فی الحال سیاسی مسائل غیر اہم ہوگئے ہیں
پاکستان ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے جہاں ابھی تک نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام مستحکم ہے۔
انسانی تاریخ نے ہزاروں سال کے ارتقائی سفر کے بعد ایک پرامن، مہذب اور اخلاقی قدروں پر استوار نظام قائم کیا ہے۔ اگرچہ اس نظام کے ساتھ ساتھ طبقاتی استحصال کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ساری دنیا کے عوام اس طبقاتی استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں لیکن مذہبی انتہاپسند دنیا پر جو نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں اس میں انسانی حقوق، قانون، انصاف اور اخلاقی قدروں کے علاوہ اظہار رائے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا فاشسٹ نظام ہے جو ہٹلر کے فاشزم کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ کیا اس نظام کو جدید دنیا آسانی سے قبول کر سکتی ہے؟
پاکستان ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے جہاں ابھی تک نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام مستحکم ہے۔ آج ملک کو جس مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے وہ اسی قبائلی نظام کا عطیہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے روایتی قبائل اس قدر طاقتور تھے کہ انگریز بھی اپنی پوری کوششوں کے باوجود ان پر قابو نہ پا سکے اور انھیں آزاد چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن اب ساری دنیا نو آبادیاتی نظام سے آزاد ہو چکی ہے۔ اب دنیا تیزی کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کر رہی ہے، آئی ٹی کے انقلاب نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل کر رکھ دیا ہے اور دنیا بھر کے عوام تیزی کے ساتھ تعصبات اور رنگ، نسل، زبان، ملک و ملت کی تنگ نظریوں سے نکل کر ایک وسیع تر انسانی برادری کے رشتوں میں بندھنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ سفر بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے تو دنیا بتدریج ایک پر امن اور خوشحال دنیا میں بدل سکتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست دنیا کے غریب عوام کو ایک دوسرے کے قریب آتا نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اگر دنیا کے انسان ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور رنگ و نسل، قوم و ملک کے حصار سے باہر نکلتے ہیں تو وہ تعصبات، وہ نفرتیں، وہ علاقائی تنازعات ختم ہو جاتے ہیں جو جنگوں کی ضرورت بنے ہوئے ہیں۔ جنگ سرمایہ داروں کی ضرورت ہے کیونکہ اسلحے کی صنعت پر لگے ہوئے کھربوں ڈالر اس وقت منافع دے سکتے ہیں جب دنیا میں ہتھیاروں کی مانگ ہوتی ہے اور ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب مذہبی، علاقائی اور معاشی مفادات کے حصول کے لیے جنگیں لڑی جائیں۔
عراق اور افغانستان کی جنگ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان سے ہتھیاروں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا اور ہتھیاروں کی صنعت کو فائدہ پہنچا۔ اس پس منظر میں دو عوامل ہمارے سامنے آتے ہیں ایک یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے اور دنیا بھر کے عوام قوم و ملک کے تعصبات سے بالاتر ہو کر اس نظام جبر کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔
عوام کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف متحد ہونے سے روکنے کے لیے کوئی ایسا سنگین مسئلہ کھڑا کرنا ضروری ہے جس سے عوام کی توجہ طبقاتی استحصال سے ہٹ جائے۔ دہشت گردی اب ایک ایسا مسئلہ بن گئی ہے جس کی وجہ سے عوام کی توجہ طبقاتی مظالم سے ہٹ رہی ہے، کیونکہ اب دنیا کا انسان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔ کیا دہشت گرد اور دہشت گردی دانستہ یا نادانستہ عوام کی توجہ طبقاتی استحصال کی طرف سے ہٹانے کی ایک کامیاب کوشش نہیں؟
پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں کوئی بھی منتخب یا غیر منتخب حکومت عوام کے مسائل حل کرنا تو کجا ان میں مسلسل اضافہ ہی کرتی آ رہی ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اسی کا ایک تسلسل ہے۔ عوام مہنگائی، بے کاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور سماجی جرائم کی بھرمار سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت لاکھ دعوؤں کے باوجود یہ مسائل حل نہیں کر سکتی۔ لیکن موجودہ حکومت کو آئین اپنی مقررہ پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن عوام جب حکومتی نااہلیوں سے تنگ آ کر لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ جاتے ہیں تو آئینی مدت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
1968ء اور 1977ء میں یہی ہوا۔ آج ملک میں عوام جن مسائل سے دوچار ہیں وہ مسائل انھیں سڑکوں پر لا سکتے ہیں اور کچھ سیاسی جماعتیں عوام کو سڑکوں پر لانے کی تیاری کر رہی ہیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دس سال کی مذہبی انتہاپسندی، دہشت گردی اور پچاس ہزار بے گناہ انسانوں کی قربانی کے بعد اب حکومت اور فوج دہشت گردی کے خلاف منظم جنگ لڑنے کی طرف آ رہے ہیں اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسی نظم و ضبط اور منصوبہ بندی کے ساتھ یہ جنگ لڑی جاتی رہی تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ کیا ایسے نازک موڑ پر عوام کو سڑکوں پر لانا عاقبت اندیشی ہو گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر حکومت کی نااہلی کے تناظر میں نہیں ملک کے مستقبل کے تناظر میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد حکومت اور فوج دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن پر متفق ہوئے ہیں، اس آپریشن کا نام ''ضرب عضب'' رکھا گیا ہے۔ پہلی بار انتہائی منظم اور منصوبہ بند انداز میں دہشت گردوں کے خلاف تسلسل کے ساتھ فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ تقریباً ہر روز ہی دہشت گردوں اور ان کے اڈوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے اب تک 90 ہزار متاثرین کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فیصلہ کن جنگ دہشت گردوں کی شکست تک جاری رہے گی'' نواز شریف نے کہا ہے کہ بعض افراد اور ان کے ساتھی پوری قوم کی توجہ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین آپریشن سے ہٹانا چاہتے ہیں مگر ہم ہرگز ایسا نہیں ہونے دیں گے۔''
اگرچہ یہ بیان سیاسی مفادات پر مبنی ہے اور حکومت عمران خان اور قادری صاحب کی ممکنہ تحریکوں سے سخت خائف ہے اور وہ آپریشن کی اہمیت جتا کر عمران خان اور طاہر القادری کی ممکنہ تحریکوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا چاہتی ہے لیکن مسئلہ صرف موجودہ حکومت کے خلاف تحریکوں کا نہیں، نہ تحریکوں کا خوف دلا کر حکومت کے تحفظ کا ہے، حقیقت یہ ہے کہ دس سال تک گومگو کی کیفیت میں مبتلا رہنے کے بعد حکومت نے ایک مثبت اور موثر منصوبے میں فوج کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں پہلی بار فوج اور حکومت ایک پیج پر نظر آ رہے ہیں یہ ایک اچھا اور امید افزا فیصلہ ہے۔
سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کوئی گلی ڈنڈے کا کھیل ہے نہ چند انتہاپسند گروہوں کی مہم جوئی ہے، بلکہ یہ ایک ایسی منظم اور منصوبہ بند جنگ ہے جس کا مقصد اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ نہ بادشاہی دور کی جنگ ہے نہ سامراجی ملکوں کی مسلط کردہ جنگ ہے، جن کا مقصد محض ملکوں پر قبضہ کرنا، لوٹ مار کرنا اور اپنی سلطنت میں توسیع کرنا ہوتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا مقصد انسانی تہذیب کو تباہ کر کے ایسا نظام قائم کرنا ہے جو کسی حوالے سے بھی دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی اخلاقی اقدار منظم زندگی کی دھجیاں اڑا دیتا ہے اور ایک ایسا جنگل کا قانون نافذ کر دیتا ہے جس کا استعمال چند انتہا پسندوں کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔
بلاشبہ یہ بڑی مثبت اور حوصلہ مند بات ہے کہ حکومت اور فوج ہی نہیں بلکہ ساری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور پہلی بار تمام تر تحفظات اور سیاسی مصلحتوں کو ترک کر کے حکومت فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
شمالی وزیرستان چونکہ دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر ہے اس لیے اس کے خلاف کارروائی ایک منطقی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دہشت گرد صرف شمالی وزیرستان ہی میں نہیں سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور منظم اور طاقتور بھی ہیں۔ کیا شمالی وزیرستان کے خلاف کارروائی سے توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گرد کراچی جیسے دوسرے بڑے شہروں میں کارروائیاں نہیں کر سکتے؟ شمالی وزیرستان میں آپریشن یقیناً ایک مثبت اقدام ہے لیکن اگر ملک کے اہم شہروں میں فول پروف انتظامات نہ کیے گئے تو شمالی وزیرستان کا آپریشن بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ اس وقت سیاسی اختلافات اور فسادات کو وقتی طور پر پس پشت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، باقی مسائل فی الوقت ثانوی بن گئے ہیں۔