خودکشی سے بچائو کا عالمی دن

ہزاروں لوگ غذا کی کمی، ناقص غذا کے سبب موت کا شکار ہوجاتے ہیں


Zaheer Akhter Bedari September 21, 2012
[email protected]

ISLAMABAD: شِیرخوار بچّوں کو بہلانے کے لیے ایک چھوٹا سا کِھلونا ملتا ہے جسے جھنجھنا کہتے ہیں۔

یہ غریب لوگوں کے غریب بچّوں کا سستا سا کِھلونا ہوتا ہے۔ جب بچّہ بھوک سے بیتاب ہو کر رونے لگتا ہے اور ماں کا سینہ دودھ سے خالی ہوتا ہے اور باپ کی جیب دودھ خریدنے سے قاصر ہوتی ہے تو ماں باپ بھوکے بچّے کے ہاتھ میں یہ کھلونا تھما دیتے ہیں جو بچّے کے ہاتھ کی غیر ارادی حرکت کے ساتھ بجنے لگتا ہے اور بچّہ کچھ دیر کے لیے اپنی بھوک کو بھول کر اس کھلونے میں کھو جاتا ہے۔

مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں نے غربت، بھوک، بیماری، بے کاری کے مارے ہوئے پس ماندہ ملکوں کو مختلف دن منانے کے کِھلونے دے دیے ہیں۔ ایسے ہی دن میں ایک عجیب دن ''خودکشی سے بچائو کا عالمی دن'' ہے۔ یہ دن ہر سال 10 ستمبر کو ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں ہی کے ادارے WHO کے اعداد و شمار کے مطابق ہر روز تین ہزار انسان خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔

میں نے تین ہزار روز کے حساب سے خودکشی کرنے والوں کی گنتی کی تو پتا چلا کہ ہر ہفتے اکیس ہزار لوگ، ہر ماہ نوّے ہزار لوگ اور ہر سال دس لاکھ اسّی ہزار انسان خودکشیوں کے ذریعے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔ ان میں بھوک، غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والے اور بیماریوں اور علاج سے محرومی کی وجہ سے خودکشی کرنے والے لوگوں کی تعداد نوّے فیصد سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

10 لاکھ 80 ہزار صرف وہ لوگ ہیں جو خودکشی سے مرتے ہیں۔ غربت، بھوک سے مرنے والے ناقص غذا اور دودھ سے محرومی کی وجہ مرنے والے اور دورانِ حمل اور زچگی کے دوران ناقص غذا اور طبی سہولتوں سے محرومی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں بتائی جاتی ہے اور یہ تمام اعداد و شمار خود ترقی یافتہ ملکوں کے ریسرچ اور سروے کرنے والے ادارے فراہم کرتے ہیں۔

ہماری مہذب دنیا جنگوں کے دوران ''غیر قانونی طریقوں سے'' مخالف فوجیوں کا خون بہانے والوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے چلا کر انھیں سنگین سزائیں دلواتی ہے، خواہ ایسے جنگی جرائم میں مارے جانے والوں کی تعداد دس بیس ہی کیوں نہ ہو۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال بھوک، بیماری، وغیرہ سے تنگ آکر خودکشی کرنے والے 10 لاکھ 80 ہزار اور ان ہی حوالوں سے مرنے والے لاکھوں انسانوں کی موت طبعی کہلائے گی یا یہ انسانوں کا معاشی قتلِ عام ہے جو ایک سال کے دوران 25-20 لاکھ مقتولوں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس قتل عام کی ذمے داری کس پر آتی ہے۔ اور انھیں کون سے مجرم کا نام دیا جانا چاہیے۔

سوچنے والوں کے ذہن میں اس حوالے سے فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں بسنے والے سات ارب انسانوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اشیائے صرف کی اتنی مقدار پیدا نہیں ہوتی کہ یہ آبادی اپنی ضرورتیں پوری کرلے اور خودکشیوں اور بھوک بیماریوں سے مرنے سے بچ جائے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں انسانی ضرورتوں سے زیادہ اشیائے صرف پیدا ہوتی ہیں۔

خود ہماری مارکیٹوں میں اشیائے صرف کے انبار لگے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہزاروں لوگ غذا کی کمی، ناقص غذا کے سبب موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ لاکھوں لوگ اس لیے موت کی گود میں چلے جاتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لیے جن اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے، اسے خریدنے کے لیے ان کی جیب میں پیسہ نہیں ہوتا۔ یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیسہ موجود نہیں؟ اگر موجود ہے تو پھر یہ پیسہ کہاں جاتا ہے؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر ملک میں بھوک، بیماری سے مرنے والے اپنی محنت سے جو دولت پیدا کرتے ہیں، اس کا 80 فیصد حصّہ صرف دو فیصد ان حرام خوروں اور لاکھوں انسانوں کے قاتلوں کے قبضے میں چلا جاتا ہے، جن کا دولت پیدا کرنے میں کوئی حصّہ نہیں ہوتا۔ اسی قاتلانہ نظام نے ہی دنیا کو 2/98 میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ پس ماندہ ملکوں کے عوام کی 40 فیصد سے زیادہ تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

یہ اعداد و شمار ہر روز ہی کسی نہ کسی حوالے سے دنیا کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ 98 فیصد حصّہ ہر سال خودکشی کرنے والے 10 لاکھ 80 ہزار اور بھوک، بیماری، غذا کی قلت اور ناقص غذا سے مرنے والے لاکھوں لوگ اس ناانصافی کے خلاف کیوں نہیں اٹھ کھڑے ہوتے؟

انسانوں کے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافیاں کوئی راز نہیں بلکہ یہ اوپن سیکریٹ ہے جس سے وہ انسان نما حیوان 2 فیصد لوگ پوری طرح واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ جس 80 فیصد دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی محنت کی کمائی نہیں بلکہ ان غریبوں کی محنت کی کمائی ہے جو کہیں کسان، کہیں ہاری، کہیں مزدور، کہیں غریب کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ظلم اور ناانصافی کی یہ داستان کوئی نئی نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی ہے۔

ہزاروں سال سے انسان 2/98 میں بٹا چلا آرہا ہے۔ کیا اس ظلم و بربریت کا علاج خودکشی اور بھوک بیماری کی موت ہی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ بادشاہتوں کے دور میں بادشاہ لوگ محض تفریح کی خاطر زندہ انسانوں کو درندوں کے پنجروں میں دھکیل دیتے تھے اور کمزور انسان اور طاقتور درندوں کی لڑائی دیکھ کر لطف لیتے تھے۔

آج کی مہذب دنیا اس کھیل کو طاقتور بادشاہوں کی حیوانیت کہتی ہے اور جنگوں میں جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جنگی مجرم کہتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال بھوک، بیماری، بے کاری کی وجہ سے مرنے والے لاکھوں انسانوں کی موت کا یہ کھیل بادشاہوں کے انسان اور درندوں کو لڑا کر تفریح لینے کے کھیل سے مختلف ہے؟ کیا انسانیت کے قانون کی خلاف ورزی کرکے ہر سال لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والے جنگی مجرموں سے کم مجرم ہیں؟ اگر لاکھوں انسانوں کو مرنے پر مجبور کرنے والے جنگی مجرموں سے بڑے جنگی مجرم ہیں تو انھیں سزا کون دے گا؟

ہم نے ایک سوال یہ کیا تھا کہ ہزاروں سال سے ان اقتصادی مظالم کا شکار ہونے والا 98 فیصد طبقہ اس ظلم کے خلاف کیوں نہیں اٹھ کھڑاہوتا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ یہ ہے کہ ان 98 فیصد مظلوموں کو مختلف حوالوں سے تقسیم کردیا گیا ہے۔

زبان، قومیت، رنگ، نسل، ذات پات، دین دھرم، فقہہ جیسے کئی حوالوں سے ان معصوم انسانوں کو ہمارے سیاسی لیڈر تقسیم کرکے ان کو استحصالی طاقتوں سے لڑانے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی اوتار بھی ان کی توجہ ان کے طبقاتی لٹیروں کی طرف سے ہٹادیتے ہیں۔

تیسری وجہ ان سرمایہ داروں کا نافذ کیا ہوا قانون اور انصاف کا وہ نظام اور ریاستی مشینری ہے جو 98 فیصد انسانوں کے راستے میں دیوار بن کر حائل ہوتی ہے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ اس قسم کے قانون وہ لوگ بناتے ہیں جنھیں غریب عوام اپنی غربت دور کرنے کے لیے اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے قانون ساز اداروں میں بھیجتے ہیں۔

اس پورے بے رحمانہ نظام کو صرف بے رحمی ہی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر 2 فیصد بے رحم انسان ہر سال 10 لاکھ 80 ہزار لوگوں کو خودکشیوں کے ذریعے اور اس سے زیادہ انسانوں کو بھوک اور بیماری کے ذریعے مار رہے ہیں تو غریب انسان یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ ان قاتلوں کو اسی بے رحمی سے ختم کیا جائے جس بے رحمی سے وہ لاکھوں انسانوں کو ہر سال ختم کررہے ہیں۔

مقبول خبریں