اسلام آباد ایئرپورٹ سے غیر ملکی کرنسی برآمد کرنے کی اجازت

ڈالرشامل نہیں، ایئر پورٹ پر کاؤنٹر قائم، ریجن کی ایکسچینج کمپنیوں کی لاگت کم ہوگی


Business Reporter July 04, 2014
پشاور ایئر پورٹ پر بھی کاؤنٹر بنایا جائے، رمضان میں ترسیلات زر بڑھنے سے ڈالر سستا ہوگا، بوستان فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے براہ راست غیرملکی کرنسی برآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے تاہم ان کرنسیوں میں امریکی ڈالر شامل نہیں۔

ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے مرکزی بینک کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور اور راولپنڈی ریجنز کی اے کٹیگری ایکس چینج کمپنیوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کیونکہ مذکورہ دونوں ریجن کی ایکسچینج کمپنیاں اس اقدام سے قبل تک صرف کراچی ایئرپورٹ سے ہی فارن کرنسی ایکسپورٹ کررہی تھیں جس کی وجہ سے ان کی برآمدی لاگت بڑھ گئی تھی تاہم مرکزی بینک کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ سے فارن کرنسی ایکسپورٹ کرنے کے لیے کاؤنٹر قائم کیے جانے سے وہاں کے ریجن سے تعلق رکھنے والی ایکس چینج کمپنیوں کی برآمدی لاگت میں 8 تا 10 فیصد کمی واقع ہوجائے گی۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ پشاور ایئرپورٹ میں غیرملکی کرنسی کی ایکسپورٹ کے لیے کاؤنٹر قائم کیا جائے تو پشاور کی ایکس چینج کمپنیوں کی مشکلات میں بھی کمی ہو۔ ملک بوستان نے بتایا کہ برآمدی اخراجات کم ہونے سے امریکی ڈالر کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کا حجم بڑھنے اور عطیات کے زیادہ سے زیادہ ترسیل کے باعث امریکی ڈالر کی قدر دوبارہ تنزلی کا شکار رہے گی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے ابتدائی چند ایام میں ہی روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر مجموعی طور پر 40 پیسے گھٹ کر 99.50 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماہ صیام کے دوران ڈالر کی سپلائی میں خطیر اضافہ ہوجائے گا جس کے سبب جولائی کے اختتام تک امریکی ڈالر کی قدر گھٹ کر98 روپے کی سطح پر آجائے گی، ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو چاہیے کہ وہ فی الوقت امریکی ڈالر کی خریداری سے گریز کریں تاکہ وہ ممکنہ بھاری نقصانات سے بچ سکیں۔