حصص مارکیٹ مندی کا شکار 29 ہزار کی حد گرگئی

بجٹ میں ریلیف نہ ملنے کی اطلاع پرآئل، بینکنگ اور دیگر شعبوں میں فروخت، انڈیکس61 پوائنٹس کمی سے 28 ہزار 987 ہوگیا


Business Reporter May 29, 2014
بجٹ میں ریلیف نہ ملنے کی اطلاع پرآئل، بینکنگ اور دیگر شعبوں میں فروخت فوٹو: پی پی آئی/فائل

نئے وفاقی بجٹ میں ریلیف نہ ملنے کی اطلاع اور محدود تجارتی سرگرمیوں کے سبب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی اتارچڑھائو کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی29000 کی نفسیاتی حد ایک بارپھر گرگئی۔

مندی کے باعث45.54 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید17 ارب33 کروڑ88 لاکھ 5 ہزار120 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ چند مخصوص کمپنیوں میں خریداری سرگرمیوں کے نتیجے میں مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے بچ گئی حالانکہ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر94.27 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی29100 کی حد بحال ہوگئی تھی جو بعدازاں آئل بینکنگ سمیت دیگر شعبوں میں فروخت کی شدت بڑھنے سے مندی میں تبدیل ہوگئی۔

ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 1 کروڑ19 لاکھ93 ہزار233 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے74 لاکھ14 ہزار679 ڈالر اور میوچل فنڈز کی جانب سے45 لاکھ78 ہزار554 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس60.89 پوائنٹس کی کمی سے 28987.32 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس109.27 پوائنٹس کی کمی سے19786.97 اور کے ایم آئی30 انڈیکس124.25 پوائنٹس کی کمی سے 45935.06 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت34.14 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ1 لاکھ21 ہزار800 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 382 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں177 کے بھائو میں اضافہ، 174 کے داموں میں کمی اور31 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔