مقبوضہ بیت المقدس یوم نکبہ پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے2فلسطینی شہید درجنوں گرفتار

اسرائیلی قبضے کے 66 برس مکمل ہونے پر فلسطینیوں نے 66 سیکنڈ کی خاموشی بھی اختیار کی


AFP May 16, 2014
یوم نکبہ 1948 میں فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف منایا جاتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

مقبوضہ بیت المقدس میں یوم نکبہ کے موقع پر مختلف علاقوں میں فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے کیخلاف احتجاج کیا۔

اس دوران شدید جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ مغربی کنارے کے شہر رملہ میں قابض اسرائیلی بارڈر پولیس نے فلسطینیوں پر فائرنگ کردی جس سے 2 فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے۔ اے ایف پی کے مطابق 20 سالہ مصعب نواراح اور 17سالہ محمد ادیح کے سینے میں گولیاں لگیں، دونوں نوجوانوں کو اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جاںبر نہ ہوسکے۔ یوم نکبہ 1948 میں فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف منایا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیاکہ مقبوضہ بیت المقدس اور رملہ کے درمیان واقع قلندریہ چیک پوسٹ پر 200 کے قریب مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں میں جھگڑا ہوا اور اس دوران فوج نے اینٹی ریوٹ میتھڈ، ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ شہر نابلس میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

غزہ کی پٹی کے قریب ایرز کراسنگ کی طرف بڑھنے والے فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ہیڈکوارٹرز شہر رملہ میں بھی یوم نکبہ پر فلسطین کی تقسیم کے 66 برس مکمل ہونے پر شہریوں نے 66 سیکنڈ تک خاموشی اختیار کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر صدر محمود عباس نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سال ہماری طویل جدوجہد کا اختتام ہوگا، یہ ہی وقت ہے کہ جدید تاریخ میں اس طویل قبضے کو ختم کیا جائے اور یہ وقت ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں کو اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ فلسطینیوں کا اور کوئی وطن نہیں ہے سوائے فلسطین کے۔

دوسری طرف حماس اور الفتح میں مفاہمتی معاہدے کے تحت غزہ میں بھی حماس کے وزیر اعظم اسماعیل حانیہ نے وزیر اعظم ہاؤس خالی کر دیا جبکہ فلسطینی وزارت داخلہ کے مطابق یاسر عرفات بلڈنگ بھی الفتح کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دریں اثنا اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے مقدس مقامات پر ویٹی کن کے ساتھ خودمختاری کے معاہدے سے انکار کردیا۔ ویٹی کن کیلیے اسرائیلی سفیر زین ایورونی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہاکہ ان کی حکومت کا اسرائیل میں افواہوں کے برعکس حکومت کا حضرت داؤدؑ کے مقبرے کی ملکیت یا ویٹی کن کو خودمختاری منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔