کپتی عورت نہیں رن
آج سب سے پہلے ایک تصحیح اور وہ بھی ڈرتے ڈرتے ایک نوخیز سیاستدان وزیر کی۔
آج سب سے پہلے ایک تصحیح اور وہ بھی ڈرتے ڈرتے ایک نوخیز سیاستدان وزیر کی۔ یہ ہیں جناب محترم عابد شیر علی وزیر مملکت پانی و بجلی۔ یہ نوجوان میاں صاحب کی کزن کا بیٹا ہے اور بڑا لاڈلا ہے۔ تبھی تو میاں خاندان سے براہ راست تعلق نہ ہونے کے باوجود وزیر ہے۔ عابد نے اپنی سیاسی زندگی میں یوں تو بہت کچھ کہا ہے لیکن وہ ایک غلطی کر گئے انھوں نے ایک مخالف لیڈر تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید کو کپتی عورت کہا ہے جو پنجاب میں خواتین کا ایک مقبول عام محاورہ ہے لیکن اس میں ایک ایسی غلطی کی گئی ہے کہ محاورے کا جوہر نکال دیا گیا ہے۔
اصل محاورہ ہے ''کپتی رن''۔ رن اور عورت میں بہت فرق ہے اور جو تلخی اور غیض و غضب 'رن' میں ہے وہ عورت میں ہرگز نہیں ہے اس لیے عابد صاحب کو اپنی مخالف ایک خاتون کو جو مرد ہے اگر گالی دینی ہے تو عورت نہیں رن کہیں تاکہ لطف بھی آئے گالی دینے' کھانے والے اور سننے والوں سب کو مزا آئے۔ ہماری سیاست پہلے تو طنز و مزاح اور سیاسی و ادبی قسم کی چوٹوں کا مرقع ہوا کرتی تھی اب سیدھی سادی گالی گلوچ تک جا پہنچی ہے۔
یہ میاں صاحبان کے سیاسی اور حکومتی دور کی علامت ہے جو سیاسی تاریخ میں یاد رہے گی۔ بات خواہ مخواہ کہیں اور چلی گئی ورنہ عرض تو صرف اتنا کرنا تھا کہ پنجابی کے یہ زبان زد خواتین محاورے میں عورت نہیں رن ہے اور جو رن میں بات ہے وہ عورت میں کہاں۔ اب چونکہ سیاست میں گالی گلوچ شروع ہو چکا ہے اور وہ بھی سرکاری سطح پر اس لیے زبان اور محاورے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یہاں عربوں کا ایک مشہور محاورہ یاد آ گیا اور اس کے یاد آنے کی وجہ حکمرانوں کی زبان ہے، محاورہ ہے ''کلام الملوک ملوک الکلام'' یعنی بادشاہوں کی بات باتوں کی بادشاہ ہوتی ہے۔ اس لیے اب اس محاورے کو لمبا نہیں کرتے یہ خود بخود ہی بڑھتا چلا جائے گا۔ بڑے لوگوں کی باتوں کی طرح جن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ کپتی رن تو ایک پرانا محاورہ تھا اس میں ایک شہزادے کی وجہ سے نئی جان پڑ گئی ہے۔ اب یہ سیاسی دنیا میں زندہ و سلامت رہے گا۔
آج ہی ایک اور خبر چھپی ہے جو فوج کے معاملے میں ہے ایک سابق فوجی افسر نے اپنے ایک پرانے افسر پر تنقید کی ہے۔ ایک افسر ہے میجرجنرل اطہر عباس دوسرا ہے جنرل کیانی۔ جنرل عباس فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے انچارج تھے اور ان کی ڈیوٹی تھی فوج اور فوج کے سربراہ کی تشہیر اور ترجمانی لیکن ادھر موصوف خود اس عہدے اور تنخواہ پر ریٹائر ہو گئے اور جرنیل صاحب بھی چلے گئے اور یہ اپنی عمر بھر کی نوکری کے آداب بھول کر اپنے سابق باس کے خلاف شروع ہو گئے۔ ہم تو فوج کے کلچر میں رکھ رکھائو کا بڑا چرچا سنتے تھے لیکن تازہ مثال ایک عام سپاہی یا حوالدار کی نہیں جرنیل کی ہے۔
عجیب اتفاق ہے کہ ابھی ایک سیاستدان کی خاص زبان کا ذکر ہوا تھا کہ ایک فوجی بھی سیاستدان بن گیا۔ بتاتے ہیں کہ فوجی کو جرنیل نے ترقی نہیں دی اور وہ اس قدر ناراض ہوئے کہ پر تکلف اور روائت کو چھوڑ کر ایک سیاستدان بن گئے یعنی سیاستدانوں والی باتیں۔ اگرچہ میرا کبھی فوج سے خصوصی تعلق نہیں رہا ورنہ میں منت سماجت کر کے ان کے لیے ترقی کی کوشش ضرور کرتا۔ کوئی وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب سنی جاتی ہے شاید یہ وقت بھی ایسا ہی ہوتا بہرکیف ہم اپنے سابقہ جرنیل جناب اطہر عباس سے مکمل ہمدردی رکھتے ہیں خدا انھیں صبر دے اور ریٹائرمنٹ کی زندگی کو انجوائے کرنے کا حوصلہ دے۔
ادھر ایک اور تشویشناک خبر موصول ہوئی ہے کہ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی صاحب کے استعفی دینے کا امکان ہے کیونکہ حکومت یعنی وزیراعظم کے ساتھ ان کے اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان دونوں اہم ترین حکمرانوں کے درمیان کھچائو کی خبریں ہی نہیں تھیں یہ واضح طور پر نظر بھی آ رہا تھا اور یوں خطرناک تھا کہ پاکستان جیسے بدامنی کے بحران میں پھنسے ہوئے ملک میں اگر وزیراعظم اور ان کے دست راست وزیر داخلہ میں ہم آہنگی نہ ہو تو یہ ایک خطرناک بات ہے اور اس کا اثر نیچے تک پڑتا ہے۔ پہلے ہی ہم بدامنی کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کر رہے ہیں بلکہ بے مثال جس پر ہم خود بھی حیران ہیں۔
ماڈل ٹاؤن کا واقعہ انتہائی بدامنی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی ایک مثال بن کر زندہ رہے گا جس میں وہ کچھ ہوا جس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے یوں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اس واقعہ کا ذکر بھی ایک بہت بڑا قومی گناہ ہے جسے ہم اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔ اگر وزیر داخلہ سرگرم ہوتے اور اپنے کام میں صحیح دلچسپی لے رہے ہوتے تو شاید یہ موقع نہ آتا۔ اسی طرح اسلام آباد ائر پورٹ پر پولیس کی بھاری نفری عوام کے ایک ہی ہلے میں بھاگ گئی اور دبڑ دبڑ کی آوازیں ٹی وی پر بھی سنائی دیتی رہیں یہ پولیس کی تاریخ میں اس فورس پر ایک داغ رہے گا۔
اسی طرح اسلام آباد میں ایک تنہا شخص کا اس شہر پر کئی گھنٹے تک قبضہ بھی یاد رہے گا اس وقت تو وزیرداخلہ بھی اسلام آباد میں موجود تھے۔ پوری اسلام آباد کی پولیس اس ایک مسلح شخص کو قابو نہ کر سکی اور اس کے آس پاس منڈلاتی رہی بالآخر ایک غیر مسلح شہری نے اسے قابو کر لیا اور پولیس کو شرمندہ کر دیا اور شاید شرمندہ کر دیا کیونکہ اس بارے میں بھی یقین کے ساتھ کیا کہا جا سکتا ہے۔ اگر کسی وزیر داخلہ میں دلچسپی نہ ہو اور وہ اپنے اہم ترین فرض سے بھاگتے ہوں تو پھر ان کو الگ ہی ہو جانا چاہیے بلکہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اس رکن سے جان چھڑا لینی چاہیے یا یوں کہیں کہ کابینہ کے اس وزیر کو وزیراعظم سے جان چھڑا لینی چاہیے اور اپنی عزت بچا لینی چاہیے۔