کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی 35 پوائنٹس گرگئے

51.83 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں، سرمایہ کاروں کے 4 ارب 66 کروڑ روپے ڈوب گئے


Business Reporter June 14, 2014
51.83 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں، سرمایہ کاروں کے 4 ارب 66 کروڑ روپے ڈوب گئے۔ فوٹو: آن لائن/فائل

KARACHI: عراق میں جاری بحران سے عالمی مارکیٹوں میں رونما ہونے والی مندی کے اثرات جمعہ کوکراچی اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے اور اتارچڑھاؤ کے بعد مندی رونما ہوئی جس سے 51.83 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 4 ارب66 کروڑ 22 لاکھ65 ہزار500 روپے ڈوب گئے۔

ابتدائی اوقات کے دوران بعض شعبوں کی سیمنٹ پٹرولیم اور کچھ بینکوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے ایک موقع پر79.48 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی 29800 کی حد بحال ہوگئی تھی لیکن فوری منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے انڈیکس کی بحال شدہ حد کو برقرار رہنے مزاحمت کا سامنا رہا۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 57 لاکھ96 ہزار855 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے4 لاکھ55 ہزار892 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے2 لاکھ51 ہزار854 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے12 لاکھ43 ہزار468 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے38 لاکھ45 ہزار640 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 35.52 پوائنٹس کی کمی سے29730.86 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس4.09 پوائنٹس کی کمی سے 20406.47 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 336.23 پوائنٹس کی کمی سے 47729.07 ہوگیا۔

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 0.82 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر21 کروڑ5 لاکھ 96 ہزار860 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار355 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں147 کے بھاؤ میں اضافہ 184 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیورفوڈز کے بھاؤ 250 روپے بڑھ کر8500 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ 75.11 روپے بڑھ کر 1775.11 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 100 روپے کم ہوکر8100 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھاؤ30 روپے کم ہوکر1355 روپے ہوگئے۔