جرمنی کے میگزین نے بھی گستاخانہ خاکوں اورفلم کی حمایت کردی

میگزین ٹائی ٹینک نے تازہ شمارے کے فرنٹ پیچ پراسلام مخالف تصویرشائع کرنے کافیصلہ کرلیا


News Agencies September 22, 2012
میگزین ٹائی ٹینک نے تازہ شمارے کے فرنٹ پیچ پراسلام مخالف تصویرشائع کرنے کافیصلہ کرلیا, فوٹو: فائل

جرمنی کا ایک طنزیہ میگزین امریکا میں بنائی جانے والی اسلام مخالف فلم اورفرانسیسی ہفت روزہ کی طرف سے پیغمبراسلام حضرت محمدﷺکے گستاخانہ خاکوں کارٹون کے تنازع میں شامل ہو گیا۔

ٹائی ٹینک نے اپنے اکتوبرکے شمارے کے صفحہ اول پرجرمنی کے سابق صدرکرسچین وولف کی اہلیہ بیٹناوولف کی ایک تصویرشائع کی ہے جس میں اسے ایک مسلمان جنگجوجس نے پگڑی پہنی ہوئی اورخنجرلہرایاہوا ہے,اسے گلے ملتے دکھایا گیا ہے اس تصویرپرتحریرعنوان میں لکھا ہوا ہے کہ مغرب بیدارہورہا ہے۔ٹائی ٹینک نے فرانسیسی طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈوکی حمایت کی ہے لیکن اس نے ان خاکوں کوشائع نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے جس نے دنیائے اسلام میں طوفان برپاکردیاہے،فرانس کی مسلمان آبادی جوکہ مغربی یورپ میں سب سے زیادہ ہے کے رہنمائوں نے کہاکہ جمعہ کوملک بھرکی مساجدمیں امن وسکون کی اپیل کی جائیگی۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اس قسم کی اطلاعات نہیں ہیں کہ آیا لیبیا مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالا امریکی سفارتکار کرسٹوفراسٹیونز القاعدہ کا ہدف تھا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے سی این این ٹی وی کی رپورٹ کومستردکرتے ہوئے کہاہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود نہیں ہیں۔دریں اثناایک غیرملکی ٹی وی رپورٹ میںکہاگیاکہ حملے میں گوانتاناموبے کاایک سابق قیدی ملوث ہوسکتاہے۔

آن لائن کے مطابق امریکاکادوغلارویہ ایک بارپھربے نقاب ہوگیاکہ اس نے توہین آمیزاسلام مخالف فلم واپس لینے یااسے بندکرنے کیلیے کوئی قدم نہیں اٹھایاجبکہ امریکانے الجزائرکے ایک اخبارسے گزشتہ روزمضمون اور تصویرکوواپس لینے کوکہاہے جس میں لیبیامیں مقتول امریکی سفیرکے قتل کاتعلق امریکامیں قائم اس امریکی فلم سازسے ظاہرکیا گیا ہے،جس کی فلم کی وجہ سے دنیابھرمیں شدیداحتجاج پھوٹ پڑے،الجزائر میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ امریکی سفیر کرس اسٹیونز جو لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پرایک مشتعل ہجوم کے حملے میں3 دوسرے امریکیوں کے ساتھ ہلاک ہوگیا کا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں۔سفارت خانے نے عربی زبان کے جریدہ انہار میں شائع شدہ اس تصویرکوجس میں اسٹیونز کو فلم کے پروڈیوسر سام بیسل اور اسرائیل نواز فرانسیسی فلاسفر برنارڈ ہینڈری لیوی کے ساتھ دکھایا گیا ہے من گھڑت اوراس سے ملحقہ مضمون کو فرضی قراردیاہے۔سفارت خانے کے بیان میں کہاگیاہے کہ امریکی سفیراسٹیونز کا قابل الزام اورگستاخانہ فلم اور کارٹون یاان کے پیچھے کارفرما لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔