ورلڈ کپ2022 کا میزبان قطر شکوک کی زد میں آگیا

آسٹریلیا اور برطانیہ نے کرپشن کے الزامات درست ثابت ہونے پر’ازسرنوووٹنگ ‘ کا مطالبہ کر دیا


Sports Desk/AFP June 03, 2014
اگر ’’سنڈے ٹائمز‘‘ میں آنے والے کرپشن شواہد درست ثابت ہوجاتے ہیں تو پھر دوبارہ ووٹنگ کی جانی چاہیے، آسٹریلیا اور برطانیہ۔ فوٹو: فائل

ورلڈ کپ2022کا میزبان قطر شکوک کی زد میں آ گیا،فیفا کے مطابق2018 اور2022 کے میگا ایونٹس کی میزبانی بڈزکے معاملے پر جاری تحقیقات 9 جون تک مکمل ہوجائیں گی۔

فٹبال آسٹریلیا پہلے ہی ان الزامات کو'سنجیدہ پیشرفت' قراردے کردوبارہ ووٹنگ میں شامل ہونے کا عندیہ دے چکا، اسے ابتدائی مرحلے میں قطرکے ہاتھوں شکست ہوگئی تھی، دوسری جانب برطانوی حکومت اور فٹبال آفیشلز کا بھی کہنا ہے کہ اگر ''سنڈے ٹائمز'' میں آنے والے کرپشن شواہد درست ثابت ہوجاتے ہیں تو پھر دوبارہ ووٹنگ کی جانی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق 2022 فٹبال ورلڈ کپ کا قطر میں انعقاد خطرے میں پڑچکا ہے۔

فیفاکی جانب سے 2018 ( روس ) اور 2022 (قطر) کو دی جانے والی میزبانی پیشکشوں پر ہونے والی تحقیقات 9 جون تک مکمل ہوجائیں گی، تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ امریکی اٹارنی نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر کئی ماہ تک گواہوں کے انٹرویوز اور مواد جمع کرلیاگیا، وہ اپنی تحقیقات کا یہ مرحلہ 9 جون تک مکمل کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد تقریباً6 ہفتوں میں رپورٹ جمع کرادیں گے۔

دوسری جانب انگلش میڈیا میں محمد بن حمام کی فیفا ممبران پر اثرانداز ہونے کے لیے رقم دینے کی دستاویزات منظرعام پر آنے سے قطرکیلیے مشکلات بڑھ گئی ہیں،آسٹریلیا سمیت کئی حلقوں کی جانب سے ورلڈ کپ میزبانی کیلیے نئی ووٹنگ کیلیے دبائو بڑھایا جا رہا ہے، فیفا نے برطانوی میڈیا کی رپورٹ پر کوئی رائے نہیں دی جس میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ اے ایف سی کے سابق چیف محمد بن حمام نے قطر کو میزبانی دلانے کیلیے ممبران کو رشوت دی تھی۔

فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا ( ایف ایف اے ) نے کہا ہے کہ ہم فیفا کرپشن تحقیقات میں پوری طرح دلچسپی لے رہے ہیں،اس سلسلے میں تمام دستاویزات پیش کرچکے ہیں، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہم دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی کی دوڑ میں شامل ہونے کیلیے تیار ہیں، کوریا فٹبال ایسوسی ایشن ( کے ایف اے ) نے اس معاملے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ابھی تک میڈیا میں آنے والے شواہد کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے کوئی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، ہم فیفا تحقیقات کی رپورٹ کا انتظار کریں گے، اس کے بعدکوئی فیصلہ کرپائیں گے۔