ہفتہ رفتہ توانائی بحران اور گیس ٹیرف میں اضافے سے کاٹن مارکیٹس میں مندی

مقامی قیمتیں مستحکم، سوتی دھاگے کی فروخت کم ہونے کے باعث ٹیکسٹائل ملز نے روئی بیچنا شروع کردی


Ehtisham Mufti June 23, 2014
مقامی قیمتیں مستحکم، سوتی دھاگے کی فروخت کم ہونے کے باعث ٹیکسٹائل ملز نے روئی بیچنا شروع کردی۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے سوتی دھاگے کی خریداری میں عدم دلچسپی اورتوانائی بحران برقراررہنے سے ٹیکسٹائل ملوں کی پیداواری سرگرمیاں منجمد ہونے کے سبب ملوں کی روئی خریداری میں محدود دلچسپی جیسے عوامل گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس کی کاروباری سرگرمیوں پر حاوی رہے اورروئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہا جبکہ اس کے برعکس نیویارک کاٹن ایکس چینج میں خریداری رجحان بڑھنے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی رہی۔

رواں ہفتے سندھ اور پنجاب میں کاٹن جننگ کے نئے سیزن کے آغاز کے بعد توقع ہے کہ روئی خریداری سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہوجائیگا۔ ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بجلی اور گیس کی پنجاب بھر کی صنعتوں کو مسلسل عدم دستیابی کے باعث بیشتر ٹیکسٹائل ملز پہلے ہی معاشی بحران کو شکار تھیں جبکہ وفاقی بجٹ 2014-15 میں گیس کے استعمال پر گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) چارج ہونے کے بعد ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملز میں جولائی کے پہلے ہفتے سے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سرچارج کے نفاذ سے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے ٹیکسٹائل ملز کے سخت معاشی بحران میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا ہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوتی دھاگے کی مسلسل کم ہوتی ہوئی فروخت کے باعث بعض ٹیکسٹائل ملزمالکان نے دوسری ٹیکسٹائل ملز کو روئی کی فروخت بھی شروع کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے سے سندھ کے شہروں شہداد پور، ٹنڈوآدم، کوٹری، سانگھڑ اور میر پور خاص میں جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہونے جا رہی ہیں جبکہ پنجاب کے شہر ہارون آباد میں گزشتہ ہفتے سے ہی دو جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ پھٹی کا معیار بہت بہتر نہ ہونے کے باعث روئی کا معیار بھی پہلے کے مقابلے میں کافی کم دیکھا جا رہا ہے تاہم توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران بھرپور کاٹن جننگ سیزن شروع ہونے سے روئی کے معیار میں بھی بہتری آئے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے ایک سینٹ فی پائونڈ اضافے کے بعد 91.45 سینٹ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 1.18سینٹ فی پائونڈ اضافے کے بعد 88.16سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 901روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42 ہزار 47 روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 800 روپے فی من تک مستحکم رہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں جولائی ڈلیوری روئی کے سودے، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودوں کے مقابلے میں ریکاڈ 10.67 سینٹ فی پائونڈ زائد پر طے ہو رہے ہیںجو کہ نیویارک کاٹن ایکسچینج کی تاریخ میں 2 مہینوں کے سودوں میں ریکارڈ کمی ہے جس سے ماہرین کے مطابق آئندہ سال روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی متوقع کی جا رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور کاٹن سیزن 2014-15 کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہے گا۔ احسان الحق نے بتایا کہ چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اگست تک اپنے روئی کے نیشنل ریزروز سے روئی کی فروخت جاری رکھے گا اس سے بھی آئندہ کچھ عرصے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کو فوقیت ملنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے بتایاکہ محکمہ زراعت کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمارکے مطابق 9جون تک پنجاب بھر میں 60 لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت کرنے کے ہدف کے مقابلے میں 56لاکھ 71 ہزار 377 ایکڑ رقبے پر (94.52فیصد) کپاس کی کاشت مکمل کی جا چکی تھی جبکہ پچھلے سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 2لاکھ 37 ہزار ایکڑ زائد ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق پنجاب بھر میں موسم گرما کی شدت میں ریکارڈ اضافے کے باعث بعض علاقوں میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے میں کافی اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے کپاس کی فصل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ وائرس کے حملے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں