فرانس نے ’ہائی ٹیک‘ گول سے نئی تاریخ رقم کردی

گیند کے لائن عبور کرنے کی تصدیق ریفری کی گھڑی پر الفاظ نمودار ہونے سے ہوئی


AFP June 17, 2014
میچ میں فرنچ سائیڈنے ہنڈراس کو 3-0 سے شکست دی، فوٹو: رائٹرز

فرانس نے 'ہائی ٹیک' گول سے ورلڈ کپ میں نئی تاریخ رقم کردی، پہلی بار فیصلہ گول لائن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوا، کریم بینزیما کی کک پر گیند کے لائن عبور کرنے کی تصدیق ریفری کی گھڑی پر 'گول' کے الفاظ نمودار ہونے سے ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق فرانس اور ہونڈریس کے درمیان میچ میں گول لائن ٹیکنالوجی سے پہلی بار فیصلہ لیا گیا،فرنچ سائیڈ3-0 سے فتحیاب رہی، دوسرے ہاف کے شروع میں ہی کریم بینزیما نے گیندکو جال کی راہ دکھائی لیکن گول کیپر نوئیل والاڈاریس نے اسے بیچ سے اچک لیا، البتہ ان کی یہ کوشش اس وقت رائیگاں چلی گئی جب ریفری کی گھڑی پر جرمن ٹیکنالوجی کی وجہ سے 'گول' لکھا ہوا آگیا،اس کا مطلب تھا کہ گیند نے گول لائن عبور کرلی تھی، یہ ٹیکنالوجی پہلی بار ورلڈ کپ میں استعمال ہورہی اور اس کا مقصد کھیل کو تنازعات سے پاک کرنا ہے، 2010 میں جرمنی کے خلاف انگلینڈ کے فرینک لیمپارڈ کا یقینی گول اس وجہ سے مسترد کردیا گیاکہ ریفری کے خیال میں گیند نے لائن عبور نہیں کی تھی۔

ہاک آئی کے جیسی یہ ٹیکنالوجی ایک جرمن کمپنی نے تیار کی، اس کی کلب ورلڈ کپ اور کنفیڈریشن کپ میں بھی آزمائش ہوچکی مگر ورلڈ کپ میں یہ پہلا موقع تھا جب گیند کے لائن عبور کرنے کی نشاندہی اس نے کی، اس طرح پہلے ہائی ٹیک گول کا اعزاز فرانس کے نام ہوا۔ اس ٹیکنالوجی میں 7 ہائی اسپیڈ کیمرے بیک وقت کام کرتے اور ایک سیکنڈ میں 500 تصاویر لے سکتے ہیں، جیسے ہی گیند گول لائن عبور کرے ریفری کی کلائی پر بندھی گھڑی پر 'گول'کے الفاظ جگمگانے لگتے ہیں۔