جوڈیشل ٹریبونل نے آپریشن کا حکم دینے والوں کے نام طلب کرلیے

جسٹس علی باقر نجفی کا رپورٹ جمع نہ کرانے پر ڈی جی ایل ڈی اے پر برہمی کا اظہار


Numainda Express June 20, 2014
کمشنر لاہور اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے خود کو واقعے سے بری الزمہ قراردیدیا. فوٹو: فائل

KARACHI: ماڈل ٹائون سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ٹریبونل نے ماڈل ٹائون آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں، افسروں کے نام اور تعداد طلب کرلی جبکہ آپریشن میں شریک اہلکاروں کو احکامات جاری کرنے والے پولیس افسروں کے نام بھی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

ٹریبونل نے رپورٹ جمع نہ کرانے پر ڈی جی ایل ڈی اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی کا جو بھی موقف ہے وہ ٹریبونل کے روبرو جمع کرایا جائے۔ ٹریبونل نے مزید کارروائی آج تک ملتوی کردی، کمشنر لاہور اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے خود کو واقعے سے بری الزمہ قراردیدیا ہے۔ جوڈیشل ٹریبونل کے پہلے دن کھلی سماعت شروع ہوئی تو آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا، ڈی سی اوکیپٹن (ر) محمد عثمان اور ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ پیش ہوئے۔ آئی جی نے دعویٰ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی تحقیقات میرٹ پر کی جائیگی۔

ڈی سی او لاہور کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے اردگرد کاروٹوں کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا تھا۔ ٹریبونل نے آئی جی کو حکم دیا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر جمع کرائی جائے جبکہ واقعہ کی تفتیشی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر ٹریبونل کے روبرو جمع کرائی جائے۔ ٹریبونل نے ڈی سی اولاہورکوحکم دیاکہ آپریشن کرنے والے ضلعی حکومت کے اہلکاروں کے نام، تعداد جبکہ رکاوٹوں سے متعلق ضلعی حکومت اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے مابین ہونے والی تمام خط و کتابت کا ریکارڈ بھی آج دو بجے تک پیش کیا جائے۔

واضح رہے آپریشن سے ایک روز قبل ہونے والی میٹنگ میں گلبرگ اور اے سی ماڈل ٹائون کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں جس میں ڈی سی اولاہور کمشنر لاہور بھی شامل تھے۔ گزشتہ روز ڈی سی او، کمشنر، ڈی جی ایل ڈی اے اوردیگر شعبوں کے افسران سرجوڑ کر بیٹھ گئے تاکہ مل کر ایک ہی موقف اختیار کیا جاسکے۔ ان افسران نے کمیشن کو یہ نہیں بتایا کہ اچانک رات کو آپریشن کیوں کرنا پڑا اور کس نے ہدایات جاری کیں۔ ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے موقف پیش کیا کہ ماڈل ٹائون آپریشن کے بارے میں انھیں کسی میٹنگ میں نہیں بلوایا گیا۔ آئی این پی کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے کوئی رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش نہیں کی بلکہ الٹا کمیشن سے بحث کرتے رہے کہ یہ معاملہ ان سے متعلق نہیں اس لئے انہوں نے اس پر کوئی رپورٹ تیار ہی نہیں کی۔