں ملتان اور یو بی ایل ٹیم کی بھی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ 1993میں بطور کپتان وسیم اکرم کے پہلے ویسٹ انڈین ٹور میں گرینیڈاکے ساحل پر مقامی پولیس نے وسیم، وقار یونس اور عاقب جاوید کے ساتھ مشتاق احمد کو بھی مبینہ طور پر''ماری جوانا'' پیتے ہوئے دھرلیا تھا، کرکٹرز 4گھنٹے تک حراست میں رہے، ضمانت پر رہائی ہوئی، منیجر خالد محمود کی طرف سے ٹور ختم کرنے کی دھمکی اور وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پانچویں روز کیس سے گلوخلاصی ہوئی تھی۔