اورنج میٹرو ٹرین

وزیر اعظم نواز شریف کو کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔۔۔


Dr Tauseef Ahmed Khan May 27, 2014
[email protected]

وزیراعظم میاںنواز شریف صد ر ممنون حسین کے ساتھ چین گئے ۔ انھوں نے شنگھائی میں لاہور میں میٹرو ٹرین کے منصوبے پر دستخط کیے، یہ جدید ٹرین لاہور میں چلے گی۔ اورنج میٹرو ٹرین پر 1.6ارب ڈالر خرچ ہوں گے یہ منصوبہ 27مہینے میں مکمل ہوگا ، لاہور کے شہری دنیا کی جدید ترین سہولت سے مستفیض ہونگے،میٹرو بس منصوبے کے بعد لاہور کو دنیا کے جدید ترین شہر میں تبدیل کرنے میں یہ منصوبہ اہم ترین ثابت ہوگا۔ میاں شہباز شریف ترکی کی حکومت کے تعاون سے تین سال قبل لاہور میں میٹروبس کا کامیاب تجربہ کرچکے ہیں۔

اب راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے ایسے ہی منصوبے پر کام ہورہا تھا مگر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کے سپریم کورٹ میں عرضداشت کی بنیاد پر یہ منصوبہ التواء کا شکار ہے۔ سابق صدر آصف زرداری اپنے پانچ سالہ دور صدارت میں سیکڑوں دفعہ چین گئے ۔الیکٹرانک میڈیا پر مختلف منصوبوں اور مفاہمت کے یادداشتوں پر دستخطوں کی تصاویر کروڑوں لوگوں نے دیکھی مگر ان منصوبوں پر کبھی عمل درآمد ہوتانظر نہیں آیا اور ان معاہدوں اور ایم اویوز میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ شروع کیا تھا تو اس منصوبے پر بہت سے اعتراضات ہوئے تھے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ میٹرو بس منصوبے پر خرچ کی جانے والی رقم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر خرچ کی جاتی تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں فرق آجاتا یا اس خطیر رقم سے پنجاب بھر میں سڑکوں کا جدید نیٹ ورک تعمیر ہوسکتا تھا ، یہ اعتراضات اپنی جگہ انتہائی اہم تھے۔ ان منصوبوں کو ترجیح دے کر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے صنعتی اداروں کو نئی زندگی دی جاسکتی ہے یوں بے روزگاری کی شرح کم ہوتی ، پنجاب بھر کے دیہاتوں کو چھوٹے شہروں اور پھر بڑے شہروں سے جدید سڑکوں کے ذریعے منسلک کرنے سے دیہی علاقوں میں ترقی کا عمل تیز ہوتا، بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معیشت کی بہتری سے منسلک ہے۔

لاہور ، کراچی ، اسلام آباد، فیصل آباد ، ملتان، حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتیں نہ ہونے کی بناء پر عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے ، اسے بسوں میں لٹک کر بعض اوقات چھتوں پر چڑھ کر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے پھر خواتین اور بچے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ بڑی بسوں کی عدم دستیابی کی بناء پر عام آدمی موٹر سائیکل ، منی بسوں، رکشوں ، چینی ساخت کے چنگ چی رکشوں ، ٹانگے وغیرہ کا محتاج ہوتا ہے یہ تمام سواریاں خطرنا ک اور مہنگی ہوتی ہیں، ان سواریوں کے ذریعے طویل فاصلے پر سفر کرنا اور وقت پر پہنچنا ایک درد ناک عمل ہوتا ہے ، پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا ہے۔

میاں شہباز شریف نے پہلی دفعہ پبلک ٹرانسپورٹ کی اہمیت کو سمجھا ، اگرچہ میٹرو بس کے منصوبے میں بہت خامیاں تھی ، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض مقامات پر پیسہ ضایع ہوا مگر عام آدمی کو ایک بہتر اور میٹرو سروس میسر آئی یہ منصوبہ صرف لاہور کے آدھے حصے تک محدود تھا اس لیے ضرورت تھی کہ اس کو پورے شہر میں پھیلایا جائے اور دوسرے شہروں میں بھی یہ نظام قائم کیا جائے مگر اب میٹرو ٹرین کے منصوبے سے یہ کمی دور ہوجائے گی ۔ لاہور کے مقابلے میں کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو عام آدمی کی تکالیف اور حکمرانو ں کی بے حسی کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔ 14اگست 1947کو قیام پاکستان کے وقت کراچی میں ٹرام وے اور ڈبل ڈیکر بس چلتی تھی ۔

کہا جاتا ہے کہ کراچی میں ٹرام ممبئی سے پہلے چلی تھی ، نئی آبادیوں کے قیام کے ساتھ بڑی بسیں چلنے لگیں، اس کے ساتھ رکشے اورٹیکسیاں آسانی سے مل جاتی تھی ، جنرل ایوب خان کے دور میں سرکلر ریلوے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوا ۔ سرکلر ریلوے نے ایک طرف کیماڑی سے پپری دوسری طرف سائٹ ، ناظم آباد ، لیاقت آباد ، گلشن اقبال اور ڈرگ روڈ کو ایک دوسرے سے منسلک کردیا ۔ ملیر لانڈھی، شاہ فیصل کالونی کے لاکھوں مکین آدھے گھنٹے کی مسافت میں سٹی اسٹیشن پہنچ جاتے تھے مگر سڑک پر بڑی بس علیحدہ موجود ہوتی تھی ۔ دن دو بجے کے بعد سٹی اسٹیشن سے یہ آپریشن پپری اور دوسری طرف وزیر مینشن سائٹ ، ناظم آباد، گلشن اقبال کی سمت ہوتا تھا ، بیورو کریسی نے ریلوے کے معاملات کو خراب کرنا شروع کردیا ۔ ٹرام وے سروس کے خلاف مہم چلائی گئی کہ اس سے سڑکوں پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

عجیب صورتحال تھی کہ سڑکوں پر سے تجاوزات ختم کرنے ان کو چوڑا کرتے اور ٹرام کی پٹری کے لیے علیحدہ جگہ مختص کرنے اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرانک ٹرام چلانے کے بجائے اس جدید سواری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، ٹرام کی جگہ پیلے رنگ کی منی بسوں کو رائج کیا جانے لگا اور سرکلر ریلوے کا نظام ایک منصوبے کے تحت خراب کیا جانے لگا ، ریل گاڑیاں لیٹ ہونے لگی ، اس زمانے میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیر نگرانی بڑی بسیں شہر میں چلتی تھی۔

سویڈن نے ایئر کنڈیشنڈ بسوں کا ایک فلیٹ کے ٹی سی کو تحفے میں دیا تھا ان بسوں میں پبلک ایڈریس سسٹم نصب تھا اور آٹو میٹک دروازے تھے مگر کے ٹی سی میں انتظامی اور مالیاتی بحران پیدا ہونا شروع ہوا ، بسیں خراب ہونے لگی ، ڈرائیور اور کنڈیکٹر ڈیوٹی سے لاپتہ ہونے لگے یوں عوام کا ہجوم سڑکوں پر نظر آنے لگا ، بعد ازاں منی بسوں کا جال پورے شہر میں پھیلادیا گیا ۔ برسر اقتدار حکومتوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو اہمیت نہیں دی ، یوں اس مسئلے نے لسانی رنگ اختیار کرلیا ، پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے پر 1986، 1987 میں شہر میں خون ریز فسادات ہوئے ۔

آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)ان فسادات میں ابھر کر سامنے آئی جوبعد میں الطاف حسین کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی یوں کراچی شہر 1999تک ان فسادت کی زد میں رہا ۔ برسر اقتد ار آنے والی حکومتوں نے میٹرو بس، گرین بس وغیرہ چلا کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کیں مگر جامع منصوبہ بندی نہ ہونے کی بناء پر عوام کی مشکلات بڑھتی چلی گئیں ۔ ایوب خان کے دور میں کراچی کے لیے ماس ٹرانزٹ منصوبے کے لیے ایک سیل بنایا گیا مگر اس منصوبے پر کا م نہیں ہوا، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کا باغ جناح میں سنگ بنیاد رکھا مگر منصوبے پر عمل درآمد محض فائلوں تک محدود رہا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد پہلے جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اللہ پھر ایم کیو ایم کے ناظم مصطفیٰ کمال نے شہر میں بڑی سڑکیں ، اوور ہیڈ برج ، انڈر پاس کا جال پھیلایا ، خاص طور پر مصطفی کمال کے دور میں سڑکوں اوورہیڈ برج کے حوالے سے شہر کی سمت تبدیل کردی مگر پبلک ٹرانسپورٹ کا معاملہ مکمل طور پر نظر انداز رہا ۔

گزشتہ دس سالوں سے کراچی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ شہر میں بڑی بسیں موجو د نہیں ہیں ، کاروباری حالات خراب ہونے کی بناء پر منی بسوں کی سرمایہ کاری رک چکی ہے ، شہر میں چین کے تیار کردہ چنگ چی رکشوں کی بھرمار ہے ۔ یہ چنگ چی رکشے پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف میں نہیں آتے مگر شہریوں کے پاس ان میں سفر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔جس دن شہر میں CNG بند ہوتی ہے بسیں اور منی بسیں کم ہوجاتی ہیں ۔ ان دنوں مرد ، عورتیں ، بچے بس اسٹاپوں پر کھڑے رہتے ہیں اور بیشتر لوگ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں سرکلر ریلوے کو منظم کرکے ایک منصوبے کا ذکر ہوا تھا ، ایک ریل گاڑی ڈرگ روڈ اسٹیشن سے سٹی اسٹیشن پہنچی پھر لاپتہ ہوگئی ، اخبارت میں یہ خبریں شایع ہوئی تھی کہ جاپانی حکومت سرکلر ریلوے کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرے گی مگر اب ذرایع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت مختلف وجوہات کی بناء پر اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے فیصلے پر نظر ثانی کررہی ہے ۔سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زرداری صاحب سیکڑوں بار چین گئے مگر میٹرو ٹرین منصوبہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔

وزیر اعظم نواز شریف کو کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے ، شہر میں بڑی بس ، ٹرام اور میٹرو ٹرین چلنی چاہیے ورنہ ملک کی ترقی متاثر ہوگی۔ اب اگر صرف لاہور میں میٹرو ٹرین چلے گی اور کراچی شہر پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم رہے گی تو طالع آزما قوتوں کے ایجنٹوں کو مسلم لیگی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کا موقع ملے گا یوں اس معاملے کو صوبوں کے درمیان نفرت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں