کہاں گیا انصاف
ہمارے سابقہ قاضی القضاۃ جناب افتخار چوہدری صاحب کا صاحبزادہ غالباً اکلوتا بصد سامان رسوائی
ہمارے سابقہ قاضی القضاۃ جناب افتخار چوہدری صاحب کا صاحبزادہ غالباً اکلوتا بصد سامان رسوائی ایک بڑی سنہری نوکری سے مستعفی ہو گیا، کوئی دوچار دن بعد ہی اس نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا جس کی مشہوری کہاں کہاں نہیں ہوئی۔ صاحبزادے کو ایک ایسی نوکری یا اختیار دے دیا گیا جس میں لامحدود سونے کا انبار رکھا تھا۔ یہ خبر کیا چھپی جناب چیف صاحب اور صاحبزادے ہر زبان پر چڑھ گئے۔ پاکستان میں اگر اتنا سونا کہیں موجود ہے یعنی زمین کے ذخیروں میں کوئی ذخیرہ سونے کا بھی ہے تو پھر اس پر کسی ریٹائر پاکستانی کا کیا حق ہو سکتا ہے، کیا زندہ سیاستدان مر گئے ہیں۔
سب خوب زندہ ہیں اور دن رات اپنی زندگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ ہزارہا پاکستانیوں کا جلسہ جلوس آخر لیڈر کی زندگی کا اعلان کرنے کے لیے ہی تو ہوتا ہے چنانچہ ان زندہ و پائندہ لیڈروں کے باوجود آخر یہ کیسے ہو گیا کہ ایک بے اختیار ریٹائر جج اتنا بڑا مفید عہدہ لے جائے اور اسے ہضم بھی کر جائے۔ ڈر رہا ہوں اگر کسی ریٹائر جج کو بھی اپنی ذات کے لیے توہین عدالت کا اختیار حاصل ہے تو پھر میں تو گیا لیکن ایک ریٹائرڈ جج سے خوفزدہ ہونے کا اعتراف کر کے میں اپنی برادری میں بدنام نہیں ہونا چاہتا۔
پنجابی کی ایک مثل ہے کہ عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس خانوادے کی عزت بھی اس کے اپنے ہاتھ میں تھی جو اس نے ایک خواب کے پیچھے لٹا دی۔ کون ایسا سادہ لوح پاکستانی ہو سکتا ہے جو یہ سمجھ لے کہ وہ اس دولت کو سنبھال لے گا اور وہ بھی بلوچستان کے صوبے میں جہاں سردار صاحبان زندہ سلامت پھرتے ہیں۔ یہ ایک غیر سردار وزیر اعلیٰ تھا جس نے ارسلان چوہدری کو اتنی بڑی نوکری بھی دی اور پھر اپنے فیصلے کو مستقل بھی سمجھ لیا۔ یہ سادگی ہے جس پر لوگ مر جایا کرتے ہیں۔
میں جناب جسٹس افتخار صاحب کا ذکر کر رہا تھا تو مجھے اپنے ایک جج یاد آ گئے۔ یہ تھے حضرت ابو حنیفہؒ خلیفہ وقت نے بلا کر کہا کہ شیخ آپ اسلامی سلطنت کی عدالت سنبھال لیں اور قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر لیں لیکن انھوں نے معذرت کر دی۔ یہ ایک طویل قصہ ہے کہ انھوں نے معذرت تو کر دی اور خلیفہ کی ہر دلیل مسترد بھی کر دی، اپنے انکار پر اڑے رہے بالآخر اقتدار کے پاس ایک ہی طریقہ تھا اپنا غصہ نکالنے کا۔
خلیفہ نے امام ابو حنیفہ کو جیل میں ڈال دیا اور یہ شخص جیل میں فوت ہو گیا۔ اتنا بڑا قیدی تاریخ نے کم ہی دیکھا ہو گا لیکن ہمارے قاضی موصوف پہلے تو بیٹے کی نوکری پر قربان ہو گئے پھر اس نوکری کو قائم نہ رکھ سکے تو اپنی عزت سمیت مستعفی ہو گئے۔ یہ سب ان کی مرضی تھی کسی کا جبر نہیں تھا۔ اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ سب کیا تھا لیکن ایسا تھا کہ پوری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ کیا تھا۔ جج صاحب نے اتنے بڑے منصب سے اتر کر حد ہی کر دی اور اس منصب کی لاج خوب رکھی۔
ارشاد ہے کہ جو مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا وہ کند چھری سے ذبح کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے مسلمانوں کے یہ حکمران صرف تاریخ کے صفحات میں ہی ہوا کرتے تھے، اب تو جو مسلمانوں کا حاکم بنتا ہے وہ کسی میٹھی چھری سے ذبح کیا جاتا ہے اور اپنی نسلوں کو بھی رنگ لگا جاتا ہے۔ حوالے کے لیے ملاحظہ ہو پاکستان کا سابق قاضی اعظم۔ مسلمان قاضی تو اس قدر بدلحاظ نہ سہی بے لحاظ ضرور ہے کہ وقت کا حکمران عدالت میں حاضر ہوا تو اس کو ایک سائل کا مرتبہ دیا گیا اور اگر ملزم ہوا تو اسے صفائی کا موقعہ دیا گیا۔
یہ انصاف ہی تو تھا جو دنیا کی تاریخ کو ایک نئی تاریخ بنا گیا ایک ایسی تاریخ کہ عدل اور انصاف میں پھر اپنا ثانی پیدا نہ کر سکی۔ بہر حال ہم مسلمان اپنے ماضی کے ذکر پر بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ ہمارا ماضی اتنا شاندار ہے کہ ہم اس کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکتے ہیں لیکن آج کے حالات پر بھی نگاہ ڈالنی بہت ضروری ہے جس میں ہمارا ایک قاضی القضاۃ اپنے فرزند کے لیے اپنی عزت کا سودا بھی کر لیتا ہے اور دندناتا پھرتا ہے۔
ہمیں عدل و انصاف کا ذکر کرتے ہوئے شرمانا چاہیے۔ ہمارے ہاں ہر روز ہی کوئی نہ کوئی پاکستانی مسلمان بچی اپنی عصمت سے محروم کر دی جاتی ہے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی سنتا نہیں اور وہ کسی بڑے ہی عبرت ناک انداز سے خود کشی کر لیتی ہے کہ اس کے بعد ایک پاکستانی بچی کی کیا زندگی رہ جاتی ہے۔ ہر ایسی واردات کے بعد اخبار میں خبر چھپتی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ میں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ اس کا نوٹس لینے کا مطلب کیا ہے۔ ہنس کر بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے علم میں یہ واقعہ لایا گیا ہے۔ میں اس دن اس لمحے اور اس ساعت کے انتظار میں ہوں جب وزیر اعلیٰ ایسی کسی خبر کا نوٹس لے کر دفتر سے اٹھیں گے اور اس پاکستانی بچی کے 'قاتلوں' کو فوراً ہی اپنی گولی کا نشانہ بنا دیں گے۔
اگر وہ اپنی آمد و رفت کے راستے کو کھلا اور صاف نہ ہونے پر متعلقہ پولیس والوں کو سزا دے سکتے ہیں یعنی موقع پر ہی تو پھر ان لوگوں کا جرم تو اس سے کہیں زیادہ ہے جنھوں نے کسی کی عزت لوٹ لی۔ یہ عزت لوٹنا تو ایک مذاق بن گیا ہے۔ لگتا ہے کسی کی ماں بیٹی نہیں ہے اور کسی با اختیار میں حمیت کی رتی باقی نہیں رہی۔ کیا ہمارا گھر کوئی لاوارث ہے۔ ایک بار ایم کیو ایم کے کسی رکن نے پنجاب سے زیادہ ناراض ہو کر کہا تھا کہ اس صوبے میں تو گھر گھر مجرا ہوتا ہے، اگر آج وہ اسی بات کو دہرائیں تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اب تو اوپر سے نیچے تک ہماری اپنی حکومت ہے اور کوئی ہمارا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ ہم کم از کم یہ علانیہ عصمت دری کو تو روکیں یا اس پر کچھ تو پابندی لگا دیں۔