فنڈزکی عدم دستیابی برآمدی ہدف میں ناکامی کی وجہ

توانائی بحران، بدامنی اورپیداواری لاگت میں اضافہ بھی برآمدی ہدف میں رکاوٹ بنا


ایکسپریس July 11, 2012
توانائی بحران، بدامنی اورپیداواری لاگت میں اضافہ بھی برآمدی ہدف میں رکاوٹ بنا

اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2009-12 کے تحت 25 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل نہ کیا جا سکا، وزارت تجارت نے 30 جون کو ختم مالی سال میں 23 ارب ڈالر کی برآمدات کا تخمینہ لگایا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی کابینہ نے جولائی 2009کو 3 سالہ اسٹریٹجک تجارتی پالیسی فریم ورک کی منظوری دی جس پر عملدرآمد کیلیے 35 ارب 22 کروڑ روپے مانگے گئے تاہم وزارت خزانہ نے صرف 3 ارب روپے جاری کیے،سال 2006-11 تک 18.82 ارب روپے کا ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ جمع کیا گیا لیکن صرف 7.34 ارب روپے فنڈ جاری ہوا، فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے پالیسی فریم ورک پرعملدرآمد نہیں کیا جا سکا ، 27 میں سے 20 اقدامات پر کسی حد تک عمل درآمد کیا گیا۔

دستاویزکے مطابق توانائی بحران ، بدامنی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی اقتصادی بحران بھی برآمدی ہدف کے حصول میں ناکامی کی وجوہ ہیں، نئی مارکیٹیں تلاش نہیں کی جا سکیں، بیرون ملک تعینات کمرشل قونصلرز کی ناقص کارکردگی سے بھی ملکی برآمدات متاثر ہوئیں۔ وزارت تجارت آئندہ 3 سال کیلیے اسٹریٹجک تجارتی پالیسی فریم ورک 2012-15بھی تیار کر رہی ہے، سرکردہ چیمبرز آف کامرس اور اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور ان کی سفارشات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، بین الوزارتی مشاورت کے بعد سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی جائیگی، کابینہ سے منظوری کے بعد رواں ماہ جولائی یا اگست میں نئے تجارتی پالیسی فریم ورک کا اعلان کر دیا جائیگا۔