16 ارب ڈالر بھیجنے والے تارکین وطن کو ایئرپورٹ پر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے سپریم کورٹ

اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں کہ ایئرپورٹس پر سہولتیں دینے کے حکم پر عمل نہیں ہوا، جسٹس جواد ایس خواجہ


Numainda Express May 17, 2014
اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں کہ ایئرپورٹس پر سہولتیں دینے کے حکم پر عمل نہیں ہوا، جسٹس جواد ایس خواجہ فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے چیئرمین سول ایوی ایشن اتھارٹی کو عدالت کے حکم کی عدم تعمیل پر خود پیش ہوکر وضاحت کیلیے طلب کرلیا ہے۔

ہوائی اڈوں پر تارکین وطن کیلیے سہولتیں فراہم کرنے کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر چیئرمین سی اے اے سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے جامع جواب جمع کرائیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہوائی اڈوں پر دیار غیر سے آنے والے پاکستانیوںکیلیے ناکافی سہولیات اور انہیں درپیش مشکلات پر ازخود نوٹس لیکر سی اے اے کو اس ضمن میں فوری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گز شتہ روز مقدمہ کی سماعت کی۔

جسٹس جواد نے کہا تارکین وطن ملک کو16ارب ڈالرکا زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور ان کے خون پسینے کی کمائی سے ہم تنخواہ لیتے ہیں،ان کے ساتھ ایئر پورٹس پر غیر انسانی سلوک ہوتا ہے،وہ اپنی آنکھ سے دیکھ چکے ہیںکہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہوا، سول ایوی ایشن اتھارٹی انھیں ذلیل وخوار کرنے پرکمر بستہ ہے لیکن عدالت ان کے ساتھ مزید یہ سلوک نہیں ہونے دے گی۔ اے پی پی کے مطابق جسٹس جواد نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ 27 جون 2011 کو جب عدالت عظمیٰ نے سومونوٹس لیاتھا اس سے حالات بہتر ہو جائیں گے مگرایسا کچھ نہ ہوسکا۔

اس کے برعکس عدالت میں جھوٹی سچی رپورٹس پیش کرکے ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، اگرمیں خود گزشتہ دنوں ترکی ،دبئی اورلاہورکا سفرنہ کرتا تو حقائق سے لاعلم ہوتا کیونکہ سفرکے دوران جوفارم پرکرنے کیلیے دیا جاتا ہے وہ بھی انگریزی ، فرنچ ،عر بی اوردیگرزبانوں میں ہوتاہے، اردوزبان میں نہیں، جس سے سفرکرنے والے تارکین وطن پاکستانیوں کومشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔ چیئرمین سول ایوی ایشن کوتوہین عدالت کی کارروائی کاسامناکرناپڑے گا۔ بعدازاں عدالت نے چیئرمین سی اے اے کونوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں آئندہ سماعت پرطلب کرلیا اورمزیدسماعت آئندہ جمعے تک ملتوی کردی۔