سپریم کورٹ کا اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے خصوصی فورس تشکیل دینے کا حکم

وفاقی حکومت قومی کونسل حقوق تشکیل دے جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پالیسی سفارشات مرتب کرے، سپریم کورٹ


Numainda Express June 20, 2014
ملازمتوں کے اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد روکنے اور تعلیمی نصاب میں رواداری کو فروغ دینے کا بھی حکم، ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ جاری۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON: سپریم کورٹ نے ملک بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلیے وفاقی حکومت کو خصوصی فورس تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پشاور میں چرچ پر حملوں، چترال میں کیلاش قبیلے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات اور اقلیتوں کے حقوق کے متعلق ازخود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں حکومت کو قومی کونسل حقوق تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پالیسی سفارشات مرتب کرے، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کا اجرا روکا جائے، اسکول اور کالج کی سطح پر ایسا نصاب مرتب کیا جائے، جو مذہبی اور سماجی رواداری کو فروغ دے اور اقلیتوں کیلیے ملازمتوں میں مختص کوٹے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد کیلیے3 رکنی خصوصی بینچ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے،32 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس نے تحریر کیا۔

سندھ میں مندروں کی بے حرمتی کے واقعات پر عدالت نے قرار دیا کہ اگر متعلقہ اتھارٹیز حفاظتی تدابیر کرتیں اور لاپروائی سے کام نہ لیا جاتا تو ان سے بچا جا سکتا تھا، عدالت کو اس بات پر انتہائی حیرانی ہوئی، جب ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی جرم نہیں، جب انھیں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ295 کے متعلق بتایا گیا تو ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، عدالت نے قرآنِ مجید کی سورہ المائدہ کا حوالہ بھی دیا، جس میں ارشاد ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص کو بغیر وجہ قتل کر دے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، عدالت نے حکم دیا کہ حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری اقدامات اٹھائیں اور ملزموں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کریں۔