سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مضمرات

یہ صورتحال ویسے ہی ایک خطرہ بنی ہوئی تھی کہ عمران خان کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں


Zaheer Akhter Bedari June 24, 2014
[email protected]

مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد بڑی پراعتماد تھی کہ وہ اطمینان سے اپنی آئینی مدت پانچ سال پوری کرلے گی، اس اطمینان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف نے بہت سوچ سمجھ کر چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف کو مقرر کیا تھا، عام تاثر بھی یہی تھا کہ اب معاملات درست سمت میں چلیں گے۔

لیکن حکومت نے پہلی مہم جوئی یہ کی کہ سابق صدر مشرف کے خلاف غداری سمیت کئی سنگین مقدمات قائم کردیے اور ان کے ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک شروع کردیا۔ تھانے کچہریوں کے چکر کے ساتھ اپنے چند عاقبت نااندیش وزرا کے ذریعے مشرف کے خلاف توہین آمیز بیانات کا سلسلہ شروع کرایا، ان ساری بچکانہ حرکتوں سے فوج میں ایک اضطراب دکھائی دینے لگا۔ دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں میں بھی حکومت اور فوج کے درمیان سخت اختلاف رائے رہا۔

یہ صورتحال ویسے ہی ایک خطرہ بنی ہوئی تھی کہ عمران خان کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس پر ستم یہ کہ طاہر القادری بھی حکومت کی جان کو آگئے، موصوف اعلان کے مطابق 23 جون کو ہنگامہ خیز صورتحال میں پاکستان پہنچ گئے تاکہ انقلاب کی قیادت کریں ۔ حکومت عمران خان سے زیادہ طاہرالقادری سے خوفزدہ تھی ، جب خوف شدت اختیار کرلیتا ہے تو اوٹ پٹانگ حرکتیں ہونے لگتی ہیں۔

پنجاب حکومت نے گربہ کشتن روز اول کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن لاہور میں شیخ الاسلام کی رہائش گاہ کے آگے سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر قادری صاحب کے کارکنوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کیں جس کا مقصد قادری صاحب کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ پاکستان آنے کے بعد خطرہ نہ بن سکیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ میاں شہباز شریف نے اس مہم میں پولیس کو کہاں تک جانے کا حکم دیا تھا لیکن پولیس وہاں تک چلی گئی جہاں تک اسے نہیں جانا تھا، براہ راست فائرنگ سے چودہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین شامل تھے۔

الیکٹرانک میڈیا نے پولیس کی اس بربریت کے ایک ایک ایکشن کو اسکرین پر دکھادیا، پھر کیا تھا وہ ہاہاکار مچی کہ چھوٹے پنجاب حکومت کے ہوش اڑ گئے۔حکومت پولیس کی اس بربریت پر معافی مانگنے لگی اور عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں سے معذرت ہونے لگی لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ طاہر القادری کو خوفزدہ اور کمزور کرنے کے لیے جو قدم اٹھایا گیا تھا وہ طاہر القادری کو بے باک اور طاقتور بنانے کا ذریعہ بن گیا۔ اب تو شیخ الاسلام نے 23 جون کو زیادہ اعتماد زیادہ طاقت کے ساتھ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ دیا ، جڑواں شہر سیل کردیا گیا،موبائل فون بند رکھنے کا فیصلہ ہوا، ان کے جہاز کا رخ موڑ کر لاہور کی طرف کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے جہاں جاں بحق ہونے والوں کو 30,30 لاکھ معاوضہ دینے کا اعلان کیا وہیں ایک تحقیقاتی کمیشن کا بھی اعلان کیا ہے جس کے بارے میں مولانا کا ارشاد ہے کہ یہ کمیشن ایک دھوکا ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے۔

میاں برادران کو سب سے بڑا اطمینان یہ تھا کہ برے وقتوں میں پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہوگی لیکن میاں صاحب کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ سیاست خاص طور پر پاکستانی سیاست میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی دوستی اور دشمنی ان کے مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ زرداری صاحب حکومت کی حمایت کا وظیفہ پڑھ رہے ہیں اور خورشید شاہ طاہر القادری کے دکھ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں غالباً آصف زرداری نے خورشید شاہ کو ہدایت کردی ہے کہ وہ ہوا کا رخ دیکھ کر بیانات دیتے رہیں۔

ماڈل ٹاؤن کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف طاہر القادری کے کارکن ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں ، یہ احتجاج مزید کیا شکل اختیار کرے گا اس کا عوام کو انتظار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ حکومت کو بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب تو جمہوریت کا راگ ملہار گانے والوں کے چہرے بھی لٹک گئے ہیں۔ وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ''کیا جمہوریت ایسی ہی ہوتی ہے؟'' کیا جمہوریت میں عوام پر ایسے ہی گولیاں چلائی جاتی ہیں؟ جیسے محاذ جنگ پر دشمنوں پر چلائی جاتی ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کے اس سانحے نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی چولیں ہلادی ہیں۔

حکومتوں کے استحکام کی سب سے بڑی ضمانت عوام کی حمایت ہوتی ہے۔ بدقسمتی یا غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کی حمایت سے محروم ہوگئی ہے اگر حکومت عقلمند ہوتی تو سب سے پہلے مہنگائی کو کم کرکے عوام کے غصے کو کم کرتی مہنگائی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک سرمایہ دارانہ نظام کی عطا کردہ ہوتی ہے، اس پر قابو پانا کسی حکومت کے بس کی بات نہیں لیکن تاجر طبقہ بے مہابا لوٹ مار کے لیے ایک مصنوعی مہنگائی پیدا کرتا ہے جس پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن نااہل حکومتیں قابل حل مسائل کو بھی ناقابل حل بنادیتی ہیں اور یہ سارے بدنام زمانہ کام دھڑلے سے اس لیے ہوتے ہیں کہ ان ناجائز کام کرنے والوں کے ہاتھوں میں کرپشن کا نسخہ ہوتا ہے، ہر قدم پر کرپشن جس ملک کا وطیرہ ہو اس ملک میں کوئی عوامی بہبود اور ایمانداری کا کام ممکن ہی نہیں۔

مہنگائی کے ساتھ ساتھ گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، حکومت دھڑادھڑ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا افتتاح کر رہی ہے لیکن ان سارے منصوبوں کا حال اس تریاق کا ہے جس کے آنے تک مریض روانگی کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ عوام گیس، بجلی کی 18-18 گھنٹے لوڈشیڈنگ سے فوری نجات چاہتے ہیں کیونکہ 45-40 ڈگری پر ان کا پسینہ تیل بن کر نکل رہا ہے اور حکومت جن منصوبوں کا افتتاح کر رہی ہے ان سے بجلی حاصل کرنے میں برس درکار ہیں۔

عوام کا ایک بڑا مسئلہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم ہیں اس حوالے سے عوام حکومت کی مذاکراتی پالیسی میں وقت کی بربادی کو ملاحظہ کرتے رہے ہیں۔ حکومت اور اس کے طبلچی اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہے جب کہ فوج جس کا بھاری جانی نقصان ہو رہا تھا اور جو دہشت گردوں کی فطرت کو سمجھ رہی تھی آپریشن پر زور دے رہی تھی۔ فوج کا یہ موقف عوام کی خواہشوں سے ہم آہنگ تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام حکومت سے بدظن ہوگئے، اس حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر جو تنقید ہوتی رہی وہ عوام کی بدگمانیوں میں اضافے کا سبب بنتی رہی۔

آخر اب بعداز خرابی بسیار خواجہ بیدار شد کے مصداق حکومت نے آپریشن کی جو حمایت کی ہے، اس کا فائدہ حکومت کو نہیں فوج ہی کو ہوا ہے۔ عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن کیا جا رہا ہے، اسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے جس کے ساتھ ساتھ حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ اس آپریشن میں رکاوٹ ڈال کر دہشت گردوں کو فائدہ پہنچایا۔

عوام کے اس موڈ کے تناظر اور ماڈل ٹاؤن کے سانحے کے پیش منظر میں جب ہم حکومت کی اپوزیشن پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بیک فٹ پر کھیلتی نظر آتی ہے اور مولانا طاہر القادری جارحانہ کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں۔ مولانا صرف سیاسی رہنما نہیں بلکہ مذہبی قائد بھی ہیں اور ان کے معتقدین انھیں اپنا اور ملک کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ مولانا کے ساتھ ان کے معتقدین کی عقیدت ایک ایسی بڑی طاقت ہے جو حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا اس طاقت کو اسلام آباد کے دھرنوں کی طرح بے مقصد استعمال کرتے ہیں یا منظم اور منصوبہ بند طریقے سے استعمال کرکے حکومت کو کتنا ٹف ٹائم دیتے ہیں۔

دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاؤن نے حکومت مخالف قوتوں کو الرٹ کردیا ہے۔ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں، اس حوالے سے عمران خان بہت فعال نظر آتے ہیں اگر عمران خان وزارت عظمیٰ کے سحر سے آزاد ہوکر حکومت ہٹانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر طاہر القادری کے ساتھ چلتے ہیں تو بہت ساری چھوٹی پارٹیاں ان کے ساتھ ساتھ آسکتی ہیں حتیٰ کہ پیپلز پارٹی بھی مسلم لیگ حکومت کے خول سے باہر آکر اپوزیشن کا حصہ بن سکتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس اپوزیشن کو عوام کے ساتھ ساتھ ''خواص'' کی حمایت بھی حاصل ہوسکتی ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔

مقبول خبریں