پنجاب میں شکار کی اجازت ملنے کے پہلے ہی روز شکاریوں نے سیکڑوں تیتر ڈھیرکردیے

آصف محمود  جمعـء 1 دسمبر 2023
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

لاہور: پنجاب میں تیتر کے شکار کی اجازت ملنے کے بعد پہلے  ہی روز شکاریوں نے سیکڑوں تیتر ڈھیر کردیے،جنگلی حیات کے تحفظ اور ویلفیئر کے لیے کام کرنیوالے اداروں کا کہنا ہے تیتر سمیت جنگلی حیات کے شکار کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ان پرندوں اور جانوروں کی نسلیں ختم ہوجائیں گی۔

پنجاب وائلڈلائف نے گذشتہ ماہ تیتر کے شکار کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جن تحصیلوں میں شکارکی اجازت دی گئی ہے وہاں تیتروں کی آبادی سے متعلق کوئی سروے نہیں کروایا گیا اور اس حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کو بھی دھوکے میں رکھا گیا۔

پنجاب وائلڈلائف نے یکم دسمبر سے 31 جنوری تک شکار کی اجازت کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شکاریوں نے پہلے ہی روز سیکڑوں تیتر شکار کیے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر تصاویر بھی شیئر کی جارہی ہیں۔

پنجاب وائلڈلائف کے نوٹی فکیشن کے مطابق کارآمد شوٹنگ لائسنس کے ساتھ شکاریوں کو صرف اتوار کے روز ان علاقوں میں تیتر کے شکار کی اجازت دی گئی جہاں پنجاب وائلڈلائف سروے کے مطابق تیتروں کی خاصی آبادی موجود ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق تحصیل گوجر خان، ٹیکسلا، سوہاوہ ، دینہ، چوآ سیدن شاہ، کلر کہار، عیسیٰ خیل، بھکر، کلور کوٹ، بہاولنگر اور منچن آباد،فتح جھنگ، حضرو ،حسن ابدال، احمد پور شرقیہ اور حاصل پور میں شکار کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح ڈسٹرکٹ ،فیصل آباد، سرگودھا،ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، چنیوٹ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات/وزیرآباد،حافظ آباد،نارووال،منڈی بہاؤالدین، ساہیوال، پاکپتن، اوکاڑہ،لاہور ،قصور،شیخوپورہ،ننکانہ صاحب، ملتان، خانیوال، لودھراں، وہاڑی ، لیہ، ڈی جی خان، مظفر گڑھ اور راجن پور کی تمام تحصیلوں میں شکار کی اجازت ہوگی۔

تاہم ڈسٹرکٹ رحیم یار خان اور اس کی تمام تحصیلوں میں شکار پرپابندی ہے۔  علاوہ ازیں وائلڈلائف ریزور ایریاز، پرائیویٹ گیم ریزرو، دفاعی تنصیبات کے علاقے، بفرزون، تھل پبلک وائلڈ لائف ریزرو کے علاقے اور نیشنل پارک میں بھی تیتر کے شکار پر مکمل پابندی ہے۔

حکام نے بتایا کہ وائلڈ لائف ایکٹ/ رولز کے تحت بلیک، گرے اور سی سی تیتر کے شکار کی اجازت ہے۔ مسلح افواج،پولیس،رینجرز کے زیر استعمال خودکار یا سروس ہتھیار سے شکار کی اجازت نہیں ہے نیز شکار کے لیے کسی بھی فورس یا محکمے کی سرکاری گاڑی کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔