توانائی منصوبوں کیلیے 500 ارب رکھے گئے ہیں مفتاح اسماعیل

کراچی میں میٹرو بس اور ٹرین سروس جیسے منصوبوں پر توجہ دی جارہی ہے، چیئرمین بی او آئی


Business Reporter June 10, 2014
حکومت فارن انوسیمنٹ کیلیے سرگرم ہے، راشد صدیقی کا عشائیہ، ایس ایم منیر، میاں زاہد کا خطاب۔ فوٹو: فائل

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت مقامی اوربیرونی سرمایہ کاروں کے مسائل کوترجیح بنیادوں پر حل کرنے پرعمل پیرا ہے۔

ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پانچ سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ کراچی میں جدید ترین ٹرانسپورٹ کے نظام کے لیے میٹرو بس اور ٹرین سروس جیسے منصوبوں پرتوجہ دی جارہی ہے۔ یہ بات انہوں نے مقامی صنعتکار راشد احمد صدیقی کے عشائیے سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کارڈ بورڈ ملک میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جاتی بنیادوں پر سیمینارز کا انعقاد کرکے آگہی فراہم کی جارہی ہے۔

ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف اورانکی پوری ٹیم ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کے لیے سرگرم عمل ہے جبکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ حکومت پر بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو بھرپورمراعات فراہم کی گئی ہے جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ بھی رونما ہوگا اور لاکھوں افراد کو روزگار بھی مہیا کیا جاسکے گا۔ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی موجودہ حکومت کی سرمایہ دوست پالیسیوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے بہترین منافع حاصل کرسکتے ہیں۔

اس موقع پرمیاں زاہد حسین نے کہا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے تاجروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت نے ٹیکس گزاروں پر ٹیکسوں کا کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالاجو کہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کیلیے ون ونڈو آپریشن کا نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ تقریب کے میزبان راشد احمد صدیقی نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاروں کوراغب کرنے کیلیے سب سے پہلے امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تجارتی وکاروباری صورتحال ماضی کی نسبت بہتر ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔