کاشت میں کمی کی اطلاعات پر روئی کی قیمتوں میں استحکام

پاکستانی ٹیکسٹائل ملز نے خدشات کے پیش نظر ابھی سے آسٹریلیا سے روئی خریدنا شروع کردی، احسان الحق


Ehtisham Mufti June 02, 2014
ڈالر کی قدر دوبارہ گرنے پرآسٹریلیا سے زیادہ مقدار میں خریداری کے باعث نرخ کم ہوسکتے ہیں، ممبرپی سی جی اے۔ فوٹو: فائل

نیویارک کاٹن ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیاں امریکا اورآسٹریلیا میں ہونے والی بارشوں کی زیراثر رہی۔

ان بارشوں کی وجہ سے امریکا وآسٹریلیا میںکپاس کی پیداوارابتدائی تخمینوں کی نسبت زائد ہونے کی توقعات نے گزشتہ ہفتے نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں مندی کے رجحان کو برقرار رکھا جبکہ پاکستان میں کپاس کی کاشت ریکارڈ کمی کی اطلاعات نے مقامی کاٹن مارکیٹس میں ہفتے وار کاروبار کے دوران روئی کی قیمتوں کو استحکام بخشا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کابحران برقرار رہنے سے ٹیکسٹائل ملوں کی پیداواری سرگرمیاں متاثر رہنے سے بیشترٹیکسٹائل ملیں بندش کی جانب گامزن ہیں اور اگراس ضمن میں انقلابی نوعیت کے اقدامات بروئے کار نہ لائے گئے توانڈسٹری تباہی کی جانب گامزن ہوجائے گی اور روئی کی قیمتیں بھی غیرمستحکم ہوں گی۔

ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن(پی سی جی اے) احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 24 مئی تک پنجاب بھر میں صرف 36.51 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت مکمل ہو سکی تھی جبکہ رواں سال پنجاب میں کپاس کی کاشت کا ہدف60لاکھ ایکڑ مختص کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں رواں سال کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ نا موافق موسمی حالات ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران بھی پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ جارہا تو کپاس کی کاشت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے ان خدشات کے پیش نظر ابھی سے آسٹریلیا سے روئی کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ اکتوبر/نومبر کے دوران انہیں روئی کی دستیابی میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان آسٹریلیا سے 90/91سینٹ فی پائونڈکے حساب سے روئی کی خریداری کر رہے ہیں جو اکتوبر /نومبر تک پاکستان پہنچ جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ اگر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں دوبارہ کمی واقع ہوئی تو پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان آسٹریلیا سے زیادہ مقدار میں روئی خرید سکتے ہیں جس سے رواں سال پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو یارک کاٹن ایکسچینج میںحاضر ڈلیوری روئی کے سودے0.15سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد90.85سینٹ فی پائونڈ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے0.04سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد86.27سینٹ فی پائونڈ تک گر گئے۔ بھارت میں روئی کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران1252روپے فی کینڈی کمی کے بعد41ہزار46روپے فی کینڈی تک گر گئیں جبکہ چین میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار900روپے فی من تک مستحکم رہے جبکہ پاکستان میں روئی کی قیمتیں6ہزار900روپے سے 7ہزار روپے فی من تک مستحکم رہیں۔

احسان الحق نے بتایا کہ وفاقی وزیر ٹیکسٹائل عباس خان آفریدی نے گزشتہ ہفتے کے دوران لاہور میں پی سی جی اے، اپٹما اور دیگر ٹیکسٹائل تنظیموں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چین سے ایسی ٹیکنالوجی درآمد کر رہے ہیں جس سے پاکستانی کپاس کی پیداوار میں کم از کم 30فیصد اضافہ ہو جائے گا جو کہ بظاہر کروڑوں روپے کے ضیاع کا کوئی منصوبہ لگ رہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں مثبت نتائج کا حصول ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اچھی اور بر وقت حکمت عملی سے حاصل ہوتاہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میںکپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے کوئی ٹھوس اور جامع حکمت عملی نظر نہیں آ رہی جس میں خاص طور پر کراپ زوننگ قوانیں پر سختی سے عمل درآمدکروانا شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کپاس کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج کپاس کاشت کرنے والے علاقوں میں گنے کی بڑھتی ہوئی کاشت ہے جس کے باعث کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ گنے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کے باعث کپاس کی فصل پر وائرس کا حملہ ہے جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ اس کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز کے قیام پر پابندی کے باوجودپنجاب کے کپاس پیدا کرنے ایک بڑے ضلع رحیم یار خان اور سندھ کے ضلع گھوٹکی میں کئی نئی شوگر ملز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس کے باعث ان اضلاع کے ساتھ ساتھ پنجاب کے اضلاع بہاولپور،راجن پور اور ڈیرہ غازی خان جبکہ سندھ کے اضلاع سکھر،نوشیروفیروز اور خیر پور میں ہر سال کپاس کی کاشت میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر ٹیکسٹائل کو چاہیے کو وہ پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی اضافے کے لیے کراپ زوننگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے ساتھ ساتھ آمدہ وفاقی بجٹ میں زرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی اور ان پر عائد جی ایس ٹی ختم کروائیں جبکہ کاٹن پروڈکٹس کی درآمد یا برآمد پر ڈیوٹیز کا نفاذ صرف اور صرف کاشت کاروں کے فائدے کے لیے کیا جائے جس کے بعد ہمیں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلیے کسی ملک سے کوئی بھی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

مقبول خبریں