انقلاب کی نہیں لیڈر شپ کی ضرورت
ان گروپوں میں کچھ ایسے عوامل بھی شامل تھے جو حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تھے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگوں، ڈاکٹرز، پروفیسر، عالم، مفتی، غیرملکی شہریوں، فورسز کے افسروں سے لے کر پولیو کے مرض سے بچوں کو بچانے والی خواتین کو سرعام شہیدکردیا گیا۔ مساجد، گرجا گھروں، سڑکوں سے لے کر سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر دہشتگردی کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی تھیں۔ وفاقی حکومت نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان کے کچھ ایسے گروپوں سے مذاکرت کرنے کا فیصلہ کیا جو مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔
ان گروپوں میں کچھ ایسے عوامل بھی شامل تھے جو حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ واضح رہے یہاں پر پہلے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے جملے پیش کرنا چاہوں گا، انھوں نے 2 نومبر 2013 کو امریکا کے ڈرون حملے میں طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کے حالیہ ڈرون حملے نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ امریکا نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکا پاکستان میں امن قائم کرنا نہیں چاہتا۔ طالبان کے 56 سے زائد چھوٹے بڑے گروپ ہیں۔ ہم نے تنکا تنکا جوڑ کر پاکستان میں امن لانے کی کوشش کی ''وغیرہ وغیرہ''۔
اس پریس کانفرنس میں چوہدری نثار کافی سنجیدہ اور غصیلے نظر آئے۔ ن لیگ نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے سلسلے میں تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ن لیگ کے حکمرانوں کو پتہ تھا کہ مذاکرات کامیاب ہی ہونگے، نا کام ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لیے کامیابی کے آپشن پر ہی اپنی پالیسی کو مرکوز رکھا۔ ناکامی کے بعد کے مراحل کو خاطر میں نہیں لائے۔ پوچھا کہ اگر آپریشن کا فیصلہ ہوا تو وزیرستان سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرینگے اس کی کیا پالیسی ہو گی؟ وغیرہ و غیرہ۔ بہرحال وفاقی حکومت کی پالیسی صرف مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے تھی۔
مسلم لیگ ن نے طالبان سے مذاکرات کرنے کی کوشش کیا سمجھ کے کی تھی؟ کیا وہ کوئی الزام اپنے پیچھے نہیں چھوڑنا چاہتے تھے تاکہ مستقبل میں یہ ابہام نہ رہے کہ انھوںنے امن لانے کی جمہوری کوشش نہیں کی۔ اگر یہ سوچ تھی تو اس سوچ پر نواز لیگ کو داد ملنی چاہیے۔ لیکن ن لیگ کی یہ سوچ لاہور واقعہ میں عوامی تحریک کے ایک چھوٹے سے احتجاج میں لوگوں کو سرعام سڑکوں پر گولیوں مار کرکیوں پیش کی گئی؟ بلاشبہ ن لیگ کی حکومت نے طالبان سے مذاکرات والی سوچ پر عمل کرنے کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق مذاکرات کے دوران ملک میں تقریبا 40 سے زائد خودکش حملوں میں کئی بے گنا ہ معصوم جانیں ضایع ہوئیں۔ فوجی افسروں سے لے کر غریب آدمی کو نشانہ بنایا گیا۔ شہر، صوبہ، قصبہ، تحصیل کوئی ایسی جگہ نہیں جو دہشت گردی کے واقعات سے روشناس نہیں ہوئی ہے۔ ایف سی اہلکاروں کو کئی ماہ اغوا کرنے کے بعد شہید کیا۔ لیکن مذمت کرنے میں ہمارے لیڈر سب سے آگے، دوسری طرف مذاکراتی عمل کامیابی سے جاری رہے گا، روایاتی بیانات، اسمبلی کے اجلاس سے لے کر کابینہ کے اجلاس کی خبریں میڈیا کی زینت بنی رہی۔ مذاکراتی عمل چلتا رہا۔ حملے ہوتے رہے۔
4 جون 2014 کو راولپنڈی کے علاقے فتح جنگ میں خودکش حملے میں دو پاکستان آرمی کے کرنل محمد ظہیر اور کرنل محمد ارشد سمیت پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کی ذمے داری طالبان نے قبول کی۔ ابھی فتح جنگ خودکش دھماکے کی مذمت چل ہی رہی تھی کہ کراچی ائر پورٹ پر حملہ ہوتا ہے اور کئی معصوم لوگ اس دہشت گرد کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ان واقعات کے بعد وفاقی حکومت حرکت میں آتی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن ملٹری آپریشن ضرب عضب شروع کیا جاتا ہے۔ تمام جمہوری، امن پسند سیاسی، مذہبی جماعتوں نے اس آپریشن کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان آرمی نے ضرب عضب آپریشن شروع جس انداز میں کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
پاکستان آرمی نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے بہادر جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس آپریشن سے پہلے ملک کی صوتحال بہت خراب تھی۔ ایک دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت سیاسی، مذہبی، سماجی لیڈر کر ہی رہے ہوتے کہ دوسرا واقعہ پیش ہو جاتا تھا۔ ملٹری آپریشن ضرب عضب کے بعد صورتحال کنٹرول میں آئی ہیں۔ لیکن حکمرانوں میں پالیسی میکر اور دوراندیشی کا شدید فقدان آپریشن کے بعد بھی محسوس ہوتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں 42% بچوں کی تعداد ہے اور گزشتہ دو سالوں سے شمالی وزیرستان میں پولیو کے قطرے ان بچوں کو نہیں پلائے جا سکے۔ سیاسی اکابرین کہتے ہیں کہ اب ملٹری آپریشن کے پیش نظر یہ لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے باہر آئے ہیں۔
وفاقی حکومت کے پاس موقع ہے کہ ان افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں ۔ لیکن اس پر پالیسی میکر اور دوراندیشی کے فقدان کی وجہ سے عمل نہیں ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کے ذریعے ملک کے دیگر علاقوں میں پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ IDPs معاملہ بہت اہم ہے۔ جس کی پالیسی پہلے سے بنانی چاہے تھی۔ IDPs کا معاملہ انسانی حقوق کے نام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کو IDPs کے مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔ شاید حکمران عوامی تحریک کے اس اسلام آباد کے دھرنے کو بھول گئے جو شاید لاہور کے احتجاج سے بہت بڑا اور دیرپا تھا۔ پاکستان اس وقت الیکشن کے دوراہے پر کھڑا ایک جمہوری حکومت کی مدت پوری کر کے اپنی نئی تاریخ رقم کررہا تھا۔ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے تحمل، سیاسی سمجھداری، برداشت کا عملی مظاہرہ کیا اپنی دانش مندی سے اس دھرنے کو ختم کروا دیا۔ لیکن اس سیاسی سمجھداری کو آخر موجودہ حکومت کیوں استعمال نہیں کر رہی؟
انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کی کڑی افغانستان سے ملتی ہے۔ کراچی آپریشن سے لے کر خودکش حملوں کی ابتدائی رپورٹو ں میں تمام کیسز کی جڑیں پڑوسی ملک سے ملتی ہیں۔ دوسری طرف وفاقی کابینہ افغان پناہ گزینوں کو 2016 تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دے دیتی ہے جب کہ پاکستان میں امن و امان کو قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ افغان پناہ گزین ہیں۔
وانا سے لیکرکراچی آپریشن تک، افغان پناہ گزینوں کا بالواسطہ یا بلاواسطہ امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کے خراب ہونے میں اہم کردار رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی پالیسیاں سمجھ سے بالاترہیں۔ ان دنوں پاکستان اپنی تاریخ کے بہت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کے مستقبل کے بارے میں عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ روایتی بیانات اور جذباتی تقاریر سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان میںکسی انقلاب کی نہیں لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمیں کوئی ایسی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے جس کا فائدہ کوئی اور اٹھائے اور ہمارے پاس سوائے ندامت و مذمت کے باقی کچھ نہ ہو۔