فٹبال ورلڈ کپ کا سحر طاری

سنسنی خیز مقابلے، اپ سیٹ شکستیں، حیران کن فتوحات جاری


Abbas Raza July 06, 2014
سنسنی خیز مقابلے، اپ سیٹ شکستیں، حیران کن فتوحات جاری۔ فوٹو : فائل

مخالفین کے احتجاجی مظاہروں، سیکیورٹی خدشات اور غیر یقینی صورتحال میں شروع ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد نے ناقدین کو خاموش کردیا ہے۔

ٹکٹوں کی فروخت کے سکینڈل سمیت اکا دکا ناخوشگوار واقعات کے باوجود جاندار مقابلے دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں، موجودہ میگا ایونٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ گزشتہ ایڈیشن میں کمزور حریف سمجھی جانے والی بیشتر ٹیمیں بھی اس بار بھرپو تیاری اور پلاننگ کیساتھ میدان میں اتریں اور اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنے پرستاروں کی تعداد میں اضافہ کیا۔

ماضی میں اکثر ابتدائی شکستوں کے بعد باہر ہونے والے کوسٹاریکا، چلی، کولمبیا، امریکااور الجزائر نے حیران کن پرفارمنس سے حریفوں کے اعصاب کا امتحان لیتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی، دوسری طرف دفاعی چیمپئن سپین،اٹلی، انگلینڈ اور پرتگال سمیت ٹائٹل کے کئی مضبوط امیداور پہلے ہی راؤنڈ کے مہمان ثابت ہوئے۔

گروپ اے میں برازیل اورمیکسیکو نے7، 7 پوائنٹس کے ساتھ پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی، واحد فتح کیساتھ کروشین ٹیم اور یکسر ناکام کیمرون کا سفر جاری نہ رہ سکا۔گروپ بی میں ہالینڈ کی ٹیم ناقابل شکست رہی،ڈچ سائیڈ کے ہاتھوں بھاری مارجن سے مات کھانے والے سپین کو چلی نے بھی زیر کرکے ایونٹ سے باہر کیا، ہسپانوی سائیڈ کی اکلوتی فتح آسٹریلیا کیخلاف تھی جس کو تمام میچز میں ناکامی ہوئی۔ گروپ سی میں کولمبیا نے 3 فتوحات کے ساتھ ٹاپ پر جگہ بنائی، یونان کو ایک کامیابی اور ایک ڈرا نے پیش قدمی جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا۔

واحد فتح حاصل کرنے والی آئیوری کوسٹ اور مسلسل ناکام جاپان کو گھر واپسی کا راستہ دیکھنا پڑا۔ گروپ ڈی میں کوسٹاریکا نے حریفوں کا امتحان لیتے ہوئے 7 پوائنٹس جوڑے، یورو گوئے نے 2 میچ جیت کر سفر جاری رکھا، ورلڈ کپ 2006 جیتنے والے اٹلی کی اکلوتی فتح مسلسل ناکام ٹیم انگلینڈ کے خلاف رہی۔گروپ ڈی میں فرانس نے باآسانی اگلے مرحلے میں جگہ بنائی جبکہ سوئٹزر لینڈ نے سخت محنت سے 6 پوائنٹس کے ساتھ پیش قدمی جاری رکھی، واحد فتح اور ایک ڈرا مقابلہ ایکواڈور کے لیے ہر لحاظ سے ناکافی ثابت ہوا، ہونڈریس کو تینوں میچز میں ناکامی کا سامناکرنا پڑا۔گروپ ایف میں تمام میچز جیت کر ارجنٹائن کی ٹیم سر فہرست رہی،دیگر کمزور ٹیموں نے نائیجریا کو 4 پوائنٹس کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کردیا۔

بوسنیا کی اکلوتی فتح ایران کیخلاف رہی۔ گروپ جی میں 2 فتوحات اور ایک ڈرا نے جرمنی کو ٹاپ پوزیشن دلائی، پرتگال کے ساتھ 4،4 یکساں پوائنٹس کے باوجود امریکا کو بہتر گول اوسط پر آگے آنے کا موقع ملا، گھانا کا صرف ایک پوائنٹ جرمن ٹیم کے خلاف ڈرا میچ کی بدولت تھا۔ گروپ ایچ میں بیلجیئم کی ٹیم ناقابل شکست رہی،الجزائر کو روس سے ڈرا مقابلے نے 4 پوائنٹس کے ساتھ پیش قدمی کا موقع فراہم کیا،کورین ٹیم کسی مقابلے میں سرخرو نہ ہوسکی۔



تمام ایشیائی ملکوں کا بغیر فتح کا مزہ چکھے سفر پہلے ہی راؤنڈ میں تمام ہونے کے بعد پری کوارٹر فائنل میں افریقی ٹیموں کے خواب بھی چکنا چور ہوگئے جس کے بعد یورپی اور لاطینی امریکی ٹیموں کے مابین برتری کی جنگ عروج پر پہنچ چکی۔ چلی نے برازیل کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے نیمار اور ہلک کے وار کارگر نہ ہونے دیئے،مقابلہ 1-1 سے برابر ہونے کے بعد آخری لمحات میں فیصلہ کن برتری دلانے والی کوشش پر گیند کراس بار سے ٹکرا گئی، پنالٹیز میں بھی آخری کک اسی انداز میں ضائع ہوئی۔

قسمت کی مہربانی سے میزبان ٹیم کی کہانی ختم ہوتے ہوتے رہ گئی، بلند حوصلہ کولمبیا نے یوروگوئے کو 2-0 سے زیر کرکے اگلے مرحلے میں قدم رکھا،فرانس نے نائیجیریا کو 2-0 سے ہراکر خطرناک عزام ظاہر کئے، جرمنی کی الجزائر کے خلاف فتح کا سکور 2-1 رہا، فیورٹ ہالینڈ نے میسیکو کو 2-1 سے شکست دیدی،کوسٹاریکا نے یونان سے مقابلہ 1-1 سے برابر رہنے کے بعد پنالٹیز پر باآسانی 5-3 سے فتح کے ساتھ امیدوں کے دیئے روشن رکھے، ارجنٹائن نے سوئٹزر لینڈ کو 1-0 سے پچھاڑ دیا، اس بار بھرپور فارم میں نظر آنے والے بیلجیئم نے امریکہ کو 2-1 سے نیچا دکھا کر ٹائٹل کی طرف قدم بڑھائے۔ناک آؤٹ مرحلے میں کئی میچ سنسنی خیزی کی وجہ سے ناقابل فراموش قرار دیئے جاسکتے ہیں، ان میں فاتح ٹیمیں آخری لمحات یا انجری ٹائم میں فیصلہ کن برتری حاصل کرتی رہیں۔

ان سطور کے لکھے جانے تک چوتھے ورلڈ کپ کیلیے پر عزم جرمنی نے فرانس جیسی مضبوط دیوار گراکر مسلسل چوتھی بار سیمی فائنل میں جگہ بنالی تھی جبکہ 5 ٹائٹل جیتنے والی برازیلی ٹیم نے کولمبیا کو روند کر 12 سال بعد اس مرحلے میں جگہ بنائی، اگرچہ میزبان ٹیم کو کمر کی انجری کا شکار نیمار کی جدائی برداشت کرنا پڑے گی، تاہم گزشتہ میچ میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی اور فارورڈز کا تال میل اچھی خبر سنا رہا ہے۔