گرے ٹریفک روکنے کیلیے آئی سی ایچ ختم کرنیکا فیصلہ کرلیا انوشہ رحمان

حکومت نے آئی سی ایچ سے حاصل ٹیکس کی خطیر رقم پر ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی، انوشہ رحمٰن


Numainda Express June 19, 2014
بیرون ملک سے کال 6 تا8 روپے منٹ سستی، شعبے میں مقابلے کی فضا قائم ہوگی، وزیر مملکت آئی ٹی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے کہا کہ حکومت نے آئی سی ایچ سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی خطیر رقم کے بجائے ملک و قوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی ایچ ختم کرنے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا ہے جس سے گرے ٹریفک کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں سے جاری کردہ اپنے پالیسی بیان میں کیا۔ اعلامیے کے مطابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے حکومت کے اس فیصلے سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئی سی ایچ ختم کرنے سے نہ صرف گرے ٹریفک کا ناسور ختم ہوگا بلکہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو کال چھ سے آٹھ روپے سستی پڑے گی اور ٹیلی کام سیکٹر میں صحت مندانہ مقابلے کی فضا قائم ہوگی۔

انوشہ رحمٰن نے کہا کہ حکومت نے آئی سی ایچ سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی خطیر رقم کے بجائے ملک و قوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی ایچ ختم کرنے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا ہے جس سے گرے ٹریفک کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے کی یہ کوشش تھی کہ ٹیلی کام سیکٹر کو تمام جرائم سے پاک کیا جائے جو پچھلی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کے سبب پنپتے رہے۔ تھری جی، فور جی کی نیلامی کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلیے دوسرا بڑا چیلنج گرے ٹریفک پر قابو پانا تھا، ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جدید اسپیکٹرم کی شفاف اور کامیاب نیلامی کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈی ریگولیشن پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیلی کام سے وابستہ سروس پرووائیڈرز کی حوصلہ افزائی اور ان کے مابین مسابقت کو فروغ دینے کیلیے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک ڈائریکٹو کے ذریعے پی ٹی اے کو پاکستان میں ٹرمینیٹ ہونے والی بیرونی ٹریفک میں قبل ازیں نافذ انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس ڈیوٹی ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے جس کا اطلاق یکم اگست 2014 سے ہوگا۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے قبل ازیں تیرہ اگست 2012 کو بین الاقوامی ٹیلی کام ٹریفک کی پاکستان میں ترسیل کیلیے آئی سی ایچ پالیسی کا اجرا کیا تھا۔ اس آئی سی ایچ پالیسی کا مقصد پاکستان میں آنے والی بین الاقوامی ٹریفک کو آئی سی ایچ کنسوریشم کے تحت صرف ایک گیٹ وے سے گزارا جائے اور وہ واحد گیٹ وے ایل ڈی آئی کا سربراہ ہونے کے ناطے، پی ٹی سی ایل تھا تاہم یہ پالیسی اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہی کیونکہ اس سے بیرون ملک سے پاکستان آنے والی کالز کے ریٹ میں بے پناہ اضافہ ہوگیا اور غیر قانونی وائس ٹریفک کی شرح بھی کافی حد تک بڑھ گئی۔

بیرونی کالز کے ریٹس میں اس اضافے سے تارکین وطن پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامانا کرنا پڑا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں قانونی طریقے سے آنے والی کالز کا حجم بھی کم ہونا شروع ہوگیا اور غیر قانونی کالز ،گرے ٹریفک کا رحجان بڑھنے لگا ہے اگرچہ 2003 کی ڈی ریگولیشن پالیسی کی نسبت آئی سی ایچ کے ذریعے یونیورسل سروس فنڈ میں اے پی سی کے حجم میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن حکومت نے دلیرانہ اقدام کے ذریعے اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی خطیر رقم کو پس پشت ڈالتے ہوئے آئی سی ایچ کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں