بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری جولائی تا مئی 48 فیصد گرگئی

11 ماہ کے دوران نیشنل سیونگز کی بچت اسکیموں اور پرائز بانڈز میں مجموعی سرمایہ کاری174.1 ارب روپے رہی


Business Reporter July 02, 2014
ڈیفنس سیونگز 11.85 ارب، ریگولر انکم 59 ارب، اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس 50.5 ارب، پرائز بانڈز 49 ارب اور متفرق اسکیموں میں 3.45 ارب کی سرمایہ کاری ہوئی۔ فوٹو: فائل

قومی بچت اسکیموں میں گزشتہ مالی سال 280 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف حاصل نہ ہوسکا، مالی سال 2012-13کے مقابلے میں 2013-14 کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری 48 فیصد کم رہی۔

نیشنل سیونگز کی مختلف بچت اسکیموں اور پرائز بانڈز میں مجموعی جولائی 2013 سے مئی 2014 تک سرمایہ کاری 174 ارب روپے تک محدود رہی، مالی سال 2012-13 میں قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری 224 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 188.3ارب روپے کے اضافے سے 386 ارب روپے رہی تھی جو ہدف سے 105فیصد زائد تھی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2013-14 کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران نیشنل سیونگز کی مختلف بچت اسکیموں اور پرائز بانڈز میں مجموعی سرمایہ کاری کی مالیت 174.1 ارب روپے رہی جو مالی سال 2012-13کے اسی عرصے میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 48 فیصد کم ہیں، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران نیشنل سیونگز میں 335ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

مئی کے مہینے میں قومی بچت اسکیموں میں 4.7ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی جو مئی 2013 میں کی جانے والی 19.2ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 75.5فیصد کم رہی۔ ماہرین کے مطابق 2012-13 کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری معمول سے کہیں زیادہ تھی، اسی وجہ سے گزشتہ مالی سال سرمایہ کاری کا رجحان معمول پر آنے کی وجہ سے نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2013-14 کے 11 ماہ کے دوران ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس میں 11 ارب 85 کروڑ روپے، ریگولر انکم سرٹیفکیٹس میں 59 ارب 13 کروڑ 71 لاکھ روپے، اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس میں 50ارب 50 کروڑ 85 لاکھ روپے، پرائز بانڈز میں 49 ارب 22 کروڑ 75 لاکھ روپے جبکہ متفرق اسکیموں میں 3 ارب 45 کروڑ 76 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ واضح رہے کہ حکومت نے یکم جنوری سے نیشنل سیونگز پر منافع کی شرح پر نظرثانی کرتے ہوئے منافع کو پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے منسلک کردیا، ساتھ ہی نیشنل سیونگز کے منافع اور سروس چارجز قبل از وقت بھنوائی (رڈیمشن) پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا۔