تجارت 3 ارب پاؤنڈ کرنے کیلیے سنجیدگی دکھانا ہونگی کراچی چیمبر

سیکڑوں برطانوی کمپنیاں کامیاب کاروبارکررہی ہیں،منفی پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہیں،سراج قاسم تیلی


Business Reporter May 22, 2014
سراج قاسم تیلی اورعبداللہ ذکی کابرطانوی ہائی کمشنرانتھونی ٹکنوٹ کی آمد پر تقریب سے خطاب۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت 3 ارب پائونڈ تک پہنچانے کے لیے دوطرفہ بنیادوں پر سنجیدہ اور مثبت کاوشیں کرنی ہوں گی اور مغربی ذرائع ابلاغ کے پاکستان مخالف پروپیگنڈوں پر قابو پانا ہوگا۔

یہ بات بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے بدھ کو کراچی چیمبر میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کے دورے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیکڑوں برطانوی کمپنیاں پاکستان میں کامیاب انداز میں کاروبار کررہی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے بہترین تعلقات انجوائے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجربرادری مغربی میڈیا کی جانب سے خودساختہ طور پرکراچی کو غیرمحفوظ قراردینے سے متعلق رپورٹنگ کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس منفی پروپیگنڈے کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے کراچی چیمبرنے سال2004 سے سالانہ بنیادوں پرمائی کراچی نمائش کا باقاعدگی کے ساتھ انعقاد شروع کیا تاکہ دنیا بھر میں کراچی کا سافٹ امیج اجاگر ہوسکے کیونکہ اس نمائش میں غیرملکی کمپنیوں اور بیرونی خریداروں کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے جنہوں نے نمائش میں شرکت کے بعد مغربی میڈیا کے پروپیگنڈوں کومنفی قراردیا ہے۔ انہوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سے بیرونی دنیا میں کراچی کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنے میں تعاون طلب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس ضمن میں کراچی چیمبر کی مدد کریں۔

کراچی چیمبرکے صدر عبداللہ ذکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 200برطانوی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور دونوں ملکوںکے درمیان تجارتی حجم میں بھی نمایاں اضافہ ہو ا ہے۔ عبداللہ ذکی نے کہاکہ مالی سال 2013کے دوران پاکستان سے برطانیہ کیلیے برآمدات 1.37ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال 2012 میں برآمدات کا حجم 1.30ارب ڈالر تھا جبکہ برطانیہ سے پاکستان کی درآمدات 0.82ارب ڈالر رہیں جو مالی سال2012میں 0.69ارب ڈالر تھیں۔انہوںنے پاکستان کو خودکفیل بننے میں برطانوی حکومت کے تعاون کوبھی سراہا اور تعاون کے اس عمل کوآئندہ بھی جاری رکھنے کی امیدبھی ظاہر کی۔