یہ تُنور والے
بہر کیف یہ حادثہ تو جو ہونا تھا وہ ہو ہی گیا۔ اب ہم زیادہ سے زیادہ رو پیٹ سکتے ہیں ان مرحومین کے عزیزوں کی ...
کراچی ایئر پورٹ پر آٹھ دس پاکستانی ایک تپتے تنور میں کئی دوسرے پاکستانیوں کی لاپرواہی کی وجہ سے جل گئے۔ ان کی پاکستانی شکلیں بگڑ گئیں۔ یہ سب کس اذیت سے گزرے اور باہر والوں کو پکارتے رہے لیکن خبریں یہ ہیں کہ کسی نے ان کی پرواہ نہ کی بلکہ ماہرین نے یہانتک بھی کہہ دیا کہ اب انھیں کسی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ بس خدا کو یہی منظور تھا اسے کون روک سکتا ہے۔ پھر کچھ دیر بعد ان سوختہ پاکستانیوں کو نکال لیا گیا۔ وہ جل بھن چکے تھے۔ اس قدر کہ ان کے عزیز بھی ان کی شکلیں نہ پہچان سکے۔
باہر والوں کو ان کے نام معلوم تھے کیونکہ یہ ڈیوٹی پر تھے اور ناموں کے ساتھ ڈیوٹی ادا کرتے رہے اور اسی ڈیوٹی یعنی فرض کی ادائیگی کے دوران باہر بیٹھے پاکستان کے فرض شناسوں کی لاپرواہی کے شکار ہو گئے۔ حکومت نے ان کے ورثاء کے لیے لمبی چوڑی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ لاکھوں روپے اور نئے گھر۔ یہ نئے گھر یقیناً اس تنور سے بہتر ہوں گے جس میں انھوں نے زندگی کے آخری لمحے گزارے۔ ہمارے حکمران ان عطیوں کا اعلان کرتے ہوئے شاید یہ بھول گئے کہ ان کے یہ گھر ائر کنڈیشنڈ بھی ہوں گے اور ان کے مکین گرمی سے جھلس کر نہیں مریں گے۔ انسان کتنا بے رحم ہوتا ہے کہ سرکاری خرچے پر بھی کنجوسی دکھا جاتا ہے ورنہ ان گھروں کو ائر کنڈیشنڈ کر کے ان کے مکینوں کو ان کے پیاروں کی یاد سے ذرا دور رکھتے جو کسی تنور میں جل مر گئے۔
بہر کیف یہ حادثہ تو جو ہونا تھا وہ ہو ہی گیا۔ اب ہم زیادہ سے زیادہ رو پیٹ سکتے ہیں ان مرحومین کے عزیزوں کی طرح لیکن اس حادثے کا ایک پہلو ایسا ہے کہ وہ ان جلے ہوئے ناقابل شناخت پاکستانیوں کی یادوں کی تلخی کو کچھ کم کر سکتا ہے۔ میرا خیال ہے یہ تنور اپنی بھیانک صورت میں اب بھی موجود ہو گا اور یہ وہی کام کرنے کے قابل بھی ہو گا جو کر چکا ہے یعنی چند پاکستانیوں کو جلانے والا کام۔ اب یہ بڑا آسان سا علاج ہے اس فعل کی سزا کا۔ وہ لوگ جو باہر کہیں محفوظ بیٹھے ہیں۔ سینڈوچز قسم کی خوراک سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور یہ اطمینان رکھتے ہوں گے کہ اب وہ تو بے گناہ ٹھہر چکے ہیں اس لیے اپنی بے گناہی سے لطف اندوز ہوں۔
اخبار والے ان کی کوتاہی کا ذکر کرتے ہیں لیکن بلا ثبوت۔ جو اوپر سے افسر لوگ ہیں وہ اپنے ان ماتحتوں کی بے گناہی سے مطمئن ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کو نافذ کر چکے ہیں کہ جو لوگ ان جلنے والوں کو بچانے پر مامور تھے وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ میں جو ایک عام سا صحافی ہوں اور اس تکنیکی عمل سے بے بہرہ ہوں کہ ان لوگوں کو جلنے سے بچایا جا سکتا تھا کیونکہ بعض خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ بے قصور نہیں تھے اور اپنے پاکستانی بھائیوں کو بچا سکتے تھے مگر یہ خبریں ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتیں تاہم کراچی ایئر پورٹ والوں کا یہ تاثر عام ہے کہ مجرمانہ غفلت کی گئی ہے۔
اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ غفلت تھی یا کیا تھی جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا ان کے جنازے بھی ہو گئے دعائیں بھی بہت ہوئیں گھر والوں کو صبر و شکر کی تلقین بھی کی گئی اور ان کے عزیز اور رشتے دار اس غم کو بھلانے میں مصروف ہیں اور ان کے لیے صبر و شکر کی دعا اور نصیحت ہی بہت ہے۔ اس حادثے کا یہ وہ پہلو ہے جو ہر ایسے حادثے میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے اور اسے قابل قبول سمجھ لیا جاتا ہے لیکن کچھ پاکستانی جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے اس پر اکتفا کرنے پر تیار نہیں ہے۔
سیدھی سادی بات ہے کہ ہر جرم کی سزا ہونی چاہیے اور اس خوفناک جرم کی بھی ایک سزا ہے وہ تنور موجود ہے اور اس کی ہولناک سزائیں بھی زندہ ہیں جو لوگ اس حادثے پر خاموش رہے جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ اس تنور کو جہنم کا تنور نہ بننے دیں ان سب کو پکڑ کر اس تنور میں پھینک دیا جائے اور انھیں اسی سزا کا مستحق گردانا جائے جو اس تنور سے پہلے پا چکے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور جرم کی سزا کے قائل ہیں۔ کسی جرم کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی قتل ہو جاتا ہے تو اسلامی قانون کے تحت اس کو اس کی سزا دی جاتی ہے وارثوں کو معاف کرنے اور دیت کا قانون رائج ہے لیکن ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس کے تحت قاتل کو سزا سے بری قرار دیا جا سکے۔
یہ تنور کے حادثے کا قتل بے حد بھیانک ہے اور فرائض سے غفلت برتنے والوں کو ان کی غفلت کی سزا ملنی چاہیے ان کی غفلت نے جو قتل کیے ہیں وہ ان کے ذمے ہیں اور یہ سزا اس لیے لازم ہے کہ ایسی مجرمانہ غفلتوں کا سدباب بھی کیا جا سکے۔ ایک نے جرم کیا کئی جانیں ضایع ہو گئیں لیکن کیا ان انسانوں کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ کیا ان کی قیمت چند لاکھ روپے اور مکان وغیرہ ہی کافی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں سے پوچھا جائے کہ کیا ان کی قیمت بھی بس اتنی ہی ہے جتنی ان کے ایک عام ووٹر کی ہے یا ان کی رعایا کے کسی بے بس فرد کی ہے۔ اگر ان تنور کے حادثے کے ذمے دار لوگوں کو ان کے جرم کے مطابق سزا دی جائے تو نہ جانے کتنے ہی انصاف طلب لوگوں کی تسکین ہو سکے۔ ہم آپ سب اللہ تعالیٰ سے ڈریں وہ کوئی بھی سزا دے سکتا ہے۔