اگر…
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت کا اندازہ وزیر اعظم کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت کا اندازہ وزیر اعظم کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''اگر ہمیں مدت پوری کرنے دی گئی تو ہم ملک کی تقدیر بدل دیں گے'' یہ بیان وزیر اعظم نے ضلع کوہستان میں داسو کے مقام پر ایک پن بجلی کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے دیا۔ اب سے کچھ دن پہلے تک وزیر اعظم اور ان کے محترم رفقا کے بیانات میں صرف اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا عزم مستحکم موجود تھا بلکہ ان حضرات کے بیانات میں گھن گرج بھی ہوا کرتی تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مختصر عرصے میں اتنی بڑی تبدیلی اور مایوسی کیوں آگئی؟ اس کی ظاہری وجوہات تو یہ نظر آرہی ہیں کہ اپوزیشن کا رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے خصوصاً مولانا طاہر القادری اور عمران خان کے سخت رویوں کی وجہ سے حکمران طبقات میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور مسائل کے انبار میں گھرے ہوئے عوام میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔
جمہوری نظام اگر مستحکم ہو تو منتخب جمہوری حکومتیں کسی ڈر خوف کے بغیر اپنے اقتدار کی آئینی مدت پوری کر لیتی ہیں لیکن جن ملکوں میں جمہوریت کمزور اور معنوی ہوتی ہے وہاں سیاسی عدم استحکام حکومتوں کے سروں پر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نامی چیز انتہائی غیر مستحکم اور پرائمری اسٹیج پر ہے لیکن 66 سال کا عرصہ بہرحال اتنا طویل ہوتا ہے کہ اس عرصے میں نام نہاد ہی صحیح جمہوریت جڑیں پکڑ لیتی ہے جس کی ایک بڑی مثال بھارت ہے۔
بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے ہیں لیکن بھارت میں جمہوریت مستحکم ہے جب کہ پاکستان میں جمہوریت کا حال ریت کی دیوار جیسا ہے کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا ریت کی اس دیوار کو زمین دوز کردیتا ہے۔ اس حوالے سے اہل سیاست اپنی کمزوریوں اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے یہ بہانہ تلاش کرتے ہیں کہ پاکستان میں بار بار آنے والے فوجی انقلابوں نے جمہوریت کو مستحکم ہونے ہی نہیں دیا۔ اس قسم کے بہانے کرنے والے اس حقیقت کو جان بوجھ کر پس پشت ڈالتے ہیں کہ پاکستان میں فوجی انقلاب سیاسی رہنماؤں کی خواہشوں اور ناقص کارکردگی سے آتے رہے ہیں اور فوجی حکومتیں ان ہی بددیانت سیاستدانوں کی مدد سے دس دس گیارہ گیارہ سال ملک پر حکومت کرتی رہی ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جمہوریت کی بنیاد اور اساس یعنی انتخابات ہی پاکستان میں متنازعہ ہیں۔ پاکستان کی سیاست پر جن طبقات کا قبضہ ہے انھوں نے اس ملک میں وہ انتخابات ہونے ہی نہیں دیے جن میں عوام اپنی مرضی اور خوشی سے اکثریت کے ساتھ حصہ لیتے ہیں یہاں کے ووٹروں کی حیثیت ان ریوڑوں کی سی ہوتی ہے جنھیں اپنی مرضی کے مطابق ہانک کر لایا جاتا ہے۔ خاص طور پر زرعی معیشت پر قابض طبقہ اپنے زرعی غلاموں کو ہانک کر پولنگ اسٹیشن لاتا ہے اور اپنی مرضی کے نشانوں پر ٹھپہ لگواکر انھیں بھگا دیتا ہے۔
اس بددیانتی کے علاوہ ایک بددیانتی یہ کی جاتی ہے کہ اپنے کارندوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر جعلی ووٹ ڈالوائے جاتے ہیں یہ جعل سازی اتنے بڑے پیمانے پر ہوتی ہے کہ انتخابات ایک فراڈ بن جاتے ہیں۔تحریک انصاف کو شکایت ہے کہ 2013 کے الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی کرائی گئی اور یہ دھاندلی مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں کی گئی جس کے سربراہ شہباز شریف تھے۔
تحریک انصاف پنجاب کے صرف چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیق کا مطالبہ کر رہی ہے اگر حکومت دھاندلی کے الزامات کو تسلیم نہ کرنے میں حق بجانب ہوتی تو تحریک انصاف کے مطالبے کو تسلیم کرکے تحریک انصاف کے مطالبے کے مطابق ان چار حلقوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی تحقیق پر آمادہ ہوجاتی کیونکہ اگر ان چار حلقوں میں ری پولنگ کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں سے سب کی سب چار یا کچھ نشستیں نکل بھی جاتیں تو اس کی حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن حکومت اس خوف سے تحریک انصاف کا مطالبہ ماننے سے گریزاں ہے کہ اگر ان چار نشستوں پر بدعنوانی ثابت ہوگئی تو نہ صرف انتخابات مشکوک ہوجائیں گے بلکہ تحریک انصاف اسے جواز بناکر پنجاب میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کردے گی اور یہ مطالبہ اس طرح جائز ہوجائے گا کہ حکومت کے لیے ری پولنگ سے فرار ممکن نہیں رہے گا۔
جو حکومتیں عوام کے حقیقی ووٹ سے انتخابات جیت کر اقتدار میں آتی ہیں وہ اپوزیشن سے خوفزدہ رہتی ہیں نہ مایوسی کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ عوام کی طاقت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہماری جمہوری حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ انتخابات جن حربوں کے ساتھ جیت کر اقتدار میں آتی ہیں عوام کی طاقت ان کے ساتھ نہیں ہوتی یہی وہ خوف ہوتا ہے جو مایوسی میں بدل جاتا ہے اور حکمرانوں کی زبان سے اگر مگر بن کر باہر آتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری ایک سیاسی رہنما بھی ہیں اور مذہبی رہبر بھی بلاشبہ ان کے معتقدین لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور وہ اپنے قائد کے حکم پر سڑکوں پر آسکتے ہیں لیکن جمہوری کلچر میں تو یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران قادری صاحب نے جو بہت بڑا ایڈونچر کیا تھا اس سے حکومت نہ خوفزدہ ہوئی نہ مایوس اور نہ خوف اور مایوسی میں ایسی حرکتیں کیں جس کا فائدہ قادری کو ہو۔ اس کے برخلاف موجودہ (ن)لیگی حکومت خوف زدہ بھی ہے اور مایوس بھی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن اسی خوف اور مایوسی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ صرف حکومت ہی کی بدنامی نہیں ہوئی بلکہ جمہوریت کا چہرہ بھی داغدار ہوا۔
منتخب حکومتوں کے خوف اور مایوسی کی دوسری وجہ اپنے منشور اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں اس جمہوریت کو فراڈ جمہوریت کہا جاتا ہے اور اس جمہوریت کے سرپرست ہمیشہ خوف اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں جس کا ایک نمونہ ہم محترم وزیر اعظم کے اس بیان میں دیکھ رہے ہیں جس میں موصوف کہہ رہے ہیں ''اگر ہمیں مدت پوری کرنے کا موقعہ دیا گیا تو ہم ملک کی تقدیر بدل دیں گے'' اس مایوسی کے عالم میں بھی میاں صاحب نے عوام کو بہتر مستقبل کی جو امید دلائی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ ملک کی تقدیر بدلنا تو دور کی بات ہے ملک کی تقدیر بدلنے کی سمت آگے بڑھنے کی پہلی شرط Status Quo کو توڑنا ہے جو اس ملک کے گلے میں 66 سالوں سے طوق کی طرح لٹکا ہوا ہے۔ کیا میاں صاحب Status Quo توڑنے کے لیے تیار ہیں؟
عوامی مسائل حل نہ ہونے اور ان میں کمی کے بجائے اضافہ ہونے کی وجہ بلاشبہ عوام میں اضطراب بھی ہے اور اشتعال بھی لیکن اس کے ساتھ عوام میں یہ مایوسی بھی ہے کہ ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت کوئی ایسی سیاسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو واقعی ملک کی تقدیر بدل دے کیونکہ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اپنی اپنے خاندان اور اپنے طبقے کی تقدیر بدلنے کے 66 سالہ پرانے اور گندے کھیل سے باہر آنا ہوگا۔
ملک کی تقدیر بدلنے کا کام بڑی قربانیاں مانگتا ہے اور وہ لوگ وہ قیادت ایسی قربانیاں کبھی نہیں دے سکتے جو اقتدار پر مستقل قبضے کے لیے اپنی آل اولاد کو عوام کے سروں پر مسلط کرنے کے لیے عوام کی دولت کو اپنے ولی عہدوں کی مشہوری کے لیے بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوتی ہے اور دکھ ہوتا ہے کہ جمہوریت کے نام کی مالا جپنے والے حیلوں بہانوں لنگڑے لولے جوازوں کے ساتھ خاندانی جمہوریت کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔
آج موجودہ حکومت کو گرانے کے خواہشمند عوام کو بار بار انقلاب کے مژدے سنا رہے ہیں اور عوام حیرت سے ان انقلاب فروشوں کی باتیں اس لیے سن رہے ہیں کہ عوام جانتے ہیں کہ انقلاب نہ رنگ برنگی تتلیوں کا نام ہے نہ یہ کوئی گلی ڈنڈے کا کھیل۔ انقلاب ایک ایسی بے رحم جراحی کا نام ہے جس میں قومی جسم کے ان ناسوروں کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے جو قومی جسم کو کسی قیمت پر صحت مند ہونے نہیں دیتے۔