سچ کا بول بالا

دہشت گردی کے خلاف باضابطہ آپریشن سے پہلے ہمار ملک بظاہردو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا


Zaheer Akhter Bedari July 07, 2014
[email protected]

دہشت گردی کے خلاف باضابطہ آپریشن سے پہلے ہمار ملک بظاہردو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا ،ایک حصہ جس میں حکومت اور مذہبی جماعتیں شامل تھیں، دہشت گردی کے مسئلے کا واحد حل مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئے تھا دوسرا حصہ دہشت گردی کا واحد حل سخت آپریشن کا حامی تھا۔ اس حوالے سے مذاکرات کے حامی جن میں ٹی وی کے نام نہاد دانشور سرفہرست ہیں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے حامیوں پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے تھے کہ یہ ملک دشمن لوگ آپریشن کی حمایت کرکے پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یہ ناسمجھ ہیں شرپسند ہیں انھیں دہشت گردوں کی طاقت کا اندازہ نہیں یہ لوگ آپریشن کی حمایت کرکے ملک کو آگ اور خون کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کی طرف سے مذاکرات کی حمایت اور آپریشن کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ جماعتیں دہشت گردوں سے یہ امید لگائے بیٹھی تھیں کہ جو کام یہ جماعتیں جمہوری راستے پر چل کر 66 سالوں میں انجام نہیں دے سکیں، دہشت گرد چند ماہ میں قتل و غارت گری کے ذریعے انجام دے ڈالیں گے اور اگر ایسا ہوا تو دہشت گردوں کی مبینہ حکومت میں انھیں بھی کچھ حصہ مل جائے گا اس امید پر یہ محترم حضرات یک زبان ہوکر دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس حوالے سے سب سے بڑی بدقسمتی یا حماقت یہ ہے کہ میڈیا میں مذاکرات کے حامیوں کو ایسے مفکر ایسے دانشور کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا کہ ان کا فرمایا ہوا حرف آخر ہے اور میڈیا کے وہ لوگ جو دہشت گردوں کی فطرت ان کے قبائلی پس منظر ان کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے ایک سخت آپریشن کو ناگزیر سمجھ رہے تھے ان کی آواز میڈیا کے نقار خانے میں طوطی کی آواز بنی ہوئی تھی لیکن ان کی کامیابی ان کے تجزیوں کی سچائی کا ثبوت یہ تھا کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ان کے موقف کے حامی تھے۔ 18 کروڑ عوام نہ مفکر ہیں نہ دانشور لیکن ان میں اتنی عقل ضرور تھی کہ وہ دہشت گردوں کے مقاصد اور معصوم عوام کے قتل عام کے پس منظر میں بجاطور پر یہ سمجھ رہے تھے کہ اس مسئلے کا حل آپریشن کے علاوہ کچھ نہیں۔

حیرت یہ ہے کہ جو محترم حضرات اور ٹی وی دانشور مذاکرات کو واحد حل کہہ رہے تھے ان کے اس دعوے کے دوران ہی ہر روز جگہ جگہ بے گناہ عوام کا قتل عام جاری تھا اور دہشت گرد ببانگ دہل یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ نہ حکومت کو مانتے ہیں نہ حکومت کے کسی ادارے کو نہ جمہوریت کو نہ قانون کو نہ انصاف کو اس کھلی بغاوت کے باوجود مذاکرات کو واحد حل قرار دینے والے یا تو حد سے زیادہ سادہ لوح تھے یا پھر وہ فکری حوالے سے دہشت گردوں کے مقاصد سے اتفاق کرتے تھے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مسئلے پر بلائی جانے والی اے پی سی نے بھی مذاکرات کی حمایت کی تھی اور حکمران طبقہ اے پی سی کے اس فیصلے کو جواز بناکر اندھا دھند طریقے سے مذاکرات ہی واحد حل ہے اور یہ قوم کا اجتماعی فیصلہ ہے کی رٹ لگا رہا تھا۔ مذہبی جماعتوں کی طرف سے تو دہشت گردوں کی حمایت کے نظریاتی جواز موجود تھے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت اور اس کے نورتن جس طرح مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات کے مخالفین پر ملک دشمنی کے الزامات لگا رہے تھے یہ بھی سادگی تھی یا اس کے پیچھے سیاسی مفادات تھے؟

ہمارے میڈیا کی ایک بہت بڑی کمزوری ہے کہ وہ ان ''مفکروں اور دانشوروں '' کو آسمان پر چڑھا دیتا ہے جو فکری طور پر بانجھ اور عملی طور پر بالواسطہ طور پر ملک و قوم کے مستقبل سے کھیلتے رہتے ہیں اور ان مفکروں اور دانشوروں کے ساتھ اس کا سلوک بارہویں کھلاڑیوں کا سا ہوتا ہے ہوسکتا ہے یہ میڈیا کے مقابلاتی کلچر کی ضرورت ہو لیکن اس رجحان اس موقعہ پرستی سے عوام جس فکری مغالطوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ملک ایک نظریاتی خلفشار کا شکار ہوجاتا ہے اس کے مضمرات کا شاید میڈیا کے سرپرستوں کو اندازہ نہیں۔ منفی انداز فکر اور پسماندہ خیالات اور فکری طور پر دیوالیہ شخصیات کے ارشادات عالیہ کو فرشتوں کے طور پر پیش کرکے میڈیا جو خدمت انجام دے رہا ہے ،کاش میڈیا کے کرتا دھرتا اس کے نتائج اس کے خطرناک مضمرات کا اندازہ کرنے کے اہل ہوتے۔

ہماری محترم حکومت اور اس کے ''مدبر'' فوجی قیادت سے جن مسائل پر محاذ آرا تھے ان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ فوجی قیادت جو دہشت گردی کے مضمرات اور دہشت گردوں کے مقاصد کا ادراک رکھتی ہے مذاکرات کی مخالف اور ایک سخت مسلسل اور منظم آپریشن کو ناگزیر سمجھ رہی تھی اور ملک کے سربراہان اس حوالے سے ''میں نہ مانوں'' کی ضد پر اڑے ہوئے تھے ۔آج چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ضرب عضب ہی دہشت گردی کا واحد حل ہے اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشت گردوں کا مکمل صفایا نہیں ہوجاتا۔ کیا ہمارا حکمران طبقہ اپنی اس نظریاتی یوٹرن کے مضمرات کو سمجھتا ہے؟

سب سے پہلا سیاسی نقصان اس حوالے سے یہ ہوا کہ فوجی قیادت کا موقف درست اور حکومت کا موقف غلط ثابت ہوا۔ جن جزئیات کی وجہ سے فوجی قیادت فطری طور پر حکومت کے مقابلے میں باشعور ثابت ہوئی اور سیاسی مدبرین کے عقلی دیوالیہ پن کا بھانڈا پھوٹ گیا ۔اس حوالے سے جو سب سے زیادہ اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ فوجی قیادت عوام میں مقبول اور قابل بھروسہ قرار پائی اور حکومت ناقابل بھروسہ ثابت ہوئی اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ حکمران فوجی قیادت کو اپنے تابع کرنے کی جو مدبرانہ اور جائز کوشش کر رہے تھے اسے شدید نقصان پہنچا اور حکومت کی پالیسیوں پر سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوگیا۔

بلاشبہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان سرفہرست ہے لیکن دہشت گردی اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ساری دنیا اور جدید تہذیب کا مسئلہ بن گیا ہے۔ دہشت گردی خواہ شریعت کے نام پر کی جا رہی ہو یا فقہہ اور مسلک کے نام پر، دنیا کے لیے ناقابل قبول اور قابل مذمت اس لیے ہے کہ اس کی بنیاد بے گناہ انسانوں کے خون پر رکھی گئی ہے اور اس کی وحشت اور بے لگامی کا عالم یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی قوم، اپنے مذہب کے بے گناہ افراد کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں، عبادت گاہوں، صوفیائے کرام کے مقبروں اور بچوں کے اسکولوں کو بموں سے اڑا رہے ہیں، کیا ان قبیحہ حرکات کا مذہب سے کوئی تعلق ہے؟ کیا شریعت کے نفاذ کے دعوؤں کی یہ پول نہیں کھولتی؟

ہماری بعض سیاسی جماعتوں نے ڈرون حملوں کی مخالفت کے نام پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت کا جو مفاداتی رویہ اپنایا ہوا تھا اس کا پول اس طرح کھل گیا کہ آج وہ کھلے عام ''ضرب عضب'' کی حمایت پر مجبور ہیں یہ ایک ایسا اخلاقی اور نظریاتی دیوالیہ پن ہے جس کا مشاہدہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام بڑی مایوسی اور تشویش سے کر رہے ہیں۔ یہ نظریاتی حماقت ہو یا سیاسی مفادات کے حصول کی سازش اس کا نقصان بہرحال دہشت گردوں کے حامیوں کو ہوا اور وہ اس حوالے سے ملکی عوام کی اکثریت کی حمایت سے محروم ہوگئے۔ لیکن حیرت ہے کہ بعض محترمین اب بھی یہی فرما رہے ہیں کہ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر حکومت نے بڑی غلطی کی ہے۔

ڈرون حملوں کی مخالفت اس جواز کے ساتھ کی جا رہی تھی کہ ان حملوں سے کچھ بے گناہ سویلین بھی مارے جارہے تھے لیکن ہمارے عوام حیرت سے یہ دیکھ رہے تھے کہ ڈرون حملوں سے چند بے گناہ افراد کے جانی نقصان کے خلاف آسمان سر پر اٹھانے والوں کی زبان سے نہ دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے حوالے سے افسوس کے دو بول نکل رہے تھے نہ ان 50 ہزار بے گناہ افراد کے قتل عام پر مذمت کے دو لفظ ادا کرنا گوارا کیا جارہا تھا جنھیں دہشت گردوں نے انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا تھا۔

بلاشبہ یہ مسئلہ اب صرف پاکستان کا نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کا اور جدید تہذیب کا مسئلہ بن گیا ہے اور اس کو کوئی چند ایک ملک مل کر حل نہیں کرسکتے اسے حل کرنے کے لیے دنیا کے تمام امن پسند ملکوں کو مل کر منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے نمٹنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

مقبول خبریں