کرکٹ میچ جیتنے کی مبارک باد

ان دنوں گرمی کتنی ہے یہ ان کو معلوم ہے جو گرمی سے براہ راست مقابلہ کر رہے ہیں


Abdul Qadir Hassan June 10, 2014
[email protected]

ان دنوں گرمی کتنی ہے یہ ان کو معلوم ہے جو گرمی سے براہ راست مقابلہ کر رہے ہیں لیکن میں جو ایک دیہاتی ہوں' یوں حسب روایت ایک گھنے درخت کے نیچے دیسی چارپائی پر بیٹھا ہوا ہوں۔ قریب ہی تکیہ بھی پڑا ہے، کبھی اس کے ساتھ ٹیک لگا لیتا ہوں۔ بجلی کا ایک پنکھا بھی لگا ہوا ہے جس کے چلانے والے جب چاہتے ہیں اسے چلا دیتے ہیں۔ ورنہ وہ اپنے بڑے بڑے پروں کے ساتھ گم صم کھڑا رہتا ہے۔ قدرتی ہوا کے کسی کند جھونکے کے ساتھ کبھی یہ پر حرکت میں آجاتے ہیں لیکن چند سیکنڈ کے لیے پھر وہی خاموشی۔ میں اس دیسی چار پائی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہوں۔

آج اتوار ہے اور بہت سارے اخبارات سامنے رکھے ہیں۔ ان کی خبروں میں سیاستدانوں کی طرح وہ چھوٹی خبریں بھی ہیں جو میں نے ٹی وی پر اصل حالت میں دیکھی ہیں روتے بلکتے ہوئے غشی کے دوروں کے ساتھ۔ ان خبروں میں عمران خان کا سیالکوٹ والا جلسہ بھی ہے جس میں انھوں نے اپنا پرانا ووٹوں کی گنتی والا مطالبہ پھر اٹھایا ہے۔ کسی بات اور مطالبے کو بار بار رگڑنا چاہتے یہ سیاستدان خود بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں تو خدا نے توفیق دی تو الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن پہنچ جائیں گے اور کسی صندوقچی میں ووٹ ڈال دیں گے جن کی گنتی بعد میں ہوتی رہے گی یا نہ ہو گی۔ محض ایک مطالبہ بن جائے گی۔

اس وقت تو میرے سامنے مصر کی ایک اسلامی جماعت اخوان المسلمون کی خبر ہے جس میں چند مزید اخوانوں کو پھانسی دینے کا حکم صادر کیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے میں اپنے وزیراعظم کی خانگی کرکٹ ٹیم کو فتح کی مبارک باد دیتا ہوں۔ جناب وزیراعظم کی خاندانی فرد و گاہ جاتی عمراء میں اتوار کو ایک زبردست کرکٹ میچ ہوا۔ اس میں دو ٹیمیں تھیں ایک تو وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں دوسری ان کے بھائی اور بھتیجے شہباز شریف اور حمزہ شریف کی قیادت میں۔ یہ میچ وقت کے مطابق جاری رہا اور میاں صاحب کی جیت پر ختم ہوا۔ میں اس جیت اور کامیابی پر میاں صاحب کو دل کھول کر مبارک باد دیتا ہوں۔

خدا کرے وہ بھارت کے خلاف کسی میچ میں بھی سرخرو ہوں جس کا امکان مجھے کم نظر آتا ہے۔ ہاں البتہ اس بھارتی ٹیم میں اگر ہیما مالنی قسم نسل اور شکل و صورت کی کوئی کھلاڑی ہو تو میچ کا نتیجہ اچھا نکل سکتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم پرانے بھارتی فلمی گانوں اور گانے والیوں اور ان گانوں پر اداکاری کرنے والیوں کو بہت پسند کرتے ہیں جو ان کی خوش ذوقی کا ثبوت ہے۔ میاں صاحب نے اچھے وقتوں میں لاہور کے ایک بہتر مقام پر بہت کچھ بنا لیا تھا۔ محلات کے علاوہ کرکٹ گرائونڈ وغیرہ بھی جو ان کے شاہانہ ذوق کی تسکین کا بہتر ذریعے بنتے ہیں۔

اس مقام پر اور بھی بہت کچھ موجود ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ہمارے جیسے عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کہیں یک جا اتنی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً چڑیا گھر جس کے ایک مور نے ہماری ثقافتی تاریخ میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے خوشنما پرندے ہیں جو اس چڑیا گھر کی زینت ہیں۔ بھینسوں کا ایک باڑہ بھی ہے جس میں اعلیٰ نسل کی بھینسیں گرمیوں میں برقی فواروں سے مسلسل نہلائی جاتی ہیں۔ کاش کہ میں بھی ایک 'مجھ' ہوتا اور اس گرمی میں فواروں کی تیز ٹھنڈی دھاروں سے لطف اندوز ہوتا لیکن یہ سب اپنی اپنی قسمت ہے۔ کوئی مور ہے کوئی کٹا ہے اور کوئی میرے جیسا نہ جانے کیا ہے نہ مور نہ کٹا نہ مجھ ایک منشی۔

یہ کالم میں نے ایک ماتم سے شروع کیا تھا جو مصر کے اخوان کی خبر سے متعلق تھا۔ ہمارے مرشد اور قائد حسن البنا جو پیشہ ورخاندانی لوہار تھے عرب دنیا میں اس دین کے عملاً نفاذ کے لیے ایک تحریک کی بنیاد رکھی نام تجویز ہوا اخوان المسلمون۔ مسلمان بھائی لیکن اللہ ہی جانتا ہے یہ تحریک کس گھڑی میں کھڑی کی گئی کہ اس کی تاریخ میں قدم قدم پر شہادت ہی ہے۔ تحریک کے مرشد عام حسن البنا شہید ہو گئے۔ ان کے بعد ان کے کئی علمی فکری اور عملی جانشین شہادت کے اعزاز سے معزز ہوئے۔

اب تک کسی نہ کسی بہانے ان کے ارکان اور کارکنوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے اب جن کو سزا دینے کا اعلان ہوا ہے ان میں سے چند ایک نے راستہ روکا تھا۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اس جماعت کے شہادت کا اعزاز اتنا عام کر دیا ہے کہ کسی نہ کسی بہانے وہ اس اعزاز سے متصف ہوتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میرے جیسا ایک عام آدمی کیا کہہ سکتا ہے سوائے جھک کر سلام کرنے سے اور اس دعا سے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا کوئی اعزاز ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔

اخوان کے بعد ہمارے ہاں بھی ایک زندہ عظمت نے جماعت اسلامی نام سے ایک جماعت بنائی اور اس کا پیغام اتنا عام ہوا کہ یہ جماعت دنیا بھر کے مسلمان مجاہدین کے لیے ایک نمونہ بن گئی۔ مغربی افریقہ سے لے کر انڈونیشیا تک اس کے پیغام کو قبول کیا گیا اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نام بلند ہوا۔ عرب دنیا کے اخوان فخر کرتے ہیں کہ ان کی تحریک کا نعرہ برصغیر پاک و ہند میں بھی گونج رہا ہے۔ پاکستان میں جماعت پر مشکل وقت آتے رہے۔ سید مودودی پھانسی کی سزا سے بچ تو گئے لیکن ایک تاریخ بنا گئے۔ سزائے موت سننے کے بعد اس کی یک طرفہ معافی تک سید مودودی نے جس کردار کا نمونہ پیش کیا ان کے ساتھیوں نے اس کے ایک ایک لمحے کو ذہنوں میں محفوظ کر لیا۔

کیا المیہ ہے کہ ان کے اس زمانے کے قیدی ساتھیوں میں سے شاید اب کوئی بھی زندہ نہیں ہے لیکن ان کے ہمنوا اخوان اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور بات بات پر موت کو گلے لگا لیتے ہیں مگر اپنے مشن اور مقصد سے دور نہیں ہوتے۔ میں دیسی آرام دہ پلنگ پر بیٹھا ان کو یاد کر رہا ہوں اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہوں اور یہ نہیں بھولتا کہ میرے وزیراعظم نے گھریلو میدان میں سیاسی کرکٹ کا میچ جیت لیا ہے جس دن کی رات کو اس کے سب سے بڑے فضائی مرکز پر بھارتی دشمنوں نے حملہ کر دیا۔ ہمارے وزیراعظم کو اپنے دوست نریندر مودی صاحب سے اس کی شکایت ضرور کرنی چاہیے۔ بھارتی دوستوں نے میچ کی کامیابی کی خوشی خراب کر دی، آخر پڑوسی کا بھی کوئی حق ہوتا ہے۔

مقبول خبریں