’’پاور گیم‘‘ نے کھیلوں کو زوال کی کھائی میں دھکیل دیا

عالمی فتوحات کیلئے ملک میں اسپورٹس کلچر کو فروغ دینا ہوگا


Saleem Khaliq July 06, 2014
عالمی فتوحات کیلئے ملک میں اسپورٹس کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ فوٹو : فائل

1994 میں دہشت گردی عروج پر نہیں پہنچی تھی اس لیے دنیا بھر میں پاکستان کو کھیلوں میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔

اس وقت ہم کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور اسنوکر میں ورلڈ چیمپئن تھے، ہر نوجوان کی خواہش تھی کہ وہ میانداد، عمران خان، محمد یوسف، جہانگیر خان، جان شیر خان یا شہباز احمد کی طرح اسپورٹس میں نام کمائے مگر پھر آہستہ آہستہ زوال آتا گیا اور اب پاکستان کا نام منفی چیزوں کی وجہ سے دنیا میں جانا جاتا ہے، کھیلوں میں ہم بہت پیچھے چلے گئے، اب یہ حال ہے کہ کرکٹ ٹیم رواں برس ورلڈ ٹوئنٹی20 میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئی، ہاکی سائیڈ توورلڈکپ کے لیے کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔

اسنوکر میں بھی محمد آصف اپنی سابقہ کارکردگی کو دہرانے میں ناکام رہے جبکہ اسکواش میں کارنامے صرف ایشیا تک محدود ہو گئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں، ان میں سے سب سے بڑی وجہ عہدوں کے لیے رسہ کشی ہے، اگر دنیا میں کہیں پوزیشنز کے لیے ورلڈکپ ہو تو پاکستان اب بھی چیمپئن بن سکتا ہے، کبھی آپ نے یہ نہیں سنا ہو گا کہ آسٹریلین اولمپک ایسوسی ایشن پیٹر گروپ اور مارک گروپ یا انگلش اولمپک ایسوسی ایشن ٹام گروپ اور رچرڈ گروپ، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا ہی ہے۔

یہاں ایک بار جب کوئی کسی عہدے پر فائز ہو جائے تو واپس جانے کا نام ہی نہیں لیتا، ایسے میں باہمی اختلافات جب بڑھ جائیں تو''پاور گیم'' شروع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں آفیشلز اپنے اصل کام کو بھول کر صرف اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح اپنی کرسی بچائی جائے، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں بھی کئی برس سے 2 گروپس میں اقتدار کے لیے کشمکش جاری تھی، اس دوران ملکی کھیلوں کا حال مزید خراب ہو گیا، ہاکی ٹیم نے این او سی کی آڑ میں انٹرنیشنل ایونٹس سے پیچھا چھڑانا شروع کر دیا تاکہ شکست کی بدنامی سے بچا جا سکے۔

دیگر کھیلوں میں بھی یہ مسئلہ ہو گیا کہ فلاں اس گروپ کا ہے جب تک ہمیں نہیں مانتا ایونٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ملے گا، اسی چکر میں ٹورنامنٹ ہی نکل جاتا تھا، جب عالمی سطح پر معطلی کی تلوار لٹکنے لگی تو حکومت نے اب ڈھائی سال بعد یہ مسئلہ حل کرایا، ایسا پہلے بھی تو ہو سکتا تھا مگر کسی کے پاس وقت کہاں تھا، اب بھی ایسا لگتا ہے کہ دوسرا گروپ عدالت پہنچ جائے گا، یوں پھر سے مسائل شروع ہو سکتے ہیں۔

ہونا یہ چاہیے کہ سینئر حکومتی آفیشلز دونوں گروپس کو ساتھ بٹھائیں اور ملک و قوم کا واسطہ دے کر ہمیشہ کے لیے تنازع حل کرنے کی کوشش کریں، پھر بھی کوئی نہ مانے تو پھر کیا کر سکتے ہیں، جس طرح بڑوں کو لڑتے دیکھ کر بچے بھی سیکھتے ہیں، اسی طرح پی او اے میں اختلافات کا اسپورٹس فیڈریشنز نے بھی اثر لیا اور گروپ بندی عروج پر ہے، ایسی صورت میں کوئی کیسے عالمی مقابلوں میں میڈلز جیتنے کی توقع کر سکتا ہے، پھر تو ہمارے لیے شدید گرمی میں اپنے ایتھلیٹس کو بھگا کر100 روپے والے ''گولڈ میڈل'' دینا ہی ٹھیک رہے گا۔

ویسے بھی ہاکی ٹیم کے زوال کے بعد اولمپکس میں ہماری کارکردگی کون سی خاص ہے،وکٹری اسٹینڈ تو بہت دور کی بات ہے کوالیفائی کرنا ہی ناممکن بن چکا، اولمپئن کا اعزاز پانے کے لیے سفارش و اقربا پروری کی بنیاد پر منتخب قومی کھلاڑی خالی ہاتھ ہی واپس آ جاتے ہیں، اگر 100 لوگ سوئمنگ مقابلے یا ریس میں شریک ہوں تو ہمارے پلیئر کا نمبر سوواں ہی ہوتا ہے، اس پر یہ کہا جاتا ہے کہ تجربہ حاصل کر لیا، ملکی ریکارڈ بہتر بنا لیا، حالانکہ آخری پوزیشن کا ''کارنامہ'' تو ایک عام پاکستانی بھی انجام دے سکتا ہے، اسے کیوں نہیں اولمپکس میں بھیجا جاتا۔

اسی طرح ہاکی میں بھی سابق اولمپئنز کو فیڈریشن میں اس وقت تک خرابیاں دکھائی دیتی ہیں جب تک انھیں عہدے نہیں ملیں، بعض کو اکیڈمی کے لیے بڑی رقم ملی تو سب اچھا ہو گیا،حالانکہ 1971 میں ورلڈکپ پاکستان کی تجویز پر شروع ہوا، 4 بار چیمپئن بننے کا ریکارڈ اب بھی برقرار ہے مگر اس سال ٹیم کوالیفائی بھی نہیں کر سکی، اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہو گی، اب تو یہ وقت آ گیا کہ پی ایچ ایف کی خود کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم ایونٹس میں شرکت کی جائے تاکہ بے عزتی سے بچا جائے، جتنی گرانٹ ہاکی کو ملی اس سے کچھ تو بہتری آنی چاہیے تھی مگر ٹیم وہیں کی وہیں کھڑی ہے، جانے آگے بھی کیا ہوگا۔

اسنوکر میں محمد آصف چیمپئن بننے کے بعد انعامی رقم کے چکر میں ایسے پڑے کہ پرفارمنس پر بھی دھیان نہ دے سکے، اب بھی میڈیا سے بات چیت میں وہ حکومت سے انعام ہی مانگ رہے ہوتے ہیں حالانکہ اس کے بعد اعزاز گنوا بھی چکے ہیں، یقینا یہ رقم ان کا حق ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ پرفارمنس بھی برقرار رکھتے تاکہ سب کہتے کہ ملک کے لیے کارنامے انجام دینے والے ایسے باصلاحیت کیوئسٹ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

اسی طرح کرکٹ میں بھی کروڑوں روپے سالانہ کمانے والے پلیئرز چند لاکھ کی ٹیکس کٹوتی اور بونس کم ہونے کا رونا رو رہے ہیں، پی سی بی میں بھی ٹاپ پوزیشن پر میوزیکل چیئر گیم جاری ہے، اس دوران ٹیم کی پرفارمنس سب کے سامنے ہے، ورلڈ ٹوئنٹی20 کے ہم ماضی میں چیمپئن رہ چکے اور اس سال پہلے راؤنڈ کے بعد ہی واپس آنا پڑا،اب اگلے سال ورلڈ کپ آ رہا ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے، اسکواش میں ایشیائی سطح پر دوبارہ سے اعزاز ملنا خوش آئند لیکن اب ہمیں جہانگیر خان اور جان شیرخان جیسا کوئی پلیئر نظر نہیں آتا جو ورلڈ لیول پر اعزاز دلا سکے۔



ان دنوں فٹبال ورلڈ کپ جاری ہے، دنیا بھر میں اربوں لوگ میچز کو ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں، لاکھوں افراد برازیل پہنچے ہوئے ہیں، مگر کسی کو پتا ہے کہ اس کھیل میں ہم کہاں ہیں، فیفا کی جانب سے اربوں روپے کی گرانٹ جا کہاں رہی ہے؟ ہمیں شاذو نادر ہی ہونے والے دوستانہ میچز میں معمولی ٹیمیں بھی ہرا دیتی ہیں،غالباً 209 ارکان میں ہمارا نمبر 164 ہے، پی ایف ایف صدر فیصل صالح حیات فیفا کی کمیٹی میں شمولیت پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے میں آئی سی سی ایوارڈز کی جیوری کا ممبر بن کر ہوا تھا۔

حالانکہ وہ ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں، انھیں ان مونگ پھلی کے دانوں پر فخر سے سینہ پھلانے کے بجائے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے کوشش کرنی چاہیے، پی ایف ایف کے پاس کروڑوں روپے آ گئے مگر فٹبالرز بیچارے ویسے ہی سہولتوں سے محروم ہیں، بعض کے پاس تو اچھے جوتے تک نہیں ہوتے، اسٹریٹ چلڈرن کی ٹیم جب ورلڈکپ کھیلنے گئی تو یہ تک کہا گیا کہ اس کا پی ایف ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے، جب اس نے اچھی کارکردگی دکھا کر دنیا میں نام کما لیا تو کریڈٹ لینے سب سامنے آ گئے۔

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ فٹبال یا ہاکی ٹیم کے کپتان کا نام بتائیں تو کیا بتا پائیں گے،نہیں ناں۔ ملک میں گراؤنڈز کی شدید قلت ہوچکی، جو ہیں وہاں نجی اکیڈمیز بن گئیں، اب نوجوان کریں تو کیا کریں، وہ یا تو سڑک کے کونے پر بیٹھ کر سگریٹ پھونکیں گے یا کمپیوٹر پر کسی گوری لڑکی سے دوستی کر کے باہر جانے کا خواب دیکھیں گے، کھیلوں کے میدان ویران کر کے ہم کیسے ملک کو دہشت گردی اور لاقانونیت سے پاک کر سکتے ہیں۔

میں نے اپنے بچپن میں کرکٹ، ہاکی،بیڈمنٹن، فٹبال سب کھیل کھیلے لیکن کیا آج کسی بچے کو ایسی سہولتیں میسر ہیں، خود ہمارے گھر کے سامنے والا گراؤنڈ اب پارک بن چکا اور تھوڑے فاصلے پر قائم ایک میدان پر سابق ہاکی اسٹار نے ''کھیل کی خدمت'' کے لیے اکیڈمی کھول لی،ایسے میں آج کا نوجوان گھر پر کمپیوٹر پر ہی کرکٹ، ہاکی اور فٹبال کھیل کر دل بہلا لیتا ہے،حکومت کو نوجوانوں کو مثبت کاموں کی جانب لانا ہو گا، جب دماغ کھیلوں کی جانب مشغول رہے گا تو فارغ وقت میں منفی خیالات نہیں آئیں گے، کسی بھی کھیل کے آفیشل سے بات کر لیں وہ یہی دعویٰ کرتا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ارے بھائی کہاں ہے ٹیلنٹ سامنے تو لاؤ، صرف میڈیا میں دعوؤں تک کیوں محدود رکھا ہے،درحقیقت ہمارے ملک میں اب نئے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آ ہی نہیں رہے۔

کرکٹ کی مثال سامنے ہے، ایک معیاری وکٹ کیپر تو کئی سال سے مل نہیں سکا، کئی برسوں سے پٹے ہوئے مہرے اب بھی ڈھیٹ بن کر ٹیم سے چپکے ہوئے ہیں، ہاکی کا تو ذکر کرتے ہی شرم آتی ہے،کیوں اب حسن سردار، شہباز احمد اور منصور جیسے پلیئرز نہیں مل رہے، کوئی جاننے کی کوشش بھی نہیں کر رہا، بس کوشش یہی ہے کہ کسی طرح حکومت سے بڑی سی رقم کا چیک مل جائے، اس کا کیا ہو گا یہ تو آفیشلز ہی جانیں، ماضی میں قومی کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لیے کھیلتے تھے اس وجہ سے ٹیم کارنامے بھی انجام دیتی، اب پیسہ کمانا سب کا مقصد ہے،اسی لیے پرفارمنس میں پیچھے چلے گئے، جب تک ماضی جیسا جذبہ نہیں آتا دوبارہ کامیابیاں ملنا ممکن نہیں، جب ٹائٹلز ملیں تو پیسہ خود بخود آتا ہے۔

کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ورنہ ہاکی فیڈریشن کی طرح حکومت سے لاتعداد اپیلیں بھی کسی کام نہیں آتیں،البتہ کسی آفیشل کی ارباب اختیار سے سیاسی وابستگی ہو تو چیک فوراً مل جاتا ہے۔ اگر جلد ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو کھیلوں میں جو ہماری رہی سہی ساکھ ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی، وزیراعظم نواز شریف اسپورٹ لوور شخصیت کے مالک ہیں، انھیں فوری طور پر ملک میں کھیلوں کے زوال کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے جو بہتری کے لیے تجاویز بھی دے،اگر اسپورٹس میں ہم آگے آئے تو ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر جرائم کے واقعات میں بھی کمی آئے گی۔

ان دنوں فٹبال کا میگا ایونٹ دیکھ کر پتا چل رہا ہے کہ یہ ہوتا ہے ورلڈکپ، ہر طرف اسی کھیل کا ڈنکا بج رہا ہے، ہر میچ کو دیکھنے 60،70 ہزار افراد اسٹیڈیم آتے ہیں،دوسری جانب آئی سی سی کرکٹ کو چند ممالک سے آگے نہیں بڑھا سکی، اربوں روپے بانٹ کر بھی نئی ٹیموں کو سامنے نہیں لایا جا سکا، نام نہاد ارکان بنگلہ دیش اور زمبابوے کو الگ کردیں تو 8 ٹیسٹ ٹیمیں بچتی ہیں، نان پلیئنگ ممالک میں کھیل کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ روسی ٹینس اسٹار ماریا شراپووا بھارتی اسٹار سچن ٹنڈولکر تک سے ناواقف ہیں۔

گذشتہ دنوں جب وہ ومبلڈن کا میچ دیکھنے گئے تو میڈیا نے ان کے بارے میں ماریا سے پوچھ لیا تو انھوں نے لاعلمی ظاہر کی جس سے بھارت میں طوفان کھڑا ہو گیا،آئی سی سی کرکٹ کو بھی گلوبل گیم بنائے، صرف جنوبی ایشیائی یا چند دیگر ممالک تک محدود رکھنے سے خاص فائدہ نہیں ہوگا، دنیا کا بچہ بچہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو سے واقف ہو گا لیکن عظیم کرکٹر ٹنڈولکر کو اتنی بڑی اسپورٹس ویمن ماریا شراپووا تک نہیں جانتیں یہ کرکٹ سے محبت کرنے والے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔