تھری جی ٹیکنالوجی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں

تمام سیلولرکمپنیوں نے سندھ کے 27 ایس ایس پیز کواپنے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔


Ehtisham Mufti June 29, 2014
پاکستان میں تھری جی اورفورجی کا مستقبل تابناک ہے، فاروق نیاز فوٹو: فائل

BEIJING: تھری جی ٹیکنالوجی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی خدمات کوبھی فروغ ملے گا جبکہ براڈ بینڈصارفین کی تعداد میں آئندہ 6سال کے دوران تیزی سے اضافہ ہوگا۔

سیلولرکمپنی ٹیلی نار کی جانب سے صحافیوں کے لیے تھری جی ٹیکنالوجی سے متعلق منعقدہ ورکشاپ سے کمپنی کے ریجنل منیجرعاطف فاروقی اور منیجرکارپوریٹ کمیونیکیشن فاروق نیاز نے کہا کہ پاکستان میں تھری جی اورفورجی کا مستقبل تابناک ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ تھری جی متعارف ہوتے ہی گزشتہ ایک ماہ کے دوران براڈ بینڈ صارفین کی تعداد اور ٹیکنالوجی کے استعمال کنندگان کی تعداد میں بھی خوش کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اورتوقع ہے کہ ہے کہ سال2020 تک موبائل فون پر براڈبینڈ صارفین کی تعداد40 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تمام سیلولرکمپنیوں نے سندھ کے 27 ایس ایس پیز کواپنے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ مقامی سیلولر کمپنیاں پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی متعارف کرنے میں سست رفتاری کا مظاہرہ کررہی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تھری جی ٹیکنالوجی کے حصول میں جن سیلولر کمپنیوں کی جانب سے300 تا500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اب انکی خواہش ہے کہ وہ جلد ازجلد اس سرمایہ کاری کا ریٹرن بھی حاصل کریں تاہم سیلولرکمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں اس نئی ٹیکنالوجی کے نیٹ ورک کی توسیع اور ملک گیر سطح پر متعارف کرانے میں وقت لگے گا جس کے 3 مراحل ترتیب دیے گئے ہیں اور تیسرے مرحلے کے تحت 4 سال کی مدت میں اس ٹیکنالوجی کو ملک بھر کے تحصیل ہیڈکواٹرز تک توسیع دیدی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تھری جی ٹیکنالوجی پر موسمی تغیرات اثرانداز ہوتے ہیں ۔

جس کی وجہ سے سگنلز کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، فریکوینسی کی وجہ سے کوریج ایریا میں بھی کمی ہوتی ہے جس کے لیے سیلولر کمپنیوں نے نئے ٹاورز کی تنصیب کیلیے بھی سرمایہ کاری پلان ترتیب دے دیا ہے، پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد مختلف مصنوعات کی فروخت کے لیے صرف ایک اسمارٹ موبائل فون پر دکانیں کھولی جاسکتی ہیں جس کے توسط سے ملک کے ہرحصے سے خریدوفروخت اور اشیا کی ڈلیوری وادائیگیاں ممکن ہو گئی ہیں، تھری جی ٹیکنالوجی کی بدولت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دوردراز پسماندہ علاقوں کے بچوں کواسمارٹ فون کے ذریعے باقاعدہ کلاسیں قائم کرکے تعلیم دی جاسکتی ہے جبکہ مریضوں کو ملک کے کسی بھی حصے سے ڈاکٹروں کے مشورے ودیگر سہولتیں ویڈیوکال کے ذریعے مل سکیں گی۔

مقبول خبریں