ورلڈ کپ کی افتتاحی کک معذور نوجوان لگائے گا

برازیلین ڈاکٹر نیکولس کی حیرت انگیز ایجاد سے ناممکن کو ممکن بنانے کی تیاریاں مکمل


AFP June 10, 2014
برازیلین ڈاکٹر نیکولس کی حیرت انگیز ایجاد سے ناممکن کو ممکن بنانے کی تیاریاں مکمل۔

فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی کک روبوٹ سوٹ میں ملبوس معذور نوجوان لگائے گا، برازیلین ڈاکٹر میگوئل نیکولس اپنی حیرت انگیز ایجاد کی نمائش دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر کرنے والے ہیں۔

معذور نوجوان وہیل چیئر سے اٹھ کر کک لگائے گا، اس کے تمام مصنوعی اعضا دماغ کے سگنلز پرکام کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب جمعرات کو سائوپائولو میں ہوگی جس میں 65 ہزار تماشائی موجود ہوں گے، ان کے سامنے میگا ایونٹ کی پہلی کک کوئی نامور فٹبالر کے بجائے ایک جسمانی طور پر مضبوط نوجوان لگائے گا، پروگرام کے تحت وہ وہیل چیئر پر ہوں گے تاہم انھوں نے روبوٹ جیسا لباس زیب تن کررکھا ہوگا، اچانک وہ گول پوسٹ کے قریب وہیل چیئر پر سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور گیند کو کک لگائیں گے، وہ یہ سب کچھ اپنے دماغ سے جاری ہونے والے سگنلز کی مدد سے کریں گے جبکہ ان کے مصنوعی اعضا پر لگی مصنوعی جلد کے ذریعے فوراً ان کویہ علم جائیگا گیند پر ٹانگ نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔

یہ مختلف روبوٹک سوٹ برازیلین ڈاکٹر میگوئل نیکولس نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 156 سائنسدانوں کی مدد سے تیار کیا ہے، اس کی بدولت معذور شخص چل پھر سکتا ہے، ڈیوک یونیورسٹی کے نیوروسائنسدان نکولس نے کہاکہ یہ پہلاموقع ہے جب دماغ کی قوت سے مصنوعی اعصاب نہ صرف کام کرتے بلکہ فیڈ بیک دوبارہ دماغ کوبھی بھیجتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس سوٹ کی تیاری کا آئیڈیا 2002 میں آیا، 2009 میں ہمیں معلوم ہوا کہ ورلڈ کپ برازیل میں ہونے والا ہے اس لیے ہم نے یہ ایجاد کی تاکہ اس کی بدولت برازیل کا نیا چہرہ سامنے لایا جاسکے۔

اس ٹیکنالوجی کی تیاری پر آنے والے کثیر اخراجات پر کافی اعتراضات بھی کیے جارہے ہیں ، ڈاکٹر میگوئل نے حکومت سے اس منصوبے کیلیے 14 ملین ڈالر وصول کیے تاہم نکولس کا کہنا ہے کہ یہ رقم زیادہ بڑی نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے صرف مکینیکل بازو بنانے کیلیے اس سے دہری رقم خرچ کی گئی تھی۔