’’ بوم بوم‘‘ کا ساتھ دیں
آج اگر شاہد آفریدی دنیا کے چند بہترین آل رائونڈرز میں سے ایک ہیں تو اس کا تمام تر کریڈٹ ان کے والد کو جاتا ہے
KARACHI:
وقت اتنی تیزی سے گذرتا ہے کہ انسان کو پتا ہی نہیں چلتا، کل ہی کی بات لگتی ہے جب نٹ کھٹ سا شاہد آفریدی اپنی کرکٹ کے سوا کسی بات کا سوچتا تک نہیں تھا، اسے فکر بھی کیوں ہوتی گھر میں والد صاحب کی موجودگی اطمینان دلانے کیلیے کافی رہتی، صاحبزادہ فضل الرحمان آفریدی بھی اس کی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھتے،کوئی غلط شاٹ ہو یا بیان وہ فوراً مجھ سے اس بارے میں تبادلہ خیال کرتے، ان کی کوشش ہوتی کہ بیٹے کے کیریئر کو کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔
آج اگر شاہد آفریدی دنیا کے چند بہترین آل رائونڈرز میں سے ایک ہیں تو اس کا تمام تر کریڈٹ ان کے والد کو ہی جاتا ہے، انھوں نے ہمیشہ انھیں بھرپور انداز سے سپورٹ کیا،پھر اچانک حالات میں ڈرامائی تبدیلی آئی، صاحبزادہ فضل الرحمان بیمار پڑگئے، بعد میں علم ہوا کہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں،اس کے باوجود انھوں نے پوری کوشش کی کہ اپنی بیماری سے شاہد کی کرکٹ پر کوئی اثر نہ آنے دیں، چھوٹے بیٹے مشتاق آفریدی نے کم عمری میں بااحسن انداز سے تمام معاملات سنبھال لیے، والد کو علاج کیلیے بیرون ملک بھی لے جایا گیا۔
اس دوران شاہد بھی ان کا خیال رکھتے رہے، ساتھ ملک کیلیے کرکٹ کھیلنا بھی جاری رکھا، ان کے والد کی یہی کوشش ہوتی کہ ٹورز کے دوران بیٹے کو بیماری کی سنگینی سے کم سے کم واقفیت ہو، وہ مجھے بھی یہی تلقین کرتے کہ ''بیٹا کبھی شاہد باہر سے فون کرے تو اس سے کہنا کہ میری طبعیت میں بہتری آ رہی ہے''۔ پھر ایک دن صاحبزادہ فضل الرحمان کا انتقال ہو گیا،اب گھر کی تمام تر ذمہ داری شاہد اور مشتاق پر آ گئی اور ان دونوں نے اپنے تمام فرائض بااحسن انداز میں ادا کیے، صاحبزادہ فضل الرحمان میں غریبوں کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، جب بھی ان کے گھر گیا لوگوں کا تانتا بندھا دیکھا،شاہد کا کوئی عام پرستار ہو تو وہ اسے بھی گھر بٹھا کر عزت دیتے،ان کی عادات بیٹے میں بھی آئیں، شاہد گوکہ فلاحی کاموں میں پہلے سے ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، مگر والد کی وفات کے بعد مزید اضافہ کر دیا۔
اب انھوں نے اپنے گائوں تنگی بانڈا میں والد سے منسوب ایک اسپتال سے ''شاہد آفریدی فائونڈیشن'' کا آغاز کیا ہے،آفریدی نے گذشتہ دنوں کراچی میں میڈیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا، یہ اسپتال شاہد آفریدی نے خود تعمیر کرایا، اس پر تقریباً پونے دو کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ زمین بھی ان کی اپنی تھی،آفریدی اب اس کام کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں، وہ شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد نقل مکانی پر مجبور لوگوں کی بھی امداد کے خواہاں ہیں، اس مقصد کیلیے کرکٹ میچ بھی کرانے کا اعلان کیا ہے، پی سی بی نے تو ایسی کوئی بات نہیں سوچی اب شاہدآفریدی ایسا کرنا چاہتے ہیں تو انھیں بھرپور سپورٹ کرنا چاہیے۔
آفریدی کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ باقی زندگی بھی شان سے بسر کر سکتے ہیں، انھیں جتنی عزت ملی دنیا میں کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، ہر ملک میں ان کے پرستاروں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس کے باوجود وہ کرکٹ سے فراغت کے دنوں میں انگلش کائونٹی یا دیگر لیگز کھیل کر مزید دولت کمانے کے بجائے اپنے ہم وطنوں کی امداد کا کام کر رہے ہیں، ماضی میں بھی جب زلزلہ آیا یا کوئی اور بڑی آفت شاہد آفریدی ہمیشہ امدادی سرگرمیوں میں نمایاں نظر آئے، اب تو وہ خود اپنی آرگنائزیشن قائم کر چکے ہیں، عوام کو بھی بڑھ چڑھ کر ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
بوم بوم نے کرکٹ میں پاکستان کو کئی میچز جتوائے، مرجھائے ہوئے چہرے ان کے چھکوں سے کھل اٹھتے،کرکٹ میں شاہد آفریدی کی شہرت بے داغ رہی ہے، ان پر کبھی میچ فکسنگ جیسا کوئی الزام نہیں لگا، آل رائونڈر پر لوگ بھروسہ کر سکتے ہیں، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں کتنی ایسی معروف شخصیات ہیں جو دوسروں کیلیے سوچتی ہیں،پاکستان میں بڑے بڑے کرکٹرز گزرے جو اب بھی کروڑ پتی ہونے کے باوجود دو روپے کا فائدہ دیکھیں تب ہی کوئی کام کرتے ہیں، ان کی لالچ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
بعض مخیر حضرات کسی کو سلائی مشین بھی اس لیے دیتے ہیں کہ اخبار میں تصویر چھپ جائے، ملک میں اگر ہر امیر اپنی رقم کا معمولی سا حصہ بھی غریبوں کیلیے وقف کر دے تو غربت کا خاتمہ ہو جائے، مگر افسوس کہ ایسا ہوتا نہیں ہے، پاکستان میں آفریدی جیسے لوگوں کی بڑی کمی ہے، اب انھوں نے ایک نیک کام کا بیڑا اٹھایا تو سب کو ان کا ہم قدم بننا چاہیے، ٹویٹر پر ملکی حالات پر کڑوے کسیلے تبصرے کرنا مشکل کام نہیں، عملی زندگی میں بہتری کیلیے کوشش کرنی چاہیے۔ بوم بوم ایک بار پھر دھوم مچانے کیلیے تیار ہیں، کیا نیک کام میں آپ اس کا ساتھ دیںگے؟