حصص مارکیٹ میں تیزی 307 پوائنٹس کا اضافہ

سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال کے باوجود آئل وپٹرولیم، سیمنٹ، بینکنگ سمیت تمام شعبوں میں وسیع تر خریداری


Business Reporter June 24, 2014
انڈیکس 28999 پر بند، بیشتر کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، مارکیٹ سرمایہ61 ارب روپے بلند،13کروڑ حصص کالین دین۔ فوٹو: آن لائن/فائل

ملک کے سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی28700 ،28800 اور28900 کی تین حدیں بیک وقت بحال ہوگئیں۔

63.58 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی61 ارب42 کروڑ31 لاکھ34 ہزار178 روپے کا اضافہ ہو گیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرطاہرالقادری کے جہازکی لینڈنگ سے متعلق مختلف اطلاعات کی وجہ سے ابتدائی اوقات میں اگرچہ 173.39 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس حوالے سے حکومت کا ردعمل نرم ہونے اور معاملہ حل ہونے کی وجہ سے مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ میں تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ آئل وپٹرولیم ، سیمنٹ، بینکنگ سمیت تقریباً تمام شعبوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مارکیٹ میں بہتری رونما ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر31 لاکھ49 ہزار 649 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے16 لاکھ9 ہزار246 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے8 لاکھ58 ہزار 709 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے90 ہزار449 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے5 لاکھ91 ہزار244 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بہتری رونما ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس307.19 پوائنٹس کے اضافے سے 28999.03 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس226.50 پوائنٹس کے اضافے سے19932.28 اور کے ایم آئی30 انڈیکس518.04 پوائنٹس کے اضافے سے46511.34 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت17.66 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ38 لاکھ22 ہزار560 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار324 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں206 کے بھائو میں اضافہ، 89 کے دام میں کمی اور29 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔