3 اسرائیلی نوجوانوں کی تلاش میں صہیونی فوج نے 250 سے فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا

غزہ کی پٹی کے شمال اور مغرب میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج نے بمباری بھی کی


AFP/INP June 20, 2014
حماس کے مالی ذرائع ختم کرنے تک کارروائی جاری رہے گی، اسرائیلی صدر پیریز. فوٹو؛ فائل

فلسطین میں ایک ہفتہ قبل پراسرار طورپر لاپتا ہونے والے 3 یہودی لڑکوں کی تلاش کیلیے اسرائیلی سیکیورٹی فورسزکا ظالمانہ کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک 250 سے زائد فلسطینیوںکو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اسرائیلی صدرشمعون پیریزنے کہاہے کہ ہم حماس کے دہشت گردوں کے فنڈزکے ذرائع ختم کرنے تک کارروائی جاری رکھیں گے۔ گزشتہ روز بھی کی کارروائی کے دوران مغربی کنارے سے مزید 30فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد گرفتار شدگان کی تعداد280ہوگئی۔ بڑے پیمانے پر تلاشی اور گرفتاریوں کے اس آپریشن کے دوران جینن اور نابلس سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں جامعہ بیرزیت پراچانک دھاوا بول دیا۔ ادھر غزہ کی پٹی کے شمال اور مغرب میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج نے بمباری بھی کی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملہ جمعرات کو علی الصباح کیا گیا۔ بمباری میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈکے مراکز کو نشانہ بنایاگیا۔ فوجی حکام کے مطابق جنگجوؤں نے سرحدپار 5راکٹ فائرکیے جن میں سے نے جنوبی اسرائیل میں ایک گھرکو نقصان پہنچایا۔ ایک مغربی کنارے میں گزشتہ روزمختلف شہروں میں گھرگھر تلاشی کی کارروائیوں میں 60فلسطینیوں کو حراست میں لیاگیا تھا۔ گرفتارکیے جانے والوں میں 2011میں حماس سے معاہدے کے تحت رہا کیے گئے 51 شہری بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اکتوبر2011 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی سپاہی گیلادشالیت کے بدلے صہیونی جیلوں سے 1050 فلسطینی رہاکرائے تھے۔ اسرائیل کے عبرانی ریڈیو کے مطابق حکومت نے حراست میںلیے گئے فلسطینیوںسے تفتیش کے لیے سیکیورٹی اداروں کو تمام ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔