حکومت طالبان سے مذاکرات پر واضح پالیسی اختیار کرے رضا ربانی

مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ پیش، فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل مسترد


News Agencies June 07, 2014
ڈرون حملے رک چکے ہیں تو اصولاً دہشت گرد حملے بھی رک جانا چاہیے تھے، راجا ظفرالحق۔ فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر میاں رضا ربانی نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات پر صورتحال کی وضاحت ہونی چاہیے۔

اے پی پی کے مطابق جمعے کو ایوان بالا میں سینیٹر رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ فتح جنگ کے قریب خودکش حملے میں2 فوجی افسران اور عام شہری بھی جاں بحق ہوئے، تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں، صورتحال کی وضاحت ہونی چاہیے، حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ سینیٹر ڈاکٹر سعیدہ اقبال نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میٹرو بس منصوبہ ایک ترقیاتی منصوبہ ہے لیکن اسلام آباد کے آئی اور جی سیکٹر میں پانی کی قلت ہے، صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔

سینیٹر افراسیاب خٹک نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ فاٹا میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق جمعے کو قائد ایوان سینیٹر راجا ظفر الحق نے مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ 2012-13 ایوان میں پیش کی۔ سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز پیر سے ہو گا۔ آن لائن کے مطابق رضا ربانی کے ایک نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے راجا ظفر الحق نے کہا کہ پہلے یہ دلیلیں پیش کی جاتی تھیں کہ حملے رد عمل کے طور پر کیے جاتے ہیں تاہم اب جبکہ ڈرون حملے رک چکے ہیں تو اصولاً دہشت گرد حملے بھی رک جانا چاہیے تھے جو کہ ابھی تک جاری ہیں۔

مقبول خبریں