سیاست کل کی اور آج کی

اس ملک کے کتنے ہی نام نہاد لیڈر اس کی طرف بے تابانہ بڑھ رہے ہیں


Abdul Qadir Hassan June 24, 2014
[email protected]

کیا مبارک دن تھا کہ میں سر جھکائے سیاست کے اس آستانے میں داخل ہوا اورمیں نے مودودی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر وہ دن بھی دیکھنا تھا جب میں اسی مقام پر اس نورانی چہرے کا آخری دیدار کر رہا تھا۔ سیاست کا ایک نظریاتی دور ختم ہوا۔ نظریاتی ملک کاروباری اور نفع بخش سیاست کے چنگل میں پھنس گیا۔ اس وقت میں پاکستان میں راولپنڈی سے لاہور تک اسی سیاست کا تماشا دیکھ رہا ہوں۔ جو شخص اس ملک کا نصف شہری ہے وہ اس وقت اس قوم کا مرکز نگاہ ہے۔

اس ملک کے کتنے ہی نام نہاد لیڈر اس کی طرف بے تابانہ بڑھ رہے ہیں مگر پولیس ان کو دھتکار کر ہوائی اڈوں سے دورکر رہی ہے۔ ٹی وی پر تو حالات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن چند لمحے قبل اس طیارے کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا یعنی میں گھر بیٹھے یہ تماشا دیکھ سکوں گا۔ لاہور کا ہوائی اڈہ میرے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے لیکن یہ سارا درد بھرا منظر دیکھوں یا نہ دیکھوں مجھے بار بار وہ سیاست یاد آ رہی ہے جس میں رتی بھر ایمان ضرور تھا۔

کوئی لیڈر آپ کو یہ کہتا سنائی دے سکتا تھا کہ اس سے تو ملک کو نقصان ہو گا اور سیاسی کارکن سوچ میں پڑ جاتے تھے مگر اب تو حالت یہ ہے کہ پوری حکومت بھاگتی پھرتی ہے ،کبھی اسلام آباد جاتی ہے کبھی لاہور لوٹ آتی ہے۔ ایک ایسا شخص اس حکومت کے تعاقب میں ہے جس کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جو پاکستانی ہجوم ہے وہ بھی بس ایک ہجوم ہے اس کا مقصد نہیں کوئی منزل نہیں وہ حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہے۔ حکومتی ناانصافیوں اور لیڈروں کی خود غرضیوں کا ماتم کرتا ہے۔

لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے ان استقبالی حالات کو ٹی وی اور کل کے اخباروں کے سپرد کرتے ہوئے اصل اور سو فی صد پاکستانی مسئلہ کی طرف آتے ہیں۔ ہم جہاد کر رہے ہیں ان دہشت گردوں کے خلاف جنہوں نے ہماری قومی سلامتی کو خطرات لاحق کر دیے تھے اور ان کو روکنے کی ہر سیاسی کوشش ناکام ہو چکی تھی ان کے ساتھ طویل مذاکرات کیے گئے جو ناکام رہے وہ کسی بات پر راضی ہی نہیں ہوا کرتے تھے ان کا اصل مطالبہ ایک ہی تھا فی الوقت ایک منی پاکستان ایک چھوٹا آزاد پاکستان جس پر ان کی حکومت ہو اور وہ آگے بڑھ سکیں۔

چھوٹا پاکستان اور پھر اس پاکستان سے آگے بڑھنے کے ارادے یہ ایک سخت خطرناک صورت حال تھی اور اس کو کسی بھی طریقے سے روکنا تھا۔ فوجی کارروائی اور اس نوعیت کے اقدامات کے بارے میں فی الحال کچھ عرض نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ ہمارا نوجوان کسی گھر کا چراغ اور امید اس وقت اس معرکے میں شریک ہے اور اپنی جان کو قربان کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ بات لکھ دینا تو آسان ہے لیکن کوئی ان گھر والوں سے پوچھے جس گھر سے یہ جہاد پر نکلے ہیں، ان مائوں بہنوں اور بچوں، بیویوں سے پوچھیں تو شاید کچھ اندازہ ہو کہ یہ قربانی صرف اللہ کی ذات کے لیے ہی دی جا سکتی ہے۔

دنیا کی کسی دولت وغیرہ کے لیے نہیں۔ اطلاع ہے کہ کوئی نو دس کے قریب جوان زندگیاں قربان کر چکے ہیں، یہ ہمارے ایلچی ہیں جو اللہ کے حضور میں اس قوم کی سفارش کریں گے کیونکہ یہ کھاتے پیتے زندہ رہتے ہیں ، صرف ہم ان کو دیکھ نہیں پاتے۔ یہی وہ انسان ہیں جو برگزیدہ ہیں اور جن کی سفارش پر ہم بھروسہ کرتے ہیں کہ یہ اپنے اس دنیا میں رہ جانے والوں سے دور نہیں ہوں گے آخر یہ انھیں سے اٹھ کر اللہ کی راہ میں نکلے ہیں۔

کسی شہید کے بارے میں تو ہمارے جیسے گنہگار کیا عرض کر سکتے ہیں۔ اس وقت وہ لاکھوں پاکستانی میرے سامنے ہیں جو فوجی کارروائیوں میں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ چھ لاکھ نقل مکانی کر چکے ہیں اور باقی لاکھوں سامان باندھ رہے ہیں اور گھروں سے بھاگ جانے کے ذریعے تلاش کر رہے ہیں۔ پاکستانی آبادی کا یہ انخلا کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کو سب معلوم تھا کہ کیا ہو سکتا ہے لیکن کسی نے اس طرف شاید توجہ نہیں کی۔ اس وقت نقد رقم اور راشن بھی بانٹا جا رہا ہے اور معلوم نہیں یہ امداد ان بے گھر پاکستانیوں کے کس کام آ رہی ہے کیونکہ تعداد بہت ہے اور ہماری انتظامیہ کو ہم خوب جانتے ہیں۔

یہ کام کسی افسراور کسی کارندے کا نہیں بلکہ اصل حکمرانوں کا تھا جن کی فوج ایک معرکے میں جا رہی تھی اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلنا تھا اور فوری نتیجہ یہاں کی آبادی کو گھر بار چھوڑنے کی صورت میں تھا۔ یہ اندازہ کچھ مشکل نہ تھا کہ آبادی کتنی ہو سکتی ہے، اسی طرح یہ بھی کچھ مشکل نہ تھا کہ اس بے گھر آبادی کوکتنی مدد درکار ہو گی اور یہ مدد کس ذریعے سے کی جاسکتی ہے تاکہ یہ زیادہ موثر اور مفید ہو۔ ٹی وی اور اخباری بیانوں کے لیے نہیں یہ مدد ان ضرورت مند پاکستانیوں کو چاہیے جو ایک بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔

ایک مبینہ لیڈر اور ان کی آمد کو ایک ڈرامہ بنا دیا گیا اور سب سے بڑا ڈرامہ وہ غیر ملکی پرواز جس میں نہ جانے کہاں کہاں جانے والے لوگ ہونگے جو ہمیں گالیاں دے رہے ہوں گے۔ ہم نے پہلے ہی تماشے کھڑے کر رکھے تھے کہ اس میں غیر ملکی پرواز کا تماشا بھی کھڑا کر دیا، پتہ نہیں ہم میںعقل تھی ہی نہیں یامت ماری گئی ہے، کیا کوئی حکومت اتنی سادہ بھی ہوتی ہے۔ نئی حکومت نے اپنی مدد کے لیے چند لوگوں کو منتخب کیا، میں نے ایک صاحب سے ان کے نام پوچھے تو انھوں نے جو پہلا نام لیا اس کے بعد میں نے اس قدر زور دار قہقہہ لگایا کہ وہ پریشان ہو گیا اور میرا منہ تکنے لگا۔ میں نے کہا ذرا اس کا عرف عام سمیت نام بتائو جو ہم دونوں کو معلوم تھا چنانچہ اب ہم دونوں ہنسنے لگے اور اپنی حکومت کا انجام سامنے آ گیا۔ اب صرف ایک سال میں سب کچھ کھل گیا ہے۔

اصل بات تو بے گھر پاکستانیوں کی ہے میرے پاس تو کوئی ایسی تنظیم نہیں بحریہ والوں کے پاس تنظیم بھی ہے اور سرمایہ بھی اس طرح عمران خان بھی چندوں کی صورت میں کچھ مدد کر سکتے ہیں۔ ہم آپ بھی کچھ خدمت کر سکتے ہیں لیکن ہمیں بتایا جائے کہ اس کا طریق کار کیا ہے۔ بہرحال ہم ان پاکستانیوں کے ساتھ ہیں جو جہاد کے نتیجے میں پریشان ہو رہے ہیں اور وسائل کے محتاج ہیں یہ سب ہمارے سیاستدانوں کو رو رہے ہیں جو حکمران بھی ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں