دو مختلف سمتوں والی تحریکیں

طاہر القادری نے 11 مئی سے جو تحریک شروع کی ہے ان کے مطابق یہ تحریک نظام کی تبدیلی تک جاری رہے گی


Zaheer Akhter Bedari May 26, 2014
[email protected]

11 مئی کی دو بڑی احتجاجی تحریکوں پر تنقید حمایت اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان دونوں تحریکوں کے مقاصد اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان میں دو باتیں مشترک ہیں ایک یہ کہ دونوں تحریکیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف ہیں دوسرے یہ کہ دونوں تحریکیں باالواسطہ فوج کی حمایت میں ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تحریک کا مقصد 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانا ہے لیکن خان صاحب نے الیکشن دھاندلی کے علاوہ بعض ایسے اہم مطالبات بھی D چوک کے میدان میں پیش کیے ہیں جن کا تعلق بھی الیکشن پروسس سے ہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل پر عمران خان کو اعتراض ہے ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار ہونا چاہیے لیکن مئی 2013 کے الیکشن میں الیکشن کمیشن نے حکومت کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا اور اس کے سربراہ فخر الدین جی ابراہیم حکومت کے امپائر کی حیثیت سے کھلم کھلا جانبدارانہ کردار ادا کرتے رہے۔ اس حوالے سے عمران خان نے سابق چیف جسٹس، جسٹس افتخار محمد چوہدری پر یہ سنگین الزام لگایا ہے کہ موصوف الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں کے روح رواں رہے ہیں اور الیکشن کے عملے کو دھاندلیوں کے حوالے سے ہدایات دیتے رہے ہیں۔

عمران خان موجودہ الیکشن کمیشن کو فارغ کرکے جمہوری طریقے سے ایک ایسا آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو الیکشن کے موقعے پر حکومت کی بی ٹیم کا کردار ادا نہ کرے ۔

عمران خان کا دوسرا بڑا مطالبہ انتخابی اصلاحات ہے۔ یہ مطالبہ نیا نہیں ہے بلکہ پاکستان کی جمہوری تاریخ جتنا پرانا ہے۔ ہم خود اس مسئلے پر برسوں سے لکھتے آرہے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام مکمل طور پر اس ملک کی بدعنوان اشرافیہ کو قانون ساز اداروں میں پہنچانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے اور اس مہنگے ترین نظام میں یہ ممکن ہی نہیں کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کا کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی ایماندار مخلص عوام دوست باصلاحیت ہو الیکشن میں حصہ لے سکے۔ عمران خان انتخابی نظام میں ایسی اصلاحات چاہتے ہیں کہ عام باصلاحیت انسان بھی بغیر کسی بڑی دولت کے انتخابات میں حصہ لے سکے؟ یا ان کی انتخابی اصلاحات کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور ہے؟

11 مئی کے جلسوں جلوسوں کا دوسرا کردار شیخ الاسلام حضرت علامہ طاہر القادری ہیں۔ خطابت میں مولانا کا کوئی جواب نہیں جب بولنے لگتے ہیں تو مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ موجودہ سسٹم کو تسلیم نہیں کرتے ہماری جمہوریت کو فراڈ جمہوریت کہتے ہیں وہ اس پورے نظام کو بدلنا چاہتے ہیں وہ 66 سال سے عوام پر مسلط Status Quo کو ایک ظلم کہتے ہیں اور اسے توڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ان کے خیال میں عوامی طاقت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں یہ کام مولانا نے پیپلز پارٹی کے دور میں اسلام آباد میں دھرنا دے کر کرنا چاہا۔ یہ دھرنا اس حوالے سے تو تاریخی تھا کہ اس میں بچوں، عورتوں سمیت لاکھوں عوام نے حصہ لیا اور سردی، بارش میں ڈٹے رہے لیکن ایک کمزوری اس حوالے سے یہ تھی کہ یہ ایک منصوبہ بند اور واضح مقاصد کا حامل پروگرام نہ تھا دوسرے یہ کہ لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنا تو آسان ہوتا ہے لیکن بغیر ایک جامع منصوبے اور انتظامات کے لاکھوں عوام کو جن میں عورتیں بچے بھی شامل ہوں کئی دن سردی بارش میں سڑکوں پر بٹھائے رکھنا ممکن نہیں ہوتا ان ہی کمزوریوں کی وجہ ان کو اپنا یہ دھرنا ختم کرنا پڑا۔

طاہر القادری نے 11 مئی سے جو تحریک شروع کی ہے ان کے مطابق یہ تحریک نظام کی تبدیلی تک جاری رہے گی اور جس کی قیادت کرنے کے لیے بہت جلد وہ خود بنفس نفیس پاکستان تشریف لائیں گے۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ66 سالوں سے جو استحصالی نظام پاکستان پر مسلط ہے اسے ملک کے 18 کروڑ عوام پسند نہیں کرتے اور اس سے نجات چاہتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی نظام کو ختم کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس کا ایک بہتر متبادل پیش کرتا ہے۔ اس حوالے سے وہ جن تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں وہ اگرچہ معقول اصلاحات کہی جاسکتی ہیں لیکن یہ اصلاحات یا تبدیلیاں موجودہ نظام کا ایک بہتر متبادل نہیں کہلاسکتیں۔

عوامی تحریکوں کی قیادت کے لیے کوئی ایسی انقلابی جماعت موجود نہیں جس کے پاس Status Quo کا ایک بہتر اور بامعنی متبادل ہو۔ طاہر القادری کے نظام کی تبدیلی کے نعرے سر آنکھوں پر لیکن ان کے پاس کوئی ایسی انقلابی پارٹی موجود نہیں جو انقلاب کی بامعنی اور کامیابی کے ساتھ قیادت کرسکے۔ ان کی تحویل میں جو دو پارٹیاں ہیں ان میں سے ایک سیاسی ہے دوسری خالص مذہبی۔ مولانا اپنے عقیدت مندوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر تو لاسکتے ہیں لیکن ان کے ذریعے کوئی ایسا انقلاب نہیں لاسکتے جس کی نوعیت اقتصادیات، سیاسیات اور سماجی زندگی میں تبدیلی ہو۔ دوسری بات یہ کہ مولانا کے پاس اس کا کیا حل ہے کہ اگر لاکھوں عوام سڑکوں پر آکر سیاسی معاشی اور سماجی زندگی کو مفلوج کردیں تو اس کے نتیجے میں ہونے والی روایتی فوجی مداخلت کو کیسے روکا جائے گا؟

عمران خان کا مسئلہ نظام کی تبدیلی ہے ہی نہیں ان کی نظر وزارت عظمیٰ پر ہے لہٰذا تبدیلی کے حوالے سے شیخ الاسلام ہی عوام کے سامنے رہ جاتے ہیں۔ سو قادری صاحب اگر واقعی اس ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے وہ ایک کشتی کا انتخاب کریں۔ اور ان تمام قوتوں کو خواہ وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہوں اپنا اتحادی بنائیں جو عشروں سے اس ملک پر مسلط استحصالی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہیں اور اس اتحاد کو اتنا مضبوط اور عوام کو اس قدر طاقتور بنائیں کہ عوام کی قربانیوں کو کوئی ہائی جیک نہ کرلے۔

مقبول خبریں